باب سوم :....تیسرا منہج : امامت حضرت علی رضی اللہ عنہ پر…

باب سوم :....تیسرا منہج : امامت حضرت علی رضی اللہ عنہ پر احادیث نبویہ سے استدلال

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 5 از 6

تو سب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف جمع ہوگئے ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

’’اے فلاں کے بیٹو!اے عبد مناف کے بیٹو! اے عبدالمطلب کے بیٹو!

اور ایک روایت میں ہے : آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

’’اے عدی کے بیٹو!اے فہر کے بیٹو! اے فلاں کے بیٹو!قریش کی مختلف شاخوں کے نام لیے۔ تو ایسے ہوا کہ جو آدمی خود حاضر نہیں ہوسکتا تھا تو اس نے معاملہ کی چھان بین کے لیے اپنی جگہ آدمی بھیجا۔ جب وہ سب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جمع ہوگئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

’’ تمہارا کیا خیال ہے کہ اگر میں تمہیں خبر دوں کہ اس پہاڑ کے پیچھے ایک گھڑ سوار لشکر ؛ تو کیاتم میری تصدیق کرو گے؟

تو سب لوگوں نے کہا کہ:’’ ہم نے تو کبھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جھوٹا نہیں پایا۔‘‘

تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ میں تمہیں بہت سخت عذاب سے ڈرا رہا ہوں ۔‘‘

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ابولہب نے کہا کہ:

(تبا لک أما جمعتنا ِإلا لِہذا؟)

تمہارے لیے تباہی ہو کیا تم نے ہمیں صرف اس بات کے لیے جمع کیا تھا۔ تو اس موقع پر یہ سورت نازل ہوئی:

﴿تَبَّتْ یَدَا اَبِیْ لَہَبٍ وَّتَبَّ﴾ [المسد:۱]

’’ ٹوٹ گئے ابولہب کے دونوں ہاتھ اور وہ خود بھی ہلاک ہوجائے۔‘‘

اور ایک روایت میں ہے کہ جب قریش آپ کے پاس جمع ہوگئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

’’ تمہارا کیا خیال ہے کہ اگر میں تمہیں خبر دوں کہ دشمن صبح و شام کسی بھی وقت تم پر حملہ کرنے والا ہے ؛ تو کیاتم میری تصدیق کرو گے؟

تو سب لوگوں نے کہا کہ:’’کیوں نہیں ضرور ۔‘‘[البخاری کتاب التفسیر ؛ سورت سبأ ؛ کتاب التفسیر سورۃ تبت یدا أبي لھب و تب]

اگر یہ کہا جائے کہ یہ حدیث مفسرین اور مصنفین کی ایک جماعت نے فضائل کی کتابوں میں نقل کی جائے؛ جیسا کہ ثعلبی اور بغوی اور ان کے امثال اورمغازلی وغیرہ ۔

تو اس کا جواب یہ ہے کہ : ان حضرات کا صرف کسی حکایت کو روایت کر لینا حدیث کے ثبوت کو واجب نہیں کرسکتا؛ اس پر حدیث کا علم رکھنے والے تمام حضرات کا اتفاق ہے۔اس لیے کہ باتفاق اہل علم ان حضرات کی کتابوں میں موضوع روایات تک پائی جاتی ہیں ۔ یعنی ان کے موضوع اور من گھڑت ہونے پر اہل علم حضرات کا اتفاق ہے۔ اور بہت ساری چیزیں ایسی ہیں جن کے بارے یقینی سمعی اور عقلی دلائل کی روشنی میں معلوم ہوتا ہے کہ یہ جھوٹ اور من گھڑت روایات ہیں ۔صرف یہی نہیں ؛بلکہ ان کا جھوٹ ہونا اضطراری طور پر معلوم ہوتا ہے۔

ثعلبی اور اس کے امثال جان بوجھ کر جھوٹ نہیں بولتے۔ بلکہ ان میں اتنی خیر و دین داری ضرور ہے جو انہیں ایسی بھونڈی حرکت سے باز رکھ سکے۔ لیکن یہ حضرات جو کچھ دوسری کتابوں میں پاتے ہیں اسے نقل کردیتے ہیں ۔ اور ان میں سے کسی ایک کو بھی احادیث کی اسانید میں ایسی مہارت نہیں ہے جیسی مہارت ائمہ حدیث جیسے : شعبہ ؛ یحییٰ بن سعید القطان؛ عبدالرحمن بن مہدی؛ أحمد بن حنبل ؛ وعلی بن المدینی، ویحی بنِ معِین، واسحاق، ومحمد بن یحی الذہلی، البخاری، مسلم، وأبو داود، والنسائی، وابو حاتِم ؛وابو زرعہ الرازِیینِ، وابو عبد اللہ بن مندہ، اور دارقطنِیِ اور ان کے امثال و ہمنوا دوسرے محدثین کرام؛ جو کہ حدیث کے امام اور نقاد حکام ہیں ۔اوروہ محافظین دین ہیں جنہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے احوال کی مکمل معرفت اور معلومات ہیں ؛ اور ان لوگوں کے احوال سے بھی آگاہ ہیں جنہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث مبارکہ کا علم صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور تابعین اور تبع تابعین سے اور ان کے بعد آنے والے اس علم کے نقل کرنے والوں سے یہ علم وراثت میں پایا ۔

علوم الحدیث و الآثار نقل کرنے والے رجال کے احوال کی معرفت حاصل کرنے ان کے متعلق بہت ساری کتابیں تحریر کی گئی ہیں ؛ جن میں ان تمام حضرات کے نام ؛ اور ان کے حالات و واقعات ہیں اور ان لوگوں کے احوال بھی ہیں جن سے انہوں نے یہ علم حاصل کیا ہے؛ اور پھر آگے ان حضرات سے جن لوگوں نے اس علم کو دوسروں تک نقل کیا ہے۔ مثال کے طور پر ’’ کتاب العلل و أسماء الرجال۔‘‘

عن یحی القطان ؛ ابن المدینی اور احمد اور ابن معین اور بخاری او رمسلم ؛ ابو زرعہ اور ابو حاتم اور نسائی ؛ ترمدی ؛ أحمد بن عدی؛ ابن حبان؛ ابو الفتح الازدی؛ دارقطنی اور دوسرے حضرات ۔ [انہوں نے اس موضوع پر قلم اٹھایا ہے]۔

تفسیر ثعلبی میں موضوع احادیث بھی ہیں او رصحیح احادیث بھی۔ موضوع احادیث میں سے وہ روایات بھی ہیں جو انہوں نے ہر ایک سورت کے فضل میں نقل کی ہیں۔

ایسے ہی یہ روایات زمحشری او رواحدی نے بھی نقل کی ہیں ۔ حالانکہ ان کے موضوع اور من گھڑت ہونے پر ائمہ حدیث کا اتفاق ہے۔ ایسے ان کے علاوہ دیگر روایات بھی ہیں [جن کا یہی حال ہے]۔

ایسے ہی واحدی کا حال بھی ہے؛وہ ثعلبی کا شاگرد ہے۔ اور بغوی نے اپنی تفسیر ثعلبی اورواحدی کی تفاسیر سے مختصر کی ہے ۔یہ دونوں حضرات بغوی رحمہ اللہ کی نسبت اقوال مفسرین کے زیادہ ماہر ہیں ۔ واحدی عربی زبان کا ان دونوں سے بڑا ماہر ہے۔اوربغوی رحمہ اللہ کے ہاں ان دونوں کی نسبت سنت کی اتباع زیادہ پائی جاتی ہے۔

لیکن کسی انسان ؍عالم کا ان جمہور میں سے ہونا جو خلفائے ثلاثہ کی خلافت کا اعتقاد رکھتے ہیں یہ واجب نہیں کرتا کہ جو بات بھی وہ روایت کرتا ہے ؛ وہ صرف سچ ہی ہوسکتی ہے۔ جیسا کہ کسی کے شیعہ ہونے سے یہ واجب نہیں ہوجاتا کہ اس نے جو بھی روایت کیا ہے؛ وہ سب جھوٹ ہے۔ بلکہ اس کے لیے اعتبار میزان عدل ہے۔

لوگوں نے اصول و احکام ؛اور زہد و فضائل میں بہت ساری احادیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹی گھڑ رکھی ہیں ۔ اور بہت ساری احادیث خلفائے اربعہ اور حضرت امیر معاویہ ۔رضی اللہ عنہم ۔کے فضائل میں اپنی طرف سے گھڑ رکھی ہیں ۔

صفحہ 5 از 6