Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

باب سوم :....تیسرا منہج : امامت حضرت علی رضی اللہ عنہ پر احادیث نبویہ سے استدلال

  امام ابنِ تیمیہؒ

باب سوم :....تیسرا منہج :
امامت حضرت علی رضی اللہ عنہ پر احادیث نبویہ سے استدلال

[سلسلہ اشکالات ]:شیعہ مصنف لکھتا ہے: ’’تیسرے باب میں ان احادیث نبویہ سے استدلال کیا جائے گاجو کہ مستند ہیں ؛اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی گئی ہیں ۔ان دلائل کی تعداد بارہ ہے:

۱۔پہلی حدیث: ان میں سے ایک وہ حدیث ہے جو سب لوگوں نے بیان کی ہے کہ جب یہ آیت کریمہ: ﴿وَاَنْذِرْ عَشِیْرَتَکَ الْاَقْرَبِیْنَ﴾ ’’ اور اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈرائیے ‘‘نازل ہوئی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام بنی عبد المطلب کو ابو طالب کے گھر میں جمع کیا۔[ ان میں دو عورتیں اور] چالیس مرد تھے۔ آپ نے ان کے لیے بھیڑ کی ایک ٹانگ ایک مٹھی بھر جو کے ساتھ پکانے اور ایک صاع دودھ تیار کرنے کا حکم دیا۔[ کھانا پکایاگیا]۔ان میں سے ایک آدمی ایک وقت میں ایک بکرا کھا سکتا تھا؛اور اسی مجلس میں ایک مشک پانی کی بھی پی سکتا تھا[یہ کھاؤ پیو آدمی تھے]۔ ان تمام لوگوں نے یہ تھوڑا سا کھانے کھایا اور اس سے سیر ہو گئے۔ اور انھیں پتہ نہ چل سکا کہ انھوں نے کیا کھایا ہے ؛ آپ کی اس اعجاز نمائی سے ان پر واضح ہو گیا کہ آپ سچے نبی ہیں ۔ آپ نے فرمایا: اے بنی عبد المطلب! یوں تو مجھے اللہتعالیٰ نے سب لوگوں کی طرف مبعوث کیا ہے، مگر خاص طور سے مجھے تمہاری طرف بھیجا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مجھے مامور فرمایا ہے: ﴿وَاَنْذِرْ عَشِیْرَتَکَ الْاَقْرَبِیْنَ﴾’’ اور اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈرائیے ۔ ‘‘

میں تمھیں دو ہلکے پھلکے کلمات کی طرف دعوت دیتا ہوں ۔ جن کا زبان پر جاری کرنا بڑا آسان ہے اور جو میزان اعمال میں بڑے بوجھل ہوں گے۔ تم ان دونوں کلمات کی برکت سے عرب و عجم کے مالک بن جاؤ گے اورجملہ اقوام عالم تمہارے زیر نگیں ہو جائیں گی۔ ان کلمات کی بنا پر تم جنت میں جاؤ گے اور جہنم سے رہائی پاؤ گے۔ وہ کلمات یہ ہیں :

(( اَشْہَدُ اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَ اَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہِ۔))

جو شخص میری اس دعوت کو قبول کرے گا اور میری مدد کرے گاوہ میرا بھائی میرا وصّی میرا وزیر اور میرے بعد میرا خلیفہ اور وارث ہو گا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد گرامی سن کرباقی لوگوں میں سے کسی ایک نے بھی کوئی جواب نہیں دیا۔ جب کہ امیر المؤمنین حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں اس کے لیے تیار ہوں ۔ میں اس مسئلہ میں آپ کی مدد کروں گا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا: ’’ بیٹھ جاؤ۔‘‘آپ نے اس قوم میں پھر یہی اعلان دھرایا ؛ مگر تمام لوگ خاموش رہے ۔حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : میں دوبارہ کھڑا ہوگیا؛ اور وہی پہلے والی بات دھرائی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : بیٹھ جائیے۔ آپ نے پھر تیسری بار لوگوں میں یہی اعلان کیا ۔ مگر لوگ خاموش رہے ۔ ان میں سے کسی ایک نے اپنی زبان سے ایک کلمہ تک نہ کہا۔ میں کھڑا ہوگیا اور عرض کی : اے اللہ کے رسول! میں اس مسئلہ میں آپ کی مدد کروں گا۔ آپ نے فرمایا :

بیٹھ جائیے ! تم ہی میرے بھائی اور میرے وزیر ہو؛ اور میرے وصی اور وارث ہو۔ لوگ کھڑے ہوگئے اور وہ ابو طالب سے کہہ رہے تھے : تمہیں مبارک ہو ‘ کہ آج تم اپنے بھتیجے کے دین میں داخل ہوگئے؛ اور اس نے تمہارے بیٹے کو تم پر امیر بنادیا ۔‘‘[انتہیٰ کلام الرافضی ]

[جوابات]: اس [اشکال ] کا جواب کئی نکات پر مشتمل ہے : 

اول :....ہم شیعہ سے مذکورہ بالا روایت کی صحت کا مطالبہ کرتے ہیں ۔شیعہ مصنف کا دعوی کرنا کہ یہ روایت تمام اہل علم نے روایت کی ہے ؛ صریح اور کھلا ہوا کذب اور دروغ گوئی ہے۔اہل اسلام حدیث نقل کرنے میں جن کتابوں سے استفادہ کرتے ہیں ؛ان میں اس طرح کی کوئی روایت موجود نہیں ۔ یہ روایت نہ ہی صحاح میں ہے اور نہ ہی سنن میں ؛ نہ ہی مغازی میں ؛اورنہ ہی ان تفسیرکی کتابوں میں جن میں سند ذکر کرنے کا اہتمام کیا جاتا ہے؛ اور نہ ہی مسانید میں ۔ ہاں اگر بعض ان کتابوں میں ہو جن میں [بغیر کسی تمیز کے] صحیح اور ضعیف ہر قسم کی روایات جمع کردی جاتی ہیں ؛جیسے ثعلبی؛ واحدی؛ اور بغوی وغیرہ؛ تو یہ ایک علیحدہ بات ہے۔ بلکہ ابن جریراور ابن حاتم رحمہما اللہ بھی اگر کوئی روایت نقل کریں تو صرف ان کے نقل کرنے سے روایت قابل حجت نہیں ہو جاتی ؛ اس پر تمام اہل علم کا اتفاق ہے۔اس لیے کہ جب یہ بات معلوم ہے کہ روایات میں صحیح بھی ہوتی ہیں اور ضعیف بھی؛ تو پھر یہ بیان کرنا بھی ضروری ہوجاتا ہے کہ یہ روایت صحیح احادیث میں سے ہے ؛ ضعیف میں سے نہیں ۔ 

اس حدیث کی انتہائی غایت یہ ہے کہ یہ روایت تفسیر کی بعض ان کتابوں میں پائی جاتی ہے جن میں صحیح اور سقیم ہر طرح کی روایات موجود ہیں ۔ ان میں بہت ساری من گھڑت اور جھوٹی روایات پائی جاتی ہیں ۔ حالانکہ جن کتب تفسیر میں یہ روایت پائی جاتی ہے جیسا کہ : تفسیر ابن جریر ؛ تفسیر ابن ابی حاتم؛ تفسیر ثعلبی اور تفسیر بغوی؛ ان کتابوں میں صحیح اسناد کے ساتھ دوسری ایسی روایات بھی موجود ہیں جو کہ اس روایت کے متناقض ہیں ۔ مثال کے طور پر جن مفسرین نے یہ روایت اسباب نزول میں ذکر کی ہے؛ انہوں نے صحیح اسناد کے ساتھ دوسری صحیح اور ثابت شدہ روایات ایسی روایات بھی ذکر کی ہیں جن کی صحت پر اہل علم کا اتفاق ہے؛ اور وہ اس روایت کے متناقض ہیں ۔ لیکن یہ روایت مفسرین نے اپنی ان اس عادت کے مطابق نقل کی ہے کہ وہ اسباب میں نزول میں ذکر کردہ تمام روایات نقل کردیتے ہیں ؛ خواہ وہ روایات صحیح ہوں یا ضعیف۔ یہی وجہ ہے کہ کوئی ایک مفسر کسی ایک آیت کی شان نزول میں کئی ایک اقوال ذکر کرتا ہے۔ تاکہ اس بارے میں لوگوں کے اقوال اور منقولات کا ذکر ہوجائے؛ اگرچہ ان میں سے بعض اقوال صحیح ہوں اوربعض جھوٹ ہوں ۔ اور جب کوئی-اس رافضی مصنف کی طرح - تمام تفسیری منقولات میں سے اس طرح کی ضعیف روایت سے استدلال کرتا ہے ؛ اور اس کے متناقض تمام تر روایات کو چھوڑ دیتا ہے ؛ تو تمام دلائل میں سے اس کی یہ دلیل انتہائی بودی اور بیکار ہوتی ہے۔ جیسا کہ کوئی انسان اپنے حق میں ایسے گواہ کی گواہی پیش کرے جس کا عادل ہونا ثابت ہی نہیں ہو۔ بلکہ اس پر جرح ثابت ہو؛ اور بہت سارے عادل گواہوں کی گواہی اس کے خلاف ہو۔ وہ ایسی گواہی دیتے ہوں جو اس گواہی کو جڑوں سے اکھاڑ پھینکتی ہو۔ یا پھر ایسے راوی کی روایت سے حجت پیش کرے جس کی عدالت ثابت ہی نہ ہو؛ بلکہ اس پر جرح ثابت ہو؛ اور بہت سارے راوی اس روایت کے خلاف روایت کرتے ہوں ۔

بلکہ اگر یہ بات تسلیم کر لی جائے کہ یہ حدیث ثقہ اور عادل راویوں کی روایت ہے؛ اور دوسرے ثقہ اور عادل راویوں نے اس کے خلاف روایت کیا ہے ؛ تو اس صورت میں واجب ہوجاتا ہے کہ ان دونوں روایات میں گہری نظر سے غور و فکر کیا جائے ؛ ان میں سے کون سی روایت زیادہ ثابت اور راجح ہے۔اورجب ان دونوں روایات کے متناقض ہونے پر ماہرین نقل اہل علم کا اتفاق ہے ؛ تو پھر اس صحیح حدیث کے بارے میں ان کا تعامل ؍طریقہ کار کیا تھا جبکہ یہ حدیث اس دوسری حدیث کے متناقض ہے جس کاصحیح ہونا تواتر کے ساتھ معلوم ہے اور بہت سارے ائمہ تفسیر نے اس روایت کو صرف اس لیے ذکر نہیں کیا کہ وہ اس روایت کا باطل ہونا ؍غلط ہونا جانتے تھے۔

دوم:....ہم اس روایت کو قبول کرنے کے لیے دو شرطوں کے ساتھ راضی ہیں : 

پہلی شرط:....یہ روایت ایسی سند کے ساتھ ذکر کی جائے جو اہل علم کے ہاں اختلافی مسائل میں قابل حجت ہو؛ بھلے وہ کوئی فروعی مسئلہ ہی کیوں نہ ہو۔

دوسری شرط:....یا پھرمحدثین میں سے کسی ایسے محدث کا قول ہو جن کی تصحیح پر لوگ اعتماد کرتے ہوں ۔

اس لیے کہ اگر دو فقیہ فروعات میں سے کسی ایک فروع میں باہم جھگڑ پڑیں ؛ تو مناظرہ میں حجت اس وقت تک قائم نہیں ہوسکتی جب تک وہ ایسی صحیح حدیث پیش نہ کردے جس سے حجت قائم ہوسکتی ہو۔ یہ وہ اس قول کو صحیح قرار دے جو اس کی طرف لوٹایا جارہا ہے ۔ اس کے بر عکس اگر اس روایت کی سند ہی معلوم نہ ہو ۔ اور ائمہ محدثین سے اس حدیث کا منقول ہونا ثابت ہی نہ ہو ؛ تو پھر یہ حدیث کیسے معلوم کی جاسکتی ہے ؟ پھر خاص کر ان اصولی مسائل میں [اس روایت پر کیسے اعتماد کیا جاسکتا ہے ] جن میں جمہور ِ امت اور سلف صالحین پر طعن کیا جاتا ہو؟اور ان کے ذریعہ سے ملت کے قواعد کو منہدم کرنے تک کا وسیلہ اختیار کیا جاتا ہو۔ [غور کیجیے ] ایسی روایت جس کی سند ثابت نہ ہو ؛ ائمہ و محدثین نے اسے نقل نہ کیا ہو؛ اور کسی ایک عالم نے بھی اسے صحیح نہ کہا ہو تو پھر ایسی روایت کو کیسے قبول کیا جاسکتا ہے ؟

سوم:....یہ روایت اہل علم اور محدثین کے نزدیک من گھڑت اور جھوٹ ہے ۔ کوئی بھی محدث ایسا نہیں ہے جسے حدیث کے بارے میں علم ہو اور وہ اس روایت کے من گھڑت ہونے کو نہ جانتا ہو۔یہی وجہ ہے کہ اس روایت کو کسی بھی اہل علم نے ایسی کسی کتاب میں روایت نہیں کیا جس کی طرف رجوع کیا جاتا ہو۔ اس لیے کہ ادنی علم رکھنے والا انسان بھی جانتا ہے کہ یہ روایت موضوع اور جھوٹ ہے ۔ اس روایت کو ابن جریر اور بغوی نے اپنی اپنی اسناد سے نقل تو کیا ہے ‘ مگر اس کی سند میں عبدالغفار بن قاسم بن فہد ؛ ابو مریم الکوفی نامی راوی ہیں ؛ اس کی روایت کے مردود ہونے پر تمام اہل علم کا اتفاق ہے ۔ 

سماک بن حرب اور ابو داؤد رحمہما اللہ نے اسے جھوٹا کہا ہے ۔ 

امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ فرماتے ہیں : ناقابل اعتماد انسان ہے ۔ عام طور پر اس کی روایات اباطیل پر مشتمل ہوتی ہیں ۔

یحی بن معین رحمہ اللہ فرماتے ہیں : ناقابل ذکر انسان ہے ۔

علی المدینی رحمہ اللہ فرماتے ہیں : یہ اپنی طرف سے احادیث گھڑا کرتا تھا۔

امام نسائی اور ابو حاتم رحمہما اللہ فرماتے ہیں : اس کی حدیث قبول نہیں کی جاتی [متروک الحدیث ہے ]۔

ابن حبان البستی رحمہ اللہ فرماتے ہیں : عبد الغفار بن قاسم اتنی شراب پیاکرتا تھا کہ مست ہوجاتا[یعنی نشہ میں سر شار رہتا تھا] ؛ اور اس کے ساتھ ہی احادیث میں اپنی طرف سے تبدیلیاں کیا کرتا تھا۔اس کی روایات سے استدلال کرنا جائز نہیں ۔ اسے امام احمد اور یحی بن معین نے ترک کیا ہے ۔‘‘

اس روایت کو ابن ابی حاتم رحمہ اللہ نے بھی نقل کیا ہے ۔ اس کی سند میں عبد اللہ بن عبد القدوس ہے۔ یہ راوی بھی ناقابل اعتماد ہے۔

امام یحییٰ بن معین رحمہ اللہ فرماتے ہیں : ناقابل اعتماد ہے ؛ یہ خبیث انسان رافضی تھا۔

امام نسائی رحمہ اللہ فرماتے ہیں : کچھ بھی نہیں ہے۔

امام دارقطنی رحمہ اللہ فرماتے ہیں : ’’ ضعیف راوی ہے ۔‘‘

ثعلبی کی ذکر کردہ سند اس سے بھی زیادہ ضعیف ہے۔ اس لیے کہ اس سند میں ایسے راوی بھی پائے جاتے ہیں جن کے بارے میں سرے سے کوئی خبر ہی نہیں ۔ اوران ضعیف راویوں کے علاوہ ایسے راوی بھی ہیں جن پر جھوٹ بولنے کی تہمت ہے ۔ [اب غور کیجیے: شیعہ کا یہ قول کس حد تک صحیح ہے کہ ’’ یہ روایت سب لوگوں نے بیان کی ہے ‘‘ بہ خلاف ازیں یہ موضوع و من گھڑت روایت ہے]

چہارم: ....بنی عبد المطلب کی تعداد نزول ِآیت کے وقت چالیس نہ تھی۔اس لیے کہ یہ آیت بعثت کے ابتدائی ایام میں مکہ مکرمہ میں نازل ہوئی۔نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں بھی وہ[بنو عبد المطلب]اس تعداد کو نہ پہنچ سکے ۔علماء کرام کا اتفاق ہے کہ بنو عبدالمطلب کی تمام اولاد صرف ان چار حضرات:عباس و ابو طالب و حارث و ابولہب میں سے تھی۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچاؤں میں سے نبوت کا زمانہ صرف چار نے پایا۔عباس؛ حمزہ؛ ابو طالب ؛ ابو لہب۔ان میں سے دو ایمان لائے یعنی حضرت عباس اور حضرت حمزہ رضی اللہ عنہما ؛اور دو اس نعمت سے محروم رہے۔ان میں سے ایک ابو طالب ؛جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد و نصرت کی۔ جب کہ دوسرے نے آپ سے دشمنی کی ؛ اور آپ کے خلاف دشمنوں کی مدد کرتا رہا ؛ یعنی ابو لہب۔

آپ کے چچا اور چچازادوں کی تفصیل کچھ اس طرح سے ہے :

ابوطالب کے چار بیٹے تھے۔ علی، جعفر ،عقیل ، طالب۔ آخر الذکر نے اسلام کا زمانہ نہیں پایا تھا۔جب کہ حضرت علی اور حضرت جعفر رضی اللہ عنہما نے شروع کے ایام میں ہی اسلام قبول کرلیا تھا۔ اور جعفر رضی اللہ عنہ نے حبشہ کی طرف ہجرت بھی کی تھی؛ جہاں سے آپ غزوہ خیبر کے موقع پر واپس تشریف لائے۔جب کہ عقیل باقی بنی ہاشم کے ہجرت کرجانے کے بعد ان کے مال واسباب پر قابض ہوگئے تھے۔ ان کا انتظام و انصرام اپنے ہاتھ میں لے لیاتھا۔ یہی وجہ ہے کہ جب حجۃ الوداع کے موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا گیا کہ کیا کل آپ اپنے گھر تشریف لے جائیں گے ؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

’’ کیا عقیل نے ہمارے لیے [کوئی ]گھرچھوڑا بھی ہے ؟‘‘[البخاری۲؍۱۴۷: ِکتاب الحجِ، باب تورِیثِ دورِ مکۃ وبیعِہا وشِرائِہا، والحدیث فِی مسلِم 2؍984 ؛ ِکتاب الحجِ، باب النزولِ بِمکۃ لِلحاجِ وتورِیثِ دورِہا، سنن ابن ماجہ 2؍912؛ ِکتاب الفرائِضِ، باب مِیراثِ أہلِ الإِسلامِ مِن أہلِ الشِرک ۔]

جبکہ حضرت عباس رضی اللہ عنہ کے سبھی بچے ابھی شیر خوار تھے [یا پیدا ہی نہیں ہوئے تھے]۔اس لیے اس وقت میں مکہ مکرمہ میں ان میں سے کوئی ایک بھی نہیں تھا۔اور اگر مان لیجیے کہ یہ لوگ موجود بھی تھے تو تب بھی یہ حضرات عبداللہ؛ عبیداللہ اور فضل تھے۔ اس لیے کہ قُثم بن عباس کی پیدائش بعد میں ہوئی ہے۔ان بھائیوں میں سب سے بڑے حضرت فضل رضی اللہ عنہ ہیں ۔ اور ان ہی کے نام پر حضرت عباس رضی اللہ عنہ کی کنیت بھی رکھی گئی تھی۔جب کہ عبد اللہ کی پیدائش شعب ابی طالب میں اس آیت کے نزول کے بعد ہوئی ہے : ﴿وَاَنْذِرْ عَشِیْرَتَکَ الْاَقْرَبِیْنَ ﴾ ’’ اور اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈرائیے۔‘‘

ہجرت کے وقت ان کی عمر بمشکل تین یا چار سال تھی۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مبارک میں حضرت عباس رضی اللہ عنہ کے ہاں صرف فضل؛ عبد اللہ اور عبید اللہ پیدا ہوئے تھے۔ باقی ساری اولادنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد پیدا ہوئی ہے۔

جب کہ حارث اور ابو لہب کے بیٹوں کی تعداد کم تھی۔ حارث کے دو بیٹے تھے: ابو سفیان، ربیعہ ۔ان دونوں نے بہت بعد میں اسلام قبول کیا ۔ ان کا شمار فتح مکہ کے موقع پر اسلام قبول کرنے والوں میں ہوتا ہے۔

ایسے ہی ابو لہب کے بیٹوں نے بھی فتح ِمکہ کے موقع پر اسلام قبول کیا تھا۔ ابو لہب کے بھی تین بیٹے تھے ۔ان میں سے دو نے اسلام قبول کیاتھا ؛ عتبہ اور مغیث نے۔جب کہ عتیبہ پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بددعا کی تھی کہ اسے کتا کھاجائے۔تو اسے بلادِ شام میں ’’زرقاء‘‘ کے علاقہ میں ایک درندے نے پھاڑ ڈالا تھا۔اور وہ حالت کفر میں مردار ہوا۔ [کتاب الفصولِ فِی اختِصارِ سِیرۃِ الرسولِ لِابن کثِیر، والحدیث رواہ الحاکِم وابن ِسحاق مِن طرق صحِیح مسند، انظر نسِیم الرِیاضِ شرح ِکتابِ الشِفائِ 3؍126 ولم أجِدِ الحدیث فِی سِیرِۃ ابنِ ہِشام وہو فِی المستدرکِ لِلحاکِمِ 2؍539 ؛ فِی تفسِیرِ سورۃِ أبِی لہب۔]

تمام بنو عبد المطلب کی تفصیل ہے جو کہ اس اس وقت میں چوبیس تک پہنچتے تھے۔ توپھر چالیس کیسے ہو گئے؟

پنجم:....شیعہ کا یہ قول کہ ’’ [بنو ہاشم بڑے پیٹو تھے]ان میں سے ایک آدمی پورا بکرا کھا جاتا اور لسی کا پورا مشکیزہ پی جاتا۔‘‘ یہ ان لوگوں پر صاف جھوٹ ہے۔ بنو ہاشم بسیار خوری کے مرض کا شکار نہ تھے بلکہ ان میں ایک آدمی بھی ایسا نہ تھا جو پورا بکرا کھالیتا ہواور ایک مشکیزہ [دودھ یا لسی ]پی لیتا ہو ۔ 

ششم: ....[اس روایت کے الفاظ رکیک ہیں ، جن کی بنا پر دل اس کے باطل ہونے کی شہادت دیتا ہے]۔ اس میں مذکور ہے کہ آپ نے پوری جماعت[ چالیس آدمیوں ] کو یہ پیش کش کی تھی کہ جو کوئی میری اس دعوت کو قبول کرے گا اور اس کی دعوت و تبلیغ میں میری مدد کرے گا وہ میرابھائی اور میرا وزیر؛ میرا وصی اور میرے بعد میرا خلیفہ ہوگا۔‘‘[فرض کیجیے کہ اگر وہ سب آدمی اس دعوت کو قبول کرلیتے تو ان میں سے خلیفہ کون قرار پاتا؟]

یہ روایت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر محض ایک جھوٹ باندھا گیا ہے۔ایسی روایات کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کرنا کسی طرح بھی جائز نہیں ۔اور نہ ہی صرف کلمہ طیبہ کا اقرار کرنے اور مدد گار بننے سے کوئی خلیفہ بننے کا مستحق ہوجاتا ہے۔اس لیے کہ تمام وہ لوگ جنہوں نے اسلام قبول کیا انہوں نے اس کلمہ کا اقرار کیا اور پھر اس کی اشاعت و تبلیغ کی خاطر قربانیاں دیں ۔ اور اس کی خاطر اپنی جانوں اور اموال کا نذرانہ پیش کیا۔ اپنا گھر بار چھوڑا؛ اپنے سگے بھائیوں [اور رشتہ داروں ]سے دشمنی مول لی؛ اور جدائی و ہجر کے صدموں پر صبر کیا۔ غلبہ و عزت کے بعد اس کلمہ کی خاطر ذلت برداشت کی۔ مالدار ہونے کے باوجود تنگ دستی اور غربت کو برداشت کیا۔ وسعتوں کے بعد تنگی و پریشانی کو قبول کیا۔ اس بارے میں ان حضرات کرام کے واقعات بڑے ہی مشہور و معروف ہیں ۔ مگر اس کے باوجود ان میں سے کوئی آپ کا خلیفہ بننے کا دعویدار نہ ہوا۔

نیز یہ بھی ہے کہ فرض کیجیے : اگر وہ سب آدمی یا ان کی ایک بڑی اکثریت اس دعوت کو قبول کرلیتے تو ان میں سے خلیفہ کون قرار پاتا؟کیا بغیر کسی سبب[و موجب] کے کسی ایک کو خلیفہ مقرر کیا جاسکتا تھا؟ یا پھر ان تمام کو ایک ہی وقت میں خلفاء مقرر کردیا جاتا؟ اس لیے کہ وصیت و خلافت اور بھائی چارگی اور مددتو ایک انتہائی آسان کام کے ساتھ مشروط کی گئی ہے یعنی شہادتین کا اقرار کرنا؛ اور اس کلمہ کی بنیاد پر نصرت و تعاون کرنا۔

کوئی بھی مؤمن ایسا نہیں ہے جو اللہ تعالیٰ پر ؛اس کے رسول پر اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو ؛مگراس کا اس کلمہ طیبہ میں وافر حصہ موجود ہوتا ہے ؛ اور جس کے لیے کلمہ طیبہ میں کوئی حصہ نہیں وہ منافق ہے۔ [جب معاملہ ایسے ہی ہے ] تو پھر اس قسم کے کلام کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کیوں کر منسوب کیا جاسکتا ہے ؟

ہفتم:....حضرت حمزۃ ؛ عبیدۃ بن حارث اور جعفر رضی اللہ عنہم نے بھی حضر ت علی رضی اللہ عنہ کی طرح اسلام قبول کیا تھا؛انہوں نے شہادتین کا اقرار کیا اور اس کلمہ طیبہ کی نشرو اشاعت میں معاون و مددگار بنے۔ان کا شمار بھی ان سابقین اولین میں ہوتا ہے جو شروع شروع میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پرایمان لائے۔ بلکہ حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ اس وقت اسلام لائے جب اہل ایمان کی تعداد چالیس کو بھی نہیں پہنچ پائی تھی۔ اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دار ارقم بن ارقم میں بیٹھا کرتے تھے۔اور وہیں پر اپنے صحابہ کرام کے ساتھ جمع ہوتے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور سارے بنو عبد المطلب ایک ہی گھر میں جمع نہیں ہوا کرتے تھے ۔ اس لیے کہ ابو لہب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بہت زیادہ دشمنی کیا کرتا تھا۔ جب شعب ابی طالب میں بنو ہاشم کا محاصرہ کیا گیا تو ابو لہب ان لوگوں کے ساتھ اس گھاٹی میں داخل نہیں ہوا تھا۔ 

ہشتم:....یہ کہ بخاری و مسلم میں اس آیت کی شان نزول کچھ اور بیان ہوئی ہے۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ اور حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے جو حدیث مروی ہے اس سے اس کی تردید ہوتی ہے، فرماتے ہیں : 

’’جب آیت کریمہ﴿وَاَنْذِرْ عَشِیْرَتکَ الْاَقْرَبِیْنَ﴾ نازل ہوئی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش کو جمع کرکے ان سے اجتماعی اور انفرادی طور پر بات چیت کی۔ آپ نے فرمایا :

’’ اے بنی کعب بن لوئی! اپنی جانیں دوزخ سے بچالو۔

اے بنو مرہ بن کعب ! اپنی جانیں دوزخ سے بچالو۔

اے بنی عبد شمس! اپنی جانیں دوزخ سے بچالو۔

اے بنو عبد مناف ! اپنی جانیں دوزخ سے بچالو۔

اے بنو ہاشم ! اپنی جانیں دوزخ سے بچالو۔

اے بنی عبد المطلب! اپنی جان دوزخ سے بچالو۔

اے فاطمہ بنت محمد ! اپنی جان دوزخ سے بچالے۔ میں تم سے عذاب الٰہی کو روک نہیں سکوں گا تاہم قرابت داری کا حق ادا کرتا رہوں گا۔‘‘[صحیح بخاری، کتاب التفسیر، سورۃ الشعراء، (حدیث:۴۷۷۱)، صحیح مسلم، کتاب الایمان۔ باب فی قولہ تعالی﴿ وَاَنْذِرْ عَشِیْرَتَکَ الْاَقْرَبِیْنَ﴾ (حدیث:۲۰۴)، واللفظ لہ۔ ]

بخاری و مسلم میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب زیر تبصرہ آیت نازل ہوئی تو آپ نے فرمایا:

’’ اے گروہ قریش! اپنے آپ کو عذاب الٰہی سے بچالو میں تمہاری کچھ مدد نہیں کر سکوں گا۔ اے بنی عبد المطلب! میں تمہاری کچھ مدد نہیں کر سکوں گا۔اے میری پھوپھی صفیہ ! میں تمہاری کچھ مدد نہیں کر سکوں گا۔اور اے میری بیٹی فاطمہ! تم میرا مال جتنا چاہو لے لو، میں تمھیں عذاب الٰہی سے نہیں چھڑا سکوں گا۔‘‘[البخاری، کتاب الوصایا، باب ھل یدخل النساء والولد فی الاقارب (ح: ۲۷۵۳)،مسلم ، کتاب الایمان باب فی قولہ تعالی﴿ وَاَنْذِرْ عَشِیْرَتَکَ الْاَقْرَبِیْنَ﴾ ( ح:۲۰۶)۔ ]

امام مسلم نے یہ روایت ابن المخارق اور زہیر بن عمرو کی سند سے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے نقل کی ہے ۔ اس میں ہے کہ آپ نے صفا پہاڑی پر کھڑے ہوکر یہ اعلان فرمایا۔ اور قبیصہ کی روایت میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کوہ صفا پر کھڑے ہو کر یہ الفاظ ارشاد فرمائے تھے۔‘‘[مسلم ، کتاب الایمان۔ باب فی قولہ تعالی﴿ وَاَنْذِرْ عَشِیْرَتَکَ الْاَقْرَبِیْنَ﴾ (ح:۲۰۵)]

حدیث قبیصہ میں ہے:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پہاڑ کے سب سے بلند پتھر پر کھڑے ہوئے اور پھر آواز دی اے عبدمناف کے بیٹو! میں تمہیں عذاب سے ڈرا رہا ہوں ۔‘‘ میری اور تمہاری مثال اس آدمی کی طرح ہے جس نے دشمن کو دیکھا ہو اور وہ دشمن سے اپنے گھر والوں کو بچا نے کی لیے دوڑ پڑا ہو؛ اور اس ڈر سے کہ کہیں دشمن اس سے پہلے نہ پہنچ جائے اس نے بلند آواز سے پکارا :’’یا صباحاہ۔‘‘[ خبردار آگاہ ہوجاؤ دشمن سے؛ یعنی اللہ کا عذاب آرہا ہے]۔ 

ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :’’ جب یہ آیت کریمہ نازل ہوئی [[اور اپنے قریبی رشتہ داروں کو اور اپنی قوم کے مخلص لوگوں کو بھی ڈرائیے]] تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کوہ صفا پر چڑھے اور بلند آواز کے ساتھ فرمایا :’’یا صباحاہ‘‘ سنو آگاہ ہوجاؤ۔‘‘

لوگوں نے کہا کہ یہ کون آواز لگا رہا ہے؟ تو سب کہنے لگے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم آواز لگا رہے ہیں ۔

تو سب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف جمع ہوگئے ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

’’اے فلاں کے بیٹو!اے عبد مناف کے بیٹو! اے عبدالمطلب کے بیٹو!

اور ایک روایت میں ہے : آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

’’اے عدی کے بیٹو!اے فہر کے بیٹو! اے فلاں کے بیٹو!قریش کی مختلف شاخوں کے نام لیے۔ تو ایسے ہوا کہ جو آدمی خود حاضر نہیں ہوسکتا تھا تو اس نے معاملہ کی چھان بین کے لیے اپنی جگہ آدمی بھیجا۔ جب وہ سب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جمع ہوگئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

’’ تمہارا کیا خیال ہے کہ اگر میں تمہیں خبر دوں کہ اس پہاڑ کے پیچھے ایک گھڑ سوار لشکر ؛ تو کیاتم میری تصدیق کرو گے؟

تو سب لوگوں نے کہا کہ:’’ ہم نے تو کبھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جھوٹا نہیں پایا۔‘‘

تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ میں تمہیں بہت سخت عذاب سے ڈرا رہا ہوں ۔‘‘

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ابولہب نے کہا کہ:

(تبا لک أما جمعتنا ِإلا لِہذا؟)

تمہارے لیے تباہی ہو کیا تم نے ہمیں صرف اس بات کے لیے جمع کیا تھا۔ تو اس موقع پر یہ سورت نازل ہوئی:

﴿تَبَّتْ یَدَا اَبِیْ لَہَبٍ وَّتَبَّ﴾ [المسد:۱]

’’ ٹوٹ گئے ابولہب کے دونوں ہاتھ اور وہ خود بھی ہلاک ہوجائے۔‘‘

اور ایک روایت میں ہے کہ جب قریش آپ کے پاس جمع ہوگئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

’’ تمہارا کیا خیال ہے کہ اگر میں تمہیں خبر دوں کہ دشمن صبح و شام کسی بھی وقت تم پر حملہ کرنے والا ہے ؛ تو کیاتم میری تصدیق کرو گے؟

تو سب لوگوں نے کہا کہ:’’کیوں نہیں ضرور ۔‘‘[البخاری کتاب التفسیر ؛ سورت سبأ ؛ کتاب التفسیر سورۃ تبت یدا أبي لھب و تب]

اگر یہ کہا جائے کہ یہ حدیث مفسرین اور مصنفین کی ایک جماعت نے فضائل کی کتابوں میں نقل کی جائے؛ جیسا کہ ثعلبی اور بغوی اور ان کے امثال اورمغازلی وغیرہ ۔

تو اس کا جواب یہ ہے کہ : ان حضرات کا صرف کسی حکایت کو روایت کر لینا حدیث کے ثبوت کو واجب نہیں کرسکتا؛ اس پر حدیث کا علم رکھنے والے تمام حضرات کا اتفاق ہے۔اس لیے کہ باتفاق اہل علم ان حضرات کی کتابوں میں موضوع روایات تک پائی جاتی ہیں ۔ یعنی ان کے موضوع اور من گھڑت ہونے پر اہل علم حضرات کا اتفاق ہے۔ اور بہت ساری چیزیں ایسی ہیں جن کے بارے یقینی سمعی اور عقلی دلائل کی روشنی میں معلوم ہوتا ہے کہ یہ جھوٹ اور من گھڑت روایات ہیں ۔صرف یہی نہیں ؛بلکہ ان کا جھوٹ ہونا اضطراری طور پر معلوم ہوتا ہے۔

ثعلبی اور اس کے امثال جان بوجھ کر جھوٹ نہیں بولتے۔ بلکہ ان میں اتنی خیر و دین داری ضرور ہے جو انہیں ایسی بھونڈی حرکت سے باز رکھ سکے۔ لیکن یہ حضرات جو کچھ دوسری کتابوں میں پاتے ہیں اسے نقل کردیتے ہیں ۔ اور ان میں سے کسی ایک کو بھی احادیث کی اسانید میں ایسی مہارت نہیں ہے جیسی مہارت ائمہ حدیث جیسے : شعبہ ؛ یحییٰ بن سعید القطان؛ عبدالرحمن بن مہدی؛ أحمد بن حنبل ؛ وعلی بن المدینی، ویحی بنِ معِین، واسحاق، ومحمد بن یحی الذہلی، البخاری، مسلم، وأبو داود، والنسائی، وابو حاتِم ؛وابو زرعہ الرازِیینِ، وابو عبد اللہ بن مندہ، اور دارقطنِیِ اور ان کے امثال و ہمنوا دوسرے محدثین کرام؛ جو کہ حدیث کے امام اور نقاد حکام ہیں ۔اوروہ محافظین دین ہیں جنہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے احوال کی مکمل معرفت اور معلومات ہیں ؛ اور ان لوگوں کے احوال سے بھی آگاہ ہیں جنہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث مبارکہ کا علم صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور تابعین اور تبع تابعین سے اور ان کے بعد آنے والے اس علم کے نقل کرنے والوں سے یہ علم وراثت میں پایا ۔

علوم الحدیث و الآثار نقل کرنے والے رجال کے احوال کی معرفت حاصل کرنے ان کے متعلق بہت ساری کتابیں تحریر کی گئی ہیں ؛ جن میں ان تمام حضرات کے نام ؛ اور ان کے حالات و واقعات ہیں اور ان لوگوں کے احوال بھی ہیں جن سے انہوں نے یہ علم حاصل کیا ہے؛ اور پھر آگے ان حضرات سے جن لوگوں نے اس علم کو دوسروں تک نقل کیا ہے۔ مثال کے طور پر ’’ کتاب العلل و أسماء الرجال۔‘‘

عن یحی القطان ؛ ابن المدینی اور احمد اور ابن معین اور بخاری او رمسلم ؛ ابو زرعہ اور ابو حاتم اور نسائی ؛ ترمدی ؛ أحمد بن عدی؛ ابن حبان؛ ابو الفتح الازدی؛ دارقطنی اور دوسرے حضرات ۔ [انہوں نے اس موضوع پر قلم اٹھایا ہے]۔

تفسیر ثعلبی میں موضوع احادیث بھی ہیں او رصحیح احادیث بھی۔ موضوع احادیث میں سے وہ روایات بھی ہیں جو انہوں نے ہر ایک سورت کے فضل میں نقل کی ہیں۔

ایسے ہی یہ روایات زمحشری او رواحدی نے بھی نقل کی ہیں ۔ حالانکہ ان کے موضوع اور من گھڑت ہونے پر ائمہ حدیث کا اتفاق ہے۔ ایسے ان کے علاوہ دیگر روایات بھی ہیں [جن کا یہی حال ہے]۔

ایسے ہی واحدی کا حال بھی ہے؛وہ ثعلبی کا شاگرد ہے۔ اور بغوی نے اپنی تفسیر ثعلبی اورواحدی کی تفاسیر سے مختصر کی ہے ۔یہ دونوں حضرات بغوی رحمہ اللہ کی نسبت اقوال مفسرین کے زیادہ ماہر ہیں ۔ واحدی عربی زبان کا ان دونوں سے بڑا ماہر ہے۔اوربغوی رحمہ اللہ کے ہاں ان دونوں کی نسبت سنت کی اتباع زیادہ پائی جاتی ہے۔

لیکن کسی انسان ؍عالم کا ان جمہور میں سے ہونا جو خلفائے ثلاثہ کی خلافت کا اعتقاد رکھتے ہیں یہ واجب نہیں کرتا کہ جو بات بھی وہ روایت کرتا ہے ؛ وہ صرف سچ ہی ہوسکتی ہے۔ جیسا کہ کسی کے شیعہ ہونے سے یہ واجب نہیں ہوجاتا کہ اس نے جو بھی روایت کیا ہے؛ وہ سب جھوٹ ہے۔ بلکہ اس کے لیے اعتبار میزان عدل ہے۔

لوگوں نے اصول و احکام ؛اور زہد و فضائل میں بہت ساری احادیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹی گھڑ رکھی ہیں ۔ اور بہت ساری احادیث خلفائے اربعہ اور حضرت امیر معاویہ ۔رضی اللہ عنہم ۔کے فضائل میں اپنی طرف سے گھڑ رکھی ہیں ۔

بعض لوگوں کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ اس باب میں جو کچھ بھی اس میں سے صحیح اور ضعیف کا فرق کیے بغیر روایت کر لیا جائے ۔جیسا کہ فضائل خلفاء میں ابو نعیم نے کیاہے۔ اور یہی حال ان دوسرے مصنفین کا بھی ہے جنہوں نے فضائل میں کتابیں تصنیف کی ہیں ۔ مثال کے طور پر جو کچھ ابو الفتح بن ابو الفوارس نے اور ابو علی الاہوازی نے اور ان کے علاوہ دوسرے لوگوں نے حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے فضائل میں جمع کر رکھا ہے۔ اور جیسا کہ امام نسائی رحمہ اللہ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے فضائل میں جمع کیا ہے؛ اور ایسی ہی ابو القاسم ابن عساکر نے جو کچھ حضرت علی رضی اللہ عنہ اوردیگر حضرات کے فضائل میں جمع کیا ہے۔ ان حضرات کا مقصد یہ تھا کہ جوکچھ انہوں نے سنا ہے ؛ اس سب کو نقل کردیا جائے قطع نظر اس بات کے کہ اس میں سے کیا صحیح ہے اور کیا ضعیف ۔ پس ان حضرات میں سے کسی ایک کے روایت نقل کرنے کی وجہ اس کے سچا ہونے کی تصدیق کرنا کسی طرح بھی جائز نہیں ہے ؛ اس پر تمام اہل حضرات کا اتفاق ہے۔

جو کوئی مصنفین اصول یا فقہ میں یا زہد و رقائق میں میں بغیر سند کے حدیث ذکر کرتے ہیں ؛تو یہ حضرات ان کا مسئلہ یہ ہے کہ یہ دوسری کئی ایسی احادیث بیان نہیں کرتے جو کہ صحیح سند سے ثابت ہیں ۔ اور ان میں سے بہت سارے حضرات ضعیف اور موضوع روایات تک نقل کرتے ہیں ۔ جیسا کہ رقائق اور رائے کے علاوہ دوسری کتابوں میں پایا جاتا ہے۔