باب سوم :....تیسرا منہج : امامت حضرت علی رضی اللہ عنہ پر…

باب سوم :....تیسرا منہج : امامت حضرت علی رضی اللہ عنہ پر احادیث نبویہ سے استدلال

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 2 از 6

اس حدیث کی انتہائی غایت یہ ہے کہ یہ روایت تفسیر کی بعض ان کتابوں میں پائی جاتی ہے جن میں صحیح اور سقیم ہر طرح کی روایات موجود ہیں ۔ ان میں بہت ساری من گھڑت اور جھوٹی روایات پائی جاتی ہیں ۔ حالانکہ جن کتب تفسیر میں یہ روایت پائی جاتی ہے جیسا کہ : تفسیر ابن جریر ؛ تفسیر ابن ابی حاتم؛ تفسیر ثعلبی اور تفسیر بغوی؛ ان کتابوں میں صحیح اسناد کے ساتھ دوسری ایسی روایات بھی موجود ہیں جو کہ اس روایت کے متناقض ہیں ۔ مثال کے طور پر جن مفسرین نے یہ روایت اسباب نزول میں ذکر کی ہے؛ انہوں نے صحیح اسناد کے ساتھ دوسری صحیح اور ثابت شدہ روایات ایسی روایات بھی ذکر کی ہیں جن کی صحت پر اہل علم کا اتفاق ہے؛ اور وہ اس روایت کے متناقض ہیں ۔ لیکن یہ روایت مفسرین نے اپنی ان اس عادت کے مطابق نقل کی ہے کہ وہ اسباب میں نزول میں ذکر کردہ تمام روایات نقل کردیتے ہیں ؛ خواہ وہ روایات صحیح ہوں یا ضعیف۔ یہی وجہ ہے کہ کوئی ایک مفسر کسی ایک آیت کی شان نزول میں کئی ایک اقوال ذکر کرتا ہے۔ تاکہ اس بارے میں لوگوں کے اقوال اور منقولات کا ذکر ہوجائے؛ اگرچہ ان میں سے بعض اقوال صحیح ہوں اوربعض جھوٹ ہوں ۔ اور جب کوئی-اس رافضی مصنف کی طرح - تمام تفسیری منقولات میں سے اس طرح کی ضعیف روایت سے استدلال کرتا ہے ؛ اور اس کے متناقض تمام تر روایات کو چھوڑ دیتا ہے ؛ تو تمام دلائل میں سے اس کی یہ دلیل انتہائی بودی اور بیکار ہوتی ہے۔ جیسا کہ کوئی انسان اپنے حق میں ایسے گواہ کی گواہی پیش کرے جس کا عادل ہونا ثابت ہی نہیں ہو۔ بلکہ اس پر جرح ثابت ہو؛ اور بہت سارے عادل گواہوں کی گواہی اس کے خلاف ہو۔ وہ ایسی گواہی دیتے ہوں جو اس گواہی کو جڑوں سے اکھاڑ پھینکتی ہو۔ یا پھر ایسے راوی کی روایت سے حجت پیش کرے جس کی عدالت ثابت ہی نہ ہو؛ بلکہ اس پر جرح ثابت ہو؛ اور بہت سارے راوی اس روایت کے خلاف روایت کرتے ہوں ۔

بلکہ اگر یہ بات تسلیم کر لی جائے کہ یہ حدیث ثقہ اور عادل راویوں کی روایت ہے؛ اور دوسرے ثقہ اور عادل راویوں نے اس کے خلاف روایت کیا ہے ؛ تو اس صورت میں واجب ہوجاتا ہے کہ ان دونوں روایات میں گہری نظر سے غور و فکر کیا جائے ؛ ان میں سے کون سی روایت زیادہ ثابت اور راجح ہے۔اورجب ان دونوں روایات کے متناقض ہونے پر ماہرین نقل اہل علم کا اتفاق ہے ؛ تو پھر اس صحیح حدیث کے بارے میں ان کا تعامل ؍طریقہ کار کیا تھا جبکہ یہ حدیث اس دوسری حدیث کے متناقض ہے جس کاصحیح ہونا تواتر کے ساتھ معلوم ہے اور بہت سارے ائمہ تفسیر نے اس روایت کو صرف اس لیے ذکر نہیں کیا کہ وہ اس روایت کا باطل ہونا ؍غلط ہونا جانتے تھے۔

دوم:....ہم اس روایت کو قبول کرنے کے لیے دو شرطوں کے ساتھ راضی ہیں : 

پہلی شرط:....یہ روایت ایسی سند کے ساتھ ذکر کی جائے جو اہل علم کے ہاں اختلافی مسائل میں قابل حجت ہو؛ بھلے وہ کوئی فروعی مسئلہ ہی کیوں نہ ہو۔

دوسری شرط:....یا پھرمحدثین میں سے کسی ایسے محدث کا قول ہو جن کی تصحیح پر لوگ اعتماد کرتے ہوں ۔

اس لیے کہ اگر دو فقیہ فروعات میں سے کسی ایک فروع میں باہم جھگڑ پڑیں ؛ تو مناظرہ میں حجت اس وقت تک قائم نہیں ہوسکتی جب تک وہ ایسی صحیح حدیث پیش نہ کردے جس سے حجت قائم ہوسکتی ہو۔ یہ وہ اس قول کو صحیح قرار دے جو اس کی طرف لوٹایا جارہا ہے ۔ اس کے بر عکس اگر اس روایت کی سند ہی معلوم نہ ہو ۔ اور ائمہ محدثین سے اس حدیث کا منقول ہونا ثابت ہی نہ ہو ؛ تو پھر یہ حدیث کیسے معلوم کی جاسکتی ہے ؟ پھر خاص کر ان اصولی مسائل میں [اس روایت پر کیسے اعتماد کیا جاسکتا ہے ] جن میں جمہور ِ امت اور سلف صالحین پر طعن کیا جاتا ہو؟اور ان کے ذریعہ سے ملت کے قواعد کو منہدم کرنے تک کا وسیلہ اختیار کیا جاتا ہو۔ [غور کیجیے ] ایسی روایت جس کی سند ثابت نہ ہو ؛ ائمہ و محدثین نے اسے نقل نہ کیا ہو؛ اور کسی ایک عالم نے بھی اسے صحیح نہ کہا ہو تو پھر ایسی روایت کو کیسے قبول کیا جاسکتا ہے ؟

سوم:....یہ روایت اہل علم اور محدثین کے نزدیک من گھڑت اور جھوٹ ہے ۔ کوئی بھی محدث ایسا نہیں ہے جسے حدیث کے بارے میں علم ہو اور وہ اس روایت کے من گھڑت ہونے کو نہ جانتا ہو۔یہی وجہ ہے کہ اس روایت کو کسی بھی اہل علم نے ایسی کسی کتاب میں روایت نہیں کیا جس کی طرف رجوع کیا جاتا ہو۔ اس لیے کہ ادنی علم رکھنے والا انسان بھی جانتا ہے کہ یہ روایت موضوع اور جھوٹ ہے ۔ اس روایت کو ابن جریر اور بغوی نے اپنی اپنی اسناد سے نقل تو کیا ہے ‘ مگر اس کی سند میں عبدالغفار بن قاسم بن فہد ؛ ابو مریم الکوفی نامی راوی ہیں ؛ اس کی روایت کے مردود ہونے پر تمام اہل علم کا اتفاق ہے ۔ 

سماک بن حرب اور ابو داؤد رحمہما اللہ نے اسے جھوٹا کہا ہے ۔ 

امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ فرماتے ہیں : ناقابل اعتماد انسان ہے ۔ عام طور پر اس کی روایات اباطیل پر مشتمل ہوتی ہیں ۔

یحی بن معین رحمہ اللہ فرماتے ہیں : ناقابل ذکر انسان ہے ۔

علی المدینی رحمہ اللہ فرماتے ہیں : یہ اپنی طرف سے احادیث گھڑا کرتا تھا۔

امام نسائی اور ابو حاتم رحمہما اللہ فرماتے ہیں : اس کی حدیث قبول نہیں کی جاتی [متروک الحدیث ہے ]۔

ابن حبان البستی رحمہ اللہ فرماتے ہیں : عبد الغفار بن قاسم اتنی شراب پیاکرتا تھا کہ مست ہوجاتا[یعنی نشہ میں سر شار رہتا تھا] ؛ اور اس کے ساتھ ہی احادیث میں اپنی طرف سے تبدیلیاں کیا کرتا تھا۔اس کی روایات سے استدلال کرنا جائز نہیں ۔ اسے امام احمد اور یحی بن معین نے ترک کیا ہے ۔‘‘

اس روایت کو ابن ابی حاتم رحمہ اللہ نے بھی نقل کیا ہے ۔ اس کی سند میں عبد اللہ بن عبد القدوس ہے۔ یہ راوی بھی ناقابل اعتماد ہے۔

امام یحییٰ بن معین رحمہ اللہ فرماتے ہیں : ناقابل اعتماد ہے ؛ یہ خبیث انسان رافضی تھا۔

امام نسائی رحمہ اللہ فرماتے ہیں : کچھ بھی نہیں ہے۔

امام دارقطنی رحمہ اللہ فرماتے ہیں : ’’ ضعیف راوی ہے ۔‘‘

صفحہ 2 از 6