Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

بنو حنیفہ میں سے اسلام پر ثابت قدم رہنے والے

  علی محمد الصلابی

یمامہ میں مسیلمہ کذاب کے ارتداد کی خبروں نے اس قدر زور پکڑا کہ یمامہ اور خاص کر بنو حنیفہ کے ثابت قدم رہنے والے سچے مسلمانوں کی ثابت قدمی کی خبریں اسی میں گم ہو گئیں۔ اسی لیے اکثر جدید مؤلفین نے ان مسلمانوں کا ذکر تک نہ کیا جو مسیلمہ کے فتنہ میں مضبوطی کے ساتھ اسلام پر قائم رہے اور اس کے مقابلہ میں اٹھ کھڑے ہوئے اور اس فتنہ کو کچلنے کے لیے خلافت کی طرف سے آنے والی فوج کا ساتھ دیا۔ مجھے ایسی معتبر روایات ملی ہیں۔

(مجھے یہ روایات دکتور مہدی رزق اللہ کی کتاب الثابتون علی الاسلام میں ملیں)

 جو اس حقیقت پر روشنی ڈالتی ہیں جو اکثر لوگوں کے یہاں غائب ہیں۔

(الثابتون علی الاسلام: صفحہ 51)

ابن اعثم بیان کرتے ہیں کہ یمامہ میں ثابت قدم رہنے والے مسلمانوں میں حضرت ثمامہ بن اثال رضی اللہ عنہ سرفہرست ہیں جو بنو حنیفہ کے مشاہیر میں سے تھے چونکہ یہ بنو حنیفہ کے اکابرین میں سے تھے اسی لیے جب سیدنا خالدؓ کی چڑھائی کی خبر پہنچی تو لوگ آپؓ کے گرد جمع ہو گئے۔ آپؓ بڑے صاحب عقل و فہم اور صاحب رائے تھے اور ارتداد میں مسیلمہ کے شدید مخالف تھے۔ اس سلسلہ میں مسیلمہ کے متبعین سے جو باتیں کیں، ان میں سے یہ خطاب بھی ہے:

اے بنو حنیفہ! میری بات سنو، ہدایت یاب ہو گے۔ میری اطاعت کرو راہ راست ملے گی۔ جان لو محمدﷺ نبی مرسل تھے، آپﷺ کی نبوت شک و شبہ سے بالاتر ہے اور مسیلمہ کذاب اور جھوٹا ہے۔ اس کی باتوں اور کذب بیانی سے دھوکا مت کھاؤ۔ تم وہ قرآن سن چکے ہو جو محمدﷺ اپنے رب کی طرف سے لائے ہیں۔

ارشاد الہی ہے:

حٰمٓ‌ ۞ تَنۡزِيۡلُ الۡكِتٰبِ مِنَ اللّٰهِ الۡعَزِيۡزِ الۡعَلِيۡمِ ۞غَافِرِ الذَّنۡۢبِ وَقَابِلِ التَّوۡبِ شَدِيۡدِ الۡعِقَابِ ذِى الطَّوۡلِ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ اِلَيۡهِ الۡمَصِيۡرُ ۞ (سورۃ غافر آیت 1،2،3)

ترجمہ: حم۔ یہ کتاب اللہ کی طرف سے اتاری جا رہی ہے جو بڑا صاحب اقدار، بڑے علم کا مالک ہے۔ جو گناہ کو معاف کرنے والا، توبہ قبول کرنے والا، سخت سزا دینے والا، بڑی طاقت کا مالک ہے۔ اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اسی کی طرف سب کو لوٹ کر جانا ہے۔

کہاں یہ کلام الہٰی اور کہاں مسیلمہ کذاب کا کلام، ان دونوں میں کیا نسبت؟ تم اپنے بارے میں غور کرو اس سے غافل مت ہو۔ خبردار ہو جاؤ! میں آج رات اپنی جان و مال اور اہل و عیال کے لیے امان طلب کرنے حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے پاس جا رہا ہوں۔

بنو حنیفہ کے ہدایت یاب لوگوں نے اس پر یہ جواب دیا: اے ابو عامر! ہم بھی آپؓ کے ساتھ ہیں، آپؓ کو یہ معلوم ہونا چاہیے۔

پھر سیدنا ثمامہؓ رات کی تاریکی میں بنو حنیفہ کے کچھ لوگوں کے ساتھ نکلے اور حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ سے جا ملے اور ان سے امان طلب کی۔ سیدنا خالدؓ نے انہیں اور ان کے ساتھیوں کو امان دے دی۔

(الثابتون علی الاسلام: صفحہ 52)

کلاعی کی روایت میں آپ کا یہ قول بھی ہے: 

نہ محمدﷺ کے ساتھ اور نہ آپﷺ کے بعد کوئی نبی ہے۔

پھر مسیلمہ کے مزعومہ قرآن کا کچھ حصہ پیش کیا تا کہ اس کی رکاکت و کمزوری واضح کریں۔

(الکلاعی فی حروب الردۃ: صفحہ 817)

 اس سلسلہ میں حضرت ثمامہ رضی اللہ عنہ کی طرف کچھ اشعار منسوب ہیں۔ من جملہ ان اشعار کے یہ ابیات ہیں:

مُسَیْلَمَۃُ ارجِع، ولا تَمَحَّکِ

فَإِنَّکَ فی الأَمْرِ لَمْ تُشرک

ترجمہ: مسیلمہ! اپنی حرکت سے باز آ جا، جھگڑا مت کر، تو نبوت میں شریک نہیں ہے۔

کَذَبْتَ علی اللہ فی وَحْیِہ

فکان ہَوَاک ہوی الأنْوَکِ

ترجمہ: وحی میں تو نے اللہ پر جھوٹ باندھا ہے، لہٰذا تیری خواہش بے وقوفوں کی خواہش ہے۔

(الکلاعی فی حروب الردۃ: صفحہ 117)

ومنَّاکَ قومُک أنْ یَّمْنَعُوْک

وإن یَّأتِہِمْ خالدٌ تُترِکِ

ترجمہ: تیری قوم تجھے امید دلاتی ہے کہ وہ تیری حفاظت کرے لیکن جب سیدنا خالدؓ کا لشکر پہنچے گا تو سب چھوڑ بھاگیں گے۔

فَمَا لَکَ مِنْ مَّصْعَدٍ فی السماء

ولا لک فی الارض من مَسْلَکِ

ترجمہ: ایسی صورت میں تجھے نہ تو آسمان پر چڑھنے کے لیے کوئی سیڑھی ملے گی اور نہ زمین میں بھاگنے کی راہ پائے گا۔

(الثابتون علی الاسلام: صفحہ 53)

اور ایک روایت میں مسیلمہ سے جنگ اور عکرمہ بن حضرت ابوجہل رضی اللہ عنہ کے ساتھ اس سلسلہ میں تعاون سے متعلق سیدنا ثمامہؓ کے کردار کو بیان کیا گیا ہے۔

(البدایۃ والنہایۃ: جلد 6 صفحہ 361)

حضرت ثمامہ بن اثال رضی اللہ عنہ نے بحرین کی جنگ ارتداد میں سیدنا علاء بن حضرمیؓ کے ساتھ بھرپور تعاؤن کیا، آپؓ کے ساتھ بنو حنیفہ کی شاخ بنو سحیم اور بنو حنیفہ کی دیگر شاخوں کے مسلمان تھے۔ اس جنگ میں حضرت ثمامہ رضی اللہ عنہ نے خوب جوہر دکھائے۔

(الثابتون علی الاسلام: صفحہ 52)

یمامہ کے اسلام پر ثابت قدم رہنے والوں میں معمر بن کلاب رمانی تھے۔ انہوں نے مسیلمہ اور اس کے متبعین کو نصیحتیں کیں اور ارتداد سے انہیں منع کیا۔ یہ سیدنا ثمامہ رضی اللہ عنہ کے پڑوسی تھی اور یمامہ کی جنگ میں حضرت خالدؓ کے ساتھ شریک ہوئے اور یمامہ کی سربرآوردہ شخصیات میں سے جو اپنا اسلام چھپائے ہوئے تھے، ابن عمرو الیشکری تھے جو رجال بن عنفوہ کے دوستوں میں سے تھے۔ انہوں نے اشعار کہے جو یمامہ میں مشہور ہو کر لوگوں کی زبان زد ہو گئے۔ اس کے چند ابیات یہ ہیں:

ان دینی دین النبی وفی الْـ

قوم رجالٌ علی الہدی امثالی

ترجمہ: یقیناً میرا دین نبی کریمﷺ کا دین ہے اور قوم میں بہت سے لوگ میری طرح ہدایت پر ہیں۔

أہلکَ القومَ مُحکمُ بن طُفیلٍ

ورَجَّالٌ لَیسُوا لنا بِرِجَالِ

ترجمہ: قوم میں سب سے زیادہ ہلاک ہونے والے محکم بن طفیل اور رجال ہیں جو ہمارے لیے مرد نہ رہے۔

ان تکن مِیْتَتِی علی فطرۃ اللـہ

ہ حنیفا فاننی لا ابالی

ترجمہ: اگر میری موت اللہ کے دین حنیف پر ہو تو مجھے کوئی پرو ا نہیں۔

یہ اشعار مسیلمہ، محکم اور یمامہ کے اشراف کو پہنچے، انہوں نے ابن عمرو الیشکری کو گرفتار کرنا چاہا لیکن وہ اس سے قبل حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ سے جا ملے اور اہلِ یمامہ کے حالات سے ان کو مطلع کیا اور ان کے پوشیدہ امور کی ان کو خبر دی۔

(حروب الردۃ للکلاعی: صفحہ 104، 106)

یمامہ میں اسلام پر ثابت قدم رہنے والوں میں سے عامر بن مسلمہ اور ان کا خاندان تھا۔

(الثابتون علی الاسعدم: صفحہ 57)

سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بنو حنیفہ کے اسلام پر ثابت قدم رہنے والوں کو عزت دی، انہیں نوازا۔ چنانچہ مطرف بن نعمان بن مسلمہ کو یمامہ کا والی مقرر کیا، جو ثمامہ بن اثال اور عامر بن مسلمہ کے بھتیجے تھے۔

(الثابتون علی الاسلام: صفحہ 58)