فصل:....[امامت حضرت علی رضی اللہ عنہ کی دوسری حدیث] - ردِ…

فصل:....[امامت حضرت علی رضی اللہ عنہ کی دوسری حدیث]

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 2 از 5

پھر آپ نے فرمایا: اے اللہ ! اس پر گواہ رہنا ۔ اور لوگوں سے مخاطب ہوکر فرمایا :

’’ اے لوگو! میں تم میں دو چیزیں چھوڑ کر جارہا ہوں ؛ اگر تم ان دونوں کو مضبوطی سے پکڑے رہوگے تو کبھی گمراہ نہیں ہوگے۔ ان میں سے ایک چیزہے ‘ اللہ تعالیٰ کی کتاب۔ اے لوگو! تم سے میرے بارے میں سوال کیا جائے گا پس تم اس کا کیا جواب دو گے؟ لوگوں نے عرض کیا : ’’ ہم گواہی دیں گے کہ آپ نے اللہ کا پیغام پہنچادیا ‘ اور اس کی امانت ادا کردی اور امت کی خیر خواہی کا حق ادا کردیا ۔‘‘پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی انگشت شہادت کو کبھی آسمان کی طرف اٹھاتے اور پھر کبھی زمین کی طرف موڑ لیتے اور فرماتے : ’’ اے اللہ گواہ رہنا ؛ اے اللہ گواہ رہنا ۔‘‘

یہ الفاظ صحیح مسلم میں حضرت جابر رضی اللہ عنہ کی روایت سے منقول ہیں ۔ [مسلم ۲؍۸۹۰]

نیز آپ نے یہ بھی ارشاد فرمایا کہ : ’’ پس چاہیے کہ حاضرین غائبین تک یہ پیغام پہنچائیں ۔ پس بہت سارے وہ لوگ جن تک پیغام پہنچایا جاتا ہے وہ سننے والے سے زیادہ یاد کرنے والے ہوتے ہیں ۔‘‘ [البخاری ۲؍۱۷۶]

پس اس سے ظاہر ہوا کہ جس عصمت و حفاظت کی ضمانت آیت کریمہ میں ہے ‘ وہ اس دعوت و تبلیغ کے وقت موجود تھی۔ تو پھر ایسا نہیں ہوسکتا کہ یہ آیت حجۃ الوداع کے بعد نازل ہوئی ہو ۔ اس لیے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پہلے اپنی تبلیغ کو مکمل کر دیا تھا۔ اور اس لیے بھی کہ حجۃ الوداع کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کسی بشر کی جانب سے کسی طرح کا خوف و اندیشہ باقی نہیں رہا تھاجس کی وجہ سے آپ کو عصمت و حفاظت کی ضرورت ہو۔بلکہ فتح مکہ کے بعد اہل مکہ ؛ اہل مدینہ اور ان کے اردگرد کے لوگ اور[ باقی گروہ] مسلمان ہوکر آپ کی اطاعت میں داخل ہو چکے تھے ؛ ان میں کوئی ایک بھی کافر باقی نہیں بچا تھا۔ منافق انتہائی ذلت و رسوائی کا شکار اور اپنے نفاق کو چھپائے ہوئے تھے [انہیں کھل کر بات کرنے کی بھی ہمت نہیں ہوتی تھی]۔ ان میں سے کوئی ایک بھی ایسا نہیں تھا جس میں جنگ و جدال اور مقابلہ کی ہمت باقی ہو۔ اور نہ ہی ان میں سے کسی ایک سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کسی قسم کا کوئی خوف و اندیشہ باقی تھا۔ تو اس حالت میں یہ نہیں کہا جاسکتا کہ :

﴿یٰٓاَیُّہَا الرَّسُوْلُ بَلِّغْ مَآ اُنْزِلَ اِلَیْکَ مِنْ رَّبِّکَ وَ اِنْ لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَہٗ وَ اللّٰہُ یَعْصِمُکَ مِنَ النَّاسِ﴾ [المائدۃ ۶۷]

’’اے رسول! پہنچا دیجیے جو کچھ آپ کی طرف آپ کے رب کی جانب سے نازل کیا گیا ہے اور اگرآپ نے ایسا نہ کیا تو آپ نے اس کا پیغام نہیں پہنچایا اور اللہ آپ کو لوگوں سے بچائے گا۔‘‘

اس سے یہ بات تو ثابت ہوگئی کہ جو کچھ یوم غدیر خم کے موقع پر پیش آیا وہ ان امور میں سے نہیں تھا جن کی تبلیغ کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا گیا ہو۔ جیساکہ آپ نے حجۃ الوداع کے موقع پر تبلیغ کوپایہ تکمیل تک پہنچایا تھا۔ اس لیے کہ جن لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کیا تھا ان کی ایک بڑی تعداد بلکہ اکثریت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ واپس مدینہ نہیں پلٹی۔بلکہ اہل مکہ مکہ میں ہی رہ گئے؛ اہل طائف طائف واپس چلے گئے؛ اہل یمن یمن چلے گئے ؛ قریب کے دیہاتوں کے لوگ اپنے دیہاتوں کو واپس پلٹ گئے۔ آپ کے ساتھ وہی لوگ پلٹے جن کا تعلق مدینہ سے تھا یا پھر مدینہ کے قرب و جوار کے دیہاتوں کے رہنے والے تھے۔

اگر واقعی ایسے ہی ہوتا کہ جو کچھ غدیر خم کے موقع پر پیش آیا؛رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی تبلیغ کے لیے مامور تھے ؛ جیسا کہ آپ نے حجۃ الوداع کے موقع پر دعوت و تبلیغ کا فریضہ سر انجام دیا ؛ تو آپ اس انمول موقعہ سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ان امور کی تبلیغ بھی ضرور کرتے جیسے دوسرے امور کی تبلیغ کی تھی ۔ جب آپ نے حجۃ الوداع کے موقع پر امامت یا اس سے متعلقہ امور کا سرے سے ذکر تک ہی نہیں کیا ؛ اور نہ ہی کسی ایک عالم نے کسی صحیح یا ضعیف سند سے حجۃ الوداع کے موقع پر امامت حضرت علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں کچھ ذکر کیا ؛ بلکہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اپنے نقل کردہ خطبہ میں بھی امامت کا کہیں بھی کوئی تذکرہ نہیں کیا ۔ حالانکہ یہ وہ عام مجمع تھا جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کوتبلیغ کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔ اس سے معلوم ہوا کہ امامت حضرت علی رضی اللہ عنہ کا معاملہ ان امور میں سے نہیں تھا جن کی تبلیغ کا عام حکم ہو۔ بلکہ اس حوالے سے حدیث موالات اور حدیث ثقلین کی بھی کوئی خاص اہمیت نہیں ؛ اس لیے کہ ان میں کہیں بھی امامت کا ذکر نہیں ہے۔

وہ حدیث جسے امام مسلم رحمہ اللہ نے روایت کیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے غدیر خم کے موقع پر خطبہ دیتے ہوئے فرمایا :

’’ میں تم میں دو چیزیں چھوڑے جارہا ہوں ؛ ایک ہے کتاب اللہ ۔ پھر آپ نے کتاب اللہ کا ذکر کیا اور اس کی خوب ترغیب دلائی ؛ پھر آپ نے فرمایا :’’(دوسری چیز)میرے اہل بیت ہیں ، میں تم لوگوں کو اپنے اہل بیت کے بارے میں اللہ یاد دلاتا ہوں ،(آپ نے یہ کلمات تین بار ارشادفرمائے )۔‘‘

یہ روایت امام مسلم رحمہ اللہ کے تفردات میں سے ہے جسے امام بخاری رحمہ اللہ نے روایت نہیں کیا۔

سنن ترمذی کی روایت میں یہ الفاظ بھی زیادہ ہیں : ’’یہ دونوں اس وقت تک جدا نہیں ہوسکتے جب یہ میرے پاس حوض پر وارد نہ ہوجائیں ۔‘‘ [مسلم ۴؍۱۸۷۳؛ الترمذي ۵؍۳۲۸۔]

ان الفاظ کی زیادتی پر کئی ایک نقاد وحفاظ محدثین نے طعن و تنقید کی ہے۔ اور انہوں نے یہ فرمایاہے : ’’ یہ الفاظ حدیث کے نہیں ہیں ۔‘‘ لیکن جو لوگ اس روایت کے صحیح ہونے کا اعتقاد رکھتے ہیں وہ کہتے ہیں : اس سے مراد مجموع اہل بیت ہیں جو کہ تمام بنی ہاشم پر مشتمل ہیں ؛ ان تمام لوگوں کا گمراہی پر جمع ہونا محال ہے۔ اہل سنت والجماعت میں سے ایک جماعت کا یہی قول ہے۔ قاضی ابو یعلی رحمہ اللہ نے بھی اس روایت کا یہی جواب دیا ہے ۔

صفحہ 2 از 5