باب سوم :....تیسرا منہج : امامت حضرت علی رضی اللہ عنہ پر…

باب سوم :....تیسرا منہج : امامت حضرت علی رضی اللہ عنہ پر احادیث نبویہ سے استدلال

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 3 از 6

ثعلبی کی ذکر کردہ سند اس سے بھی زیادہ ضعیف ہے۔ اس لیے کہ اس سند میں ایسے راوی بھی پائے جاتے ہیں جن کے بارے میں سرے سے کوئی خبر ہی نہیں ۔ اوران ضعیف راویوں کے علاوہ ایسے راوی بھی ہیں جن پر جھوٹ بولنے کی تہمت ہے ۔ [اب غور کیجیے: شیعہ کا یہ قول کس حد تک صحیح ہے کہ ’’ یہ روایت سب لوگوں نے بیان کی ہے ‘‘ بہ خلاف ازیں یہ موضوع و من گھڑت روایت ہے]

چہارم: ....بنی عبد المطلب کی تعداد نزول ِآیت کے وقت چالیس نہ تھی۔اس لیے کہ یہ آیت بعثت کے ابتدائی ایام میں مکہ مکرمہ میں نازل ہوئی۔نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں بھی وہ[بنو عبد المطلب]اس تعداد کو نہ پہنچ سکے ۔علماء کرام کا اتفاق ہے کہ بنو عبدالمطلب کی تمام اولاد صرف ان چار حضرات:عباس و ابو طالب و حارث و ابولہب میں سے تھی۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچاؤں میں سے نبوت کا زمانہ صرف چار نے پایا۔عباس؛ حمزہ؛ ابو طالب ؛ ابو لہب۔ان میں سے دو ایمان لائے یعنی حضرت عباس اور حضرت حمزہ رضی اللہ عنہما ؛اور دو اس نعمت سے محروم رہے۔ان میں سے ایک ابو طالب ؛جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد و نصرت کی۔ جب کہ دوسرے نے آپ سے دشمنی کی ؛ اور آپ کے خلاف دشمنوں کی مدد کرتا رہا ؛ یعنی ابو لہب۔

آپ کے چچا اور چچازادوں کی تفصیل کچھ اس طرح سے ہے :

ابوطالب کے چار بیٹے تھے۔ علی، جعفر ،عقیل ، طالب۔ آخر الذکر نے اسلام کا زمانہ نہیں پایا تھا۔جب کہ حضرت علی اور حضرت جعفر رضی اللہ عنہما نے شروع کے ایام میں ہی اسلام قبول کرلیا تھا۔ اور جعفر رضی اللہ عنہ نے حبشہ کی طرف ہجرت بھی کی تھی؛ جہاں سے آپ غزوہ خیبر کے موقع پر واپس تشریف لائے۔جب کہ عقیل باقی بنی ہاشم کے ہجرت کرجانے کے بعد ان کے مال واسباب پر قابض ہوگئے تھے۔ ان کا انتظام و انصرام اپنے ہاتھ میں لے لیاتھا۔ یہی وجہ ہے کہ جب حجۃ الوداع کے موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا گیا کہ کیا کل آپ اپنے گھر تشریف لے جائیں گے ؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

’’ کیا عقیل نے ہمارے لیے [کوئی ]گھرچھوڑا بھی ہے ؟‘‘[البخاری۲؍۱۴۷: ِکتاب الحجِ، باب تورِیثِ دورِ مکۃ وبیعِہا وشِرائِہا، والحدیث فِی مسلِم 2؍984 ؛ ِکتاب الحجِ، باب النزولِ بِمکۃ لِلحاجِ وتورِیثِ دورِہا، سنن ابن ماجہ 2؍912؛ ِکتاب الفرائِضِ، باب مِیراثِ أہلِ الإِسلامِ مِن أہلِ الشِرک ۔]

جبکہ حضرت عباس رضی اللہ عنہ کے سبھی بچے ابھی شیر خوار تھے [یا پیدا ہی نہیں ہوئے تھے]۔اس لیے اس وقت میں مکہ مکرمہ میں ان میں سے کوئی ایک بھی نہیں تھا۔اور اگر مان لیجیے کہ یہ لوگ موجود بھی تھے تو تب بھی یہ حضرات عبداللہ؛ عبیداللہ اور فضل تھے۔ اس لیے کہ قُثم بن عباس کی پیدائش بعد میں ہوئی ہے۔ان بھائیوں میں سب سے بڑے حضرت فضل رضی اللہ عنہ ہیں ۔ اور ان ہی کے نام پر حضرت عباس رضی اللہ عنہ کی کنیت بھی رکھی گئی تھی۔جب کہ عبد اللہ کی پیدائش شعب ابی طالب میں اس آیت کے نزول کے بعد ہوئی ہے : ﴿وَاَنْذِرْ عَشِیْرَتَکَ الْاَقْرَبِیْنَ ﴾ ’’ اور اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈرائیے۔‘‘

ہجرت کے وقت ان کی عمر بمشکل تین یا چار سال تھی۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مبارک میں حضرت عباس رضی اللہ عنہ کے ہاں صرف فضل؛ عبد اللہ اور عبید اللہ پیدا ہوئے تھے۔ باقی ساری اولادنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد پیدا ہوئی ہے۔

جب کہ حارث اور ابو لہب کے بیٹوں کی تعداد کم تھی۔ حارث کے دو بیٹے تھے: ابو سفیان، ربیعہ ۔ان دونوں نے بہت بعد میں اسلام قبول کیا ۔ ان کا شمار فتح مکہ کے موقع پر اسلام قبول کرنے والوں میں ہوتا ہے۔

ایسے ہی ابو لہب کے بیٹوں نے بھی فتح ِمکہ کے موقع پر اسلام قبول کیا تھا۔ ابو لہب کے بھی تین بیٹے تھے ۔ان میں سے دو نے اسلام قبول کیاتھا ؛ عتبہ اور مغیث نے۔جب کہ عتیبہ پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بددعا کی تھی کہ اسے کتا کھاجائے۔تو اسے بلادِ شام میں ’’زرقاء‘‘ کے علاقہ میں ایک درندے نے پھاڑ ڈالا تھا۔اور وہ حالت کفر میں مردار ہوا۔ [کتاب الفصولِ فِی اختِصارِ سِیرۃِ الرسولِ لِابن کثِیر، والحدیث رواہ الحاکِم وابن ِسحاق مِن طرق صحِیح مسند، انظر نسِیم الرِیاضِ شرح ِکتابِ الشِفائِ 3؍126 ولم أجِدِ الحدیث فِی سِیرِۃ ابنِ ہِشام وہو فِی المستدرکِ لِلحاکِمِ 2؍539 ؛ فِی تفسِیرِ سورۃِ أبِی لہب۔]

تمام بنو عبد المطلب کی تفصیل ہے جو کہ اس اس وقت میں چوبیس تک پہنچتے تھے۔ توپھر چالیس کیسے ہو گئے؟

پنجم:....شیعہ کا یہ قول کہ ’’ [بنو ہاشم بڑے پیٹو تھے]ان میں سے ایک آدمی پورا بکرا کھا جاتا اور لسی کا پورا مشکیزہ پی جاتا۔‘‘ یہ ان لوگوں پر صاف جھوٹ ہے۔ بنو ہاشم بسیار خوری کے مرض کا شکار نہ تھے بلکہ ان میں ایک آدمی بھی ایسا نہ تھا جو پورا بکرا کھالیتا ہواور ایک مشکیزہ [دودھ یا لسی ]پی لیتا ہو ۔ 

ششم: ....[اس روایت کے الفاظ رکیک ہیں ، جن کی بنا پر دل اس کے باطل ہونے کی شہادت دیتا ہے]۔ اس میں مذکور ہے کہ آپ نے پوری جماعت[ چالیس آدمیوں ] کو یہ پیش کش کی تھی کہ جو کوئی میری اس دعوت کو قبول کرے گا اور اس کی دعوت و تبلیغ میں میری مدد کرے گا وہ میرابھائی اور میرا وزیر؛ میرا وصی اور میرے بعد میرا خلیفہ ہوگا۔‘‘[فرض کیجیے کہ اگر وہ سب آدمی اس دعوت کو قبول کرلیتے تو ان میں سے خلیفہ کون قرار پاتا؟]

صفحہ 3 از 6