باب سوم :....تیسرا منہج : امامت حضرت علی رضی اللہ عنہ پر…

باب سوم :....تیسرا منہج : امامت حضرت علی رضی اللہ عنہ پر احادیث نبویہ سے استدلال

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 4 از 6

یہ روایت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر محض ایک جھوٹ باندھا گیا ہے۔ایسی روایات کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کرنا کسی طرح بھی جائز نہیں ۔اور نہ ہی صرف کلمہ طیبہ کا اقرار کرنے اور مدد گار بننے سے کوئی خلیفہ بننے کا مستحق ہوجاتا ہے۔اس لیے کہ تمام وہ لوگ جنہوں نے اسلام قبول کیا انہوں نے اس کلمہ کا اقرار کیا اور پھر اس کی اشاعت و تبلیغ کی خاطر قربانیاں دیں ۔ اور اس کی خاطر اپنی جانوں اور اموال کا نذرانہ پیش کیا۔ اپنا گھر بار چھوڑا؛ اپنے سگے بھائیوں [اور رشتہ داروں ]سے دشمنی مول لی؛ اور جدائی و ہجر کے صدموں پر صبر کیا۔ غلبہ و عزت کے بعد اس کلمہ کی خاطر ذلت برداشت کی۔ مالدار ہونے کے باوجود تنگ دستی اور غربت کو برداشت کیا۔ وسعتوں کے بعد تنگی و پریشانی کو قبول کیا۔ اس بارے میں ان حضرات کرام کے واقعات بڑے ہی مشہور و معروف ہیں ۔ مگر اس کے باوجود ان میں سے کوئی آپ کا خلیفہ بننے کا دعویدار نہ ہوا۔

نیز یہ بھی ہے کہ فرض کیجیے : اگر وہ سب آدمی یا ان کی ایک بڑی اکثریت اس دعوت کو قبول کرلیتے تو ان میں سے خلیفہ کون قرار پاتا؟کیا بغیر کسی سبب[و موجب] کے کسی ایک کو خلیفہ مقرر کیا جاسکتا تھا؟ یا پھر ان تمام کو ایک ہی وقت میں خلفاء مقرر کردیا جاتا؟ اس لیے کہ وصیت و خلافت اور بھائی چارگی اور مددتو ایک انتہائی آسان کام کے ساتھ مشروط کی گئی ہے یعنی شہادتین کا اقرار کرنا؛ اور اس کلمہ کی بنیاد پر نصرت و تعاون کرنا۔

کوئی بھی مؤمن ایسا نہیں ہے جو اللہ تعالیٰ پر ؛اس کے رسول پر اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو ؛مگراس کا اس کلمہ طیبہ میں وافر حصہ موجود ہوتا ہے ؛ اور جس کے لیے کلمہ طیبہ میں کوئی حصہ نہیں وہ منافق ہے۔ [جب معاملہ ایسے ہی ہے ] تو پھر اس قسم کے کلام کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کیوں کر منسوب کیا جاسکتا ہے ؟

ہفتم:....حضرت حمزۃ ؛ عبیدۃ بن حارث اور جعفر رضی اللہ عنہم نے بھی حضر ت علی رضی اللہ عنہ کی طرح اسلام قبول کیا تھا؛انہوں نے شہادتین کا اقرار کیا اور اس کلمہ طیبہ کی نشرو اشاعت میں معاون و مددگار بنے۔ان کا شمار بھی ان سابقین اولین میں ہوتا ہے جو شروع شروع میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پرایمان لائے۔ بلکہ حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ اس وقت اسلام لائے جب اہل ایمان کی تعداد چالیس کو بھی نہیں پہنچ پائی تھی۔ اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دار ارقم بن ارقم میں بیٹھا کرتے تھے۔اور وہیں پر اپنے صحابہ کرام کے ساتھ جمع ہوتے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور سارے بنو عبد المطلب ایک ہی گھر میں جمع نہیں ہوا کرتے تھے ۔ اس لیے کہ ابو لہب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بہت زیادہ دشمنی کیا کرتا تھا۔ جب شعب ابی طالب میں بنو ہاشم کا محاصرہ کیا گیا تو ابو لہب ان لوگوں کے ساتھ اس گھاٹی میں داخل نہیں ہوا تھا۔ 

ہشتم:....یہ کہ بخاری و مسلم میں اس آیت کی شان نزول کچھ اور بیان ہوئی ہے۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ اور حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے جو حدیث مروی ہے اس سے اس کی تردید ہوتی ہے، فرماتے ہیں : 

’’جب آیت کریمہ﴿وَاَنْذِرْ عَشِیْرَتکَ الْاَقْرَبِیْنَ﴾ نازل ہوئی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش کو جمع کرکے ان سے اجتماعی اور انفرادی طور پر بات چیت کی۔ آپ نے فرمایا :

’’ اے بنی کعب بن لوئی! اپنی جانیں دوزخ سے بچالو۔

اے بنو مرہ بن کعب ! اپنی جانیں دوزخ سے بچالو۔

اے بنی عبد شمس! اپنی جانیں دوزخ سے بچالو۔

اے بنو عبد مناف ! اپنی جانیں دوزخ سے بچالو۔

اے بنو ہاشم ! اپنی جانیں دوزخ سے بچالو۔

اے بنی عبد المطلب! اپنی جان دوزخ سے بچالو۔

اے فاطمہ بنت محمد ! اپنی جان دوزخ سے بچالے۔ میں تم سے عذاب الٰہی کو روک نہیں سکوں گا تاہم قرابت داری کا حق ادا کرتا رہوں گا۔‘‘[صحیح بخاری، کتاب التفسیر، سورۃ الشعراء، (حدیث:۴۷۷۱)، صحیح مسلم، کتاب الایمان۔ باب فی قولہ تعالی﴿ وَاَنْذِرْ عَشِیْرَتَکَ الْاَقْرَبِیْنَ﴾ (حدیث:۲۰۴)، واللفظ لہ۔ ]

بخاری و مسلم میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب زیر تبصرہ آیت نازل ہوئی تو آپ نے فرمایا:

’’ اے گروہ قریش! اپنے آپ کو عذاب الٰہی سے بچالو میں تمہاری کچھ مدد نہیں کر سکوں گا۔ اے بنی عبد المطلب! میں تمہاری کچھ مدد نہیں کر سکوں گا۔اے میری پھوپھی صفیہ ! میں تمہاری کچھ مدد نہیں کر سکوں گا۔اور اے میری بیٹی فاطمہ! تم میرا مال جتنا چاہو لے لو، میں تمھیں عذاب الٰہی سے نہیں چھڑا سکوں گا۔‘‘[البخاری، کتاب الوصایا، باب ھل یدخل النساء والولد فی الاقارب (ح: ۲۷۵۳)،مسلم ، کتاب الایمان باب فی قولہ تعالی﴿ وَاَنْذِرْ عَشِیْرَتَکَ الْاَقْرَبِیْنَ﴾ ( ح:۲۰۶)۔ ]

امام مسلم نے یہ روایت ابن المخارق اور زہیر بن عمرو کی سند سے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے نقل کی ہے ۔ اس میں ہے کہ آپ نے صفا پہاڑی پر کھڑے ہوکر یہ اعلان فرمایا۔ اور قبیصہ کی روایت میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کوہ صفا پر کھڑے ہو کر یہ الفاظ ارشاد فرمائے تھے۔‘‘[مسلم ، کتاب الایمان۔ باب فی قولہ تعالی﴿ وَاَنْذِرْ عَشِیْرَتَکَ الْاَقْرَبِیْنَ﴾ (ح:۲۰۵)]

حدیث قبیصہ میں ہے:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پہاڑ کے سب سے بلند پتھر پر کھڑے ہوئے اور پھر آواز دی اے عبدمناف کے بیٹو! میں تمہیں عذاب سے ڈرا رہا ہوں ۔‘‘ میری اور تمہاری مثال اس آدمی کی طرح ہے جس نے دشمن کو دیکھا ہو اور وہ دشمن سے اپنے گھر والوں کو بچا نے کی لیے دوڑ پڑا ہو؛ اور اس ڈر سے کہ کہیں دشمن اس سے پہلے نہ پہنچ جائے اس نے بلند آواز سے پکارا :’’یا صباحاہ۔‘‘[ خبردار آگاہ ہوجاؤ دشمن سے؛ یعنی اللہ کا عذاب آرہا ہے]۔ 

ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :’’ جب یہ آیت کریمہ نازل ہوئی [[اور اپنے قریبی رشتہ داروں کو اور اپنی قوم کے مخلص لوگوں کو بھی ڈرائیے]] تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کوہ صفا پر چڑھے اور بلند آواز کے ساتھ فرمایا :’’یا صباحاہ‘‘ سنو آگاہ ہوجاؤ۔‘‘

لوگوں نے کہا کہ یہ کون آواز لگا رہا ہے؟ تو سب کہنے لگے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم آواز لگا رہے ہیں ۔

صفحہ 4 از 6