باب سوم :....تیسرا منہج : امامت حضرت علی رضی اللہ عنہ پر…

باب سوم :....تیسرا منہج : امامت حضرت علی رضی اللہ عنہ پر احادیث نبویہ سے استدلال

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 6 از 6

بعض لوگوں کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ اس باب میں جو کچھ بھی اس میں سے صحیح اور ضعیف کا فرق کیے بغیر روایت کر لیا جائے ۔جیسا کہ فضائل خلفاء میں ابو نعیم نے کیاہے۔ اور یہی حال ان دوسرے مصنفین کا بھی ہے جنہوں نے فضائل میں کتابیں تصنیف کی ہیں ۔ مثال کے طور پر جو کچھ ابو الفتح بن ابو الفوارس نے اور ابو علی الاہوازی نے اور ان کے علاوہ دوسرے لوگوں نے حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے فضائل میں جمع کر رکھا ہے۔ اور جیسا کہ امام نسائی رحمہ اللہ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے فضائل میں جمع کیا ہے؛ اور ایسی ہی ابو القاسم ابن عساکر نے جو کچھ حضرت علی رضی اللہ عنہ اوردیگر حضرات کے فضائل میں جمع کیا ہے۔ ان حضرات کا مقصد یہ تھا کہ جوکچھ انہوں نے سنا ہے ؛ اس سب کو نقل کردیا جائے قطع نظر اس بات کے کہ اس میں سے کیا صحیح ہے اور کیا ضعیف ۔ پس ان حضرات میں سے کسی ایک کے روایت نقل کرنے کی وجہ اس کے سچا ہونے کی تصدیق کرنا کسی طرح بھی جائز نہیں ہے ؛ اس پر تمام اہل حضرات کا اتفاق ہے۔

جو کوئی مصنفین اصول یا فقہ میں یا زہد و رقائق میں میں بغیر سند کے حدیث ذکر کرتے ہیں ؛تو یہ حضرات ان کا مسئلہ یہ ہے کہ یہ دوسری کئی ایسی احادیث بیان نہیں کرتے جو کہ صحیح سند سے ثابت ہیں ۔ اور ان میں سے بہت سارے حضرات ضعیف اور موضوع روایات تک نقل کرتے ہیں ۔ جیسا کہ رقائق اور رائے کے علاوہ دوسری کتابوں میں پایا جاتا ہے۔


صفحہ 6 از 6