فصل:....[امامت حضرت علی رضی اللہ عنہ کی دوسری حدیث] - ردِ…

فصل:....[امامت حضرت علی رضی اللہ عنہ کی دوسری حدیث]

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 1 از 5

فصل:....[امامت حضرت علی رضی اللہ عنہ کی دوسری حدیث]

[ اشکال] :شیعہ مصنف لکھتا ہے:’’امامت حضرت علی رضی اللہ عنہ کے اثبات میں دوسری حدیث یہ ہے کہ جب آیت کریمہ ﴿ یٰٓاَیُّہَا الرَّسُوْلُ بَلِّغْ مَا اُنْزِلَ اِلَیْکَ مِنْ رَّبِّکَ﴾ (المائدہ:۶۷) ’’اے رسول جو کچھ آپ پر آپ کے رب کی طرف سے نازل ہوا ہے ‘ اسے آگے پہنچادیجیے ۔‘‘ نازل ہوئی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے غدیر خم کے مقام پر خطبہ دیتے ہوئے مجمع عام میں اعلان فرمایا:’’ اے لوگو! کیا میں تمھیں تمہاری جانوں کی نسبت زیادہ قریب نہیں ؟ انھوں نے کہا: کیوں نہیں [ضرور آپ ہمیں اپنی جانوں سے بھی زیادہ محبوب ہیں ] آپ نے فرمایا ’’جس کا میں مولیٰ ہوں علی بھی اس کے مولیٰ ہیں ۔ اے اللہ ! جو علی سے دوستی رکھے، اس سے دوستی رکھ اور جو علی سے عداوت رکھتا ہو اس سے عداوت رکھ، جو اس کی مدد کرے تو بھی اس کی مدد کر اور جو اسے تنہا چھوڑ دے تو بھی اسے تنہا چھوڑ دے۔‘‘ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ’’بڑی خوشی کی بات ہے آپ(حضرت علی) میرے اور سب مومن مردوں اور عورتوں کے مولیٰ ہیں ۔‘‘

سابقہ تقریر سے معلوم ہوتا ہے کہ یہاں پر مولی سے مراد تصرف میں اولویت[یعنی اولیت] رکھنے والا ہے۔ کیونکہ اس سے پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے پوچھا تھا: کیا میں تمھیں تمہاری جانوں کی نسبت زیادہ قریب نہیں ؟‘‘[انتہی کلام الرافضی]

جواب:ہم قبل ازیں یہ واضح کرچکے ہیں کہ یہ روایت محض جھوٹ ہے۔ اس لے کہ یہ آیت کریمہ ﴿بَلِّغْ مَا اُنْزِلَ اِلَیْکَ مِنْ رَّبِّکَ﴾حجۃ الوداع سے بہت عرصہ پہلے نازل ہوئی ہے ۔جب کہ غدیر خم کا واقعہ حجۃ الوداع سے واپس آتے ہوئے ۱۸ ذوالحجہ کو پیش آیا ۔ اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تقریباً اڑھائی ماہ کا عرصہ حیات رہے۔ اور یہ بات سبھی جانتے ہیں کہ سورت مائدہ کی آخر میں نازل ہونے والی آیت : ﴿ اَلْیَوْمَ اَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیْنَکُمْ وَ اَتْمَمْتُ عَلَیْکُمْ نِعْمَتِیْ﴾ ہے ۔یہ آیت نوذوالحجہ کو عرفات کے موقع پر نازل ہوئی ۔اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میدان عرفات میں وقوف کیے ہوئے تھے۔ جیساکہ صحاح اور سنن میں یہ روایت ثابت ہے۔ اور تمام اہل علم مفسرین و محدثین کا اس پر اتفاق ہے ۔ 

غدیر خم کا واقعہ اس آیت کے نزول کے نو دن بعد مدینہ واپس جاتے ہوئے راستہ میں پیش آیا۔ تو پھر کیسے یہ کہا جاسکتا ہے کہ یہ آیت اس مذکورہ بالا آیت ﴿بَلِّغْ مَا اُنْزِلَ اِلَیْکَ مِنْ رَّبِّکَ﴾ اس کے بعد نازل ہوئی؟ اہل علم کا اس میں کوئی اختلاف نہیں کہ یہ آیت [اس آیت ﴿ اَلْیَوْمَ اَکْمَلْتُ لَکُمْ ....﴾سے]بہت پہلے نازل ہوئی ہے ۔ بلکہ یہ مدینہ طیبہ میں شروع شروع کے ایام میں نازل ہونے والی آیات میں سے ایک ہے۔ اس لیے کہ یہ سورت مائدہ کی آیت ہے جس میں شراب کے حرام ہونے کا بھی حکم ہے۔ اور شراب کی حرمت غزوہ احد کے بعد ہوئی ہے۔ ایسے ہی اس سورت میں اہل کتاب کے مابین حکم اور فیصلہ کرنے کا بیان ہے ۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : ﴿فَاِنْ جَآئُ وْکَ فَاحْکُمْ بَیْنَہُمْ اَوْ اَعْرِضْ عَنْہُمْ﴾[المائد ۃ۴۲]

’’ اگروہ آپ کے پاس حاضر ہوں تو ان کے مابین فیصلہ کیجیے ؛ یا پھر ان سے منہ موڑ لیجیے ۔‘‘

یہ آیت یا تو اس وقت نازل ہوئی جب دو یہودیوں کو [زناکے جرم میں ] رجم کیا گیا تھا؛ یا پھر بنو قریظہ اور بنو نضیر میں خون کے جھگڑے کے بارے میں نازل ہوئی۔

یہودیوں کے رجم کا واقعہ مدینہ طیبہ کے شروع شروع کے ایام میں پیش آیا ۔ ایسے ہی بنی نضیر اور بنو قریظہ کا واقعہ بھی شروع ایام مدینہ کا ہے۔ اس لیے کہ بنو نضیر کو غزوہ خندق سے قبل جلا وطن کردیا گیا تھا ؛ اور بنو قریظہ کو غزوہ خندق کے بعد قتل کر دیا گیا ۔ اوراس بات پر تمام اہل علم کا اتفاق ہے کہ غزوہ خندق کا واقعہ صلح حدیبیہ اور غزوہ خیبرسے پہلے پیش آیا تھا۔ یہ تمام تر واقعات فتح مکہ اور غزوہ حنین سے پہلے کے ہیں ۔ اور غزوہ حنین اور فتح مکہ حجۃ الوداع سے پہلے ہے ؛ اور حجۃ الوداع غدیر خم سے پہلے ہے۔ پس اب جو کوئی انسان کہے کہ سورت مائدہ کی کوئی آیت غدیر خم کے بارے میں نازل ہوئی ہے‘ تو ایسا انسان باتفاق اہل علم جھوٹا اور دروغ گو ہے۔

ایسے ہی اس آیت کے سیاق میں اللہ تعالیٰ نے فرمایاہے:[صحیح بخاری، کتاب الایمان، باب زیادۃ الایمان ونقصانہ (حدیث:۴۵)، صحیح مسلم، کتاب التفسیر، باب فی تفسیر آیات متفرقۃ،(حدیث:۳۰۱۷)۔]

﴿یٰٓاَیُّہَا الرَّسُوْلُ بَلِّغْ مَآ اُنْزِلَ اِلَیْکَ مِنْ رَّبِّکَ وَ اِنْ لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَہٗ وَ اللّٰہُ یَعْصِمُکَ مِنَ النَّاسِ﴾ [المائد ۃ ۶۷]

’’اے رسول! پہنچا دیجیے جو کچھ آپ کی طرف آپ کے رب کی جانب سے نازل کیا گیا ہے اور اگرآپ نے ایسا نہ کیا تو آپ نے اس کا پیغام نہیں پہنچایا اور اللہ آپ کو لوگوں سے بچائے گا۔‘‘

اس آیت مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تبلیغ رسالت پر لوگوں کے شر سے محفوظ رکھنے کی ضمانت دی ہے؛ تا کہ آپ دشمنوں کے خطرات سے پر امن ہوکراپنافریضہ سرانجام دے سکیں ۔روایات میں آیا ہے کہ اس آیت کے نازل ہونے سے قبل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت کی جاتی تھی۔ جب یہ آیت نازل ہوئی تو محافظین ہٹالیے گئے۔‘‘[سنن الترمذی ۴؍۳۱۷ ؛ کتاب تفسیر القرآن باب سورۃ المائدۃ ؛اس سے قبل پہریدار پہرہ دیا کرتے تھے۔ جب یہ آیت نازل ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبہ سے سر مبارک باہر نکال کر ارشاد فرمایا : ’’ اے لوگو! آپ چلے جاؤ؛ اللہ تعالیٰ نے میری حفاظت کی ذمہ داری لے لی ہے۔ امام ترمذی فرماتے ہیں : ’’ یہ حدیث حسن غریب ہے ۔‘‘ ]

یہ واقعہ یقینی طور پر فریضہ تبلیغ کے مکمل ہونے سے پہلے کا ہے۔ حجۃ الوداع کے موقع پر تبلیغ کا فریضہ مکمل ہوگیا تھا۔

حجۃ الوداع کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ اعلان فرمایا تھا:

’’ اے لوگو! کیا میں نے تم تک اللہ تعالیٰ کا دین پہنچادیا ؟ کیا میں نے رسالت کا حق ادا کردیا ؟

تو سب لوگوں نے یک زبان ہوکر کہا : ہاں ۔

صفحہ 1 از 5