فصل:....[امامت حضرت علی رضی اللہ عنہ کی دوسری حدیث] - ردِ…

فصل:....[امامت حضرت علی رضی اللہ عنہ کی دوسری حدیث]

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 3 از 5

مسلم کی روایت کردہ حدیث میں اگرچہ یہ الفاظ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمائے ہیں ؛ تواس میں صرف کتاب اللہ کی اتباع کی وصیت ہے ‘ تو یہ ایسا معاملہ ہے جس کے متعلق وصیت اس سے پہلے حجۃ الوداع کے موقع پر گزر چکی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اہل بیت کی اتباع کرنے کا حکم نہیں دیا۔ لیکن آپ نے یہ ضرور ارشاد فرمایا :

(( اُذکِرکم اللّٰہ فِی أہلِ بیتِی ))۔

’’میں تم لوگوں کو اپنے اہل بیت کے بارے میں اللہ یاد دلاتا ہوں ۔‘‘

اس یاد دھانی کا تقاضا ہے کہ اس سے پہلے اہل بیت کے جو حقوق بیان کیے جا چکے ہیں ‘ انہیں ادا کیا جائے ‘ اور ان پر کسی بھی قسم کا ظلم کرنے سے اجتناب کیا جائے۔ اس کا بیان غدیر خم سے پہلے ہو چکا تھا۔

اس سے معلوم ہوا کیا غدیر خم کے موقع پر شریعت کا کوئی نیا حکم نازل نہیں ہوا ‘ نہ ہی حضرت علی رضی اللہ عنہ کے حق میں اور نہ ہی کسی دوسرے کے حق میں ۔ نہ ہی آپ کی امامت کے متعلق اور نہ ہی کسی دوسری چیز کے متعلق ۔

رہ گئی حدیث موالات ؛ توامام ترمذی اور امام احمد بن حنبل رحمہما اللہ نے مسند میں نقل کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

’’من کنت مولاہ فہذا علي مولاہ ۔‘‘’’جس کا میں مولا ہوں علی بھی اس کا مولا ہے۔ ‘‘[سنن الترمذي ۵؍۲۹۷۔ والمسند ۱۴؍۲۱۴۔ اور دوسرے مقامات پر۔]

روایت کے یہ زیادہ الفاظ ’’اللہم !وَالِ مَنْ وَّالَاہُ وَعَادِ مَنْ عَادَاہٗ ۔‘‘ بلاشبہ جھوٹ ہیں ۔ اَثرم نے سنن میں امام احمد رحمہ اللہ سے نقل کیا ہے کہ عباس نے امام احمد رحمہ اللہ سے دریافت کیا کہ حسین الاشقر[اس کا نام حسین بن حسن اشقر کوفی ہے اس کا ترجمہ میزان الاعتدال(۱؍۲۴۹) پر مذکور ہے بخاری فرماتے ہیں :’’ فیہ نظر‘‘ ابو زرعہ کہتے ہیں یہ منکر الحدیث ہے، ابو حاتم کہتے ہیں یہ ضعیف راوی ہے جوزجانی فرماتے ہیں یہ صحابہ کوگالیاں دیا کرتا تھا۔ یہ ۲۰۸ھ میں فوت ہوا۔‘‘ ]نے دو حدیثیں روایت کی ہیں ۔ ان میں سے ایک یہ کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا :

’’آپ کو مجھ سے اظہار بیزاری کرنے پر مجبور کیا جائے گا، مگر آپ مجھ سے بیزار نہ ہونا۔‘‘

دوسری مذکورہ صدر روایت : ’’اللّٰہم !وَالِ مَنْ وَّالَاہُ وَعَادِ مَنْ عَادَاہٗ ۔‘‘یہ سن کر امام احمد رحمہ اللہ نے ان حدیثوں کو تسلیم نہ کیا اور فرمایا کہ : ’’ان دونوں روایات کے جھوٹ ہونے میں کوئی شک نہیں ۔‘‘

ایسے ہی یہ روایت کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا :

’’ أنت أولی بکل مؤمن و مؤمنۃ ۔‘‘

’’ آپ ہر مؤمن مرد اور عورت کے لیے اس کی جان سے بھی زیادہ محبوب ہیں ۔‘‘محض جھوٹی روایت ہے ۔

رہ گئی یہ حدیث کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

’’ من کنت مولاہ فہذا علي مولاہ ۔‘‘’’جس کا میں مولا ہوں علی بھی اس کا مولا ہے ۔‘‘

یہ روایت صحاح میں سے نہیں ۔لیکن یہ ان روایات میں سے ہے جو بعض علماء نے نقل کی ہے ؛ مگر اس کے صحیح ہونے میں اختلاف ہے ۔ امام بخاری اور امام ابراہیم الحربی اور دوسرے اہل علم محدثین رحمہم اللہ سے نقل کیا گیا ہے کہ انہوں نے اس روایت پر تنقید کی ہے ‘ اور اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔ اور امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ سے نقل کیا گیا ہے کہ آپ اس حدیث کو حسن کا درجہ دیتے ہیں ۔ جیسا کہ امام ترمذی رحمہ اللہ نے بھی اسے حسن کہا ہے۔ ابو العباس بن عقدہ نے اس حدیث کی اسناد پر ایک کتاب بھی لکھی ہے۔

امام ابن حزم رحمہ اللہ فرماتے ہیں : فضائل حضرت علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں مندرجہ ذیل حدیثیں صحیح ہیں :

۱۔ آپ کو مجھ سے وہی نسبت ہے جو کہ حضرت ہارون کوحضرت موسیٰ علیہ السلام سے ہے بس یہ کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ۔[البخاری،باب مناقب علی رضی اللّٰہ عنہ (ح:۳۷۰۶)، مسلم، باب من فضائل علی بن ابی طالب(ح۲۴۰۴)۔]

۲۔ غزوۂ خیبر کے موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد کہ کل میں ایک شخص کو جھنڈا دوں گا جو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرتا ہوگا ‘ اور جس سے اللہ اور اس کا رسول محبت کرتے ہوں گے۔‘‘[صحیح بخاری،حوالہ سابق، (حدیث:۳۷۰۱)،صحیح مسلم۔حوالہ سابق (حدیث:۲۴۰۹)۔]

یہ صفت جو ہر مؤمن اور مسلمان کے لیے واجب اور باعث فضیلت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ عہد ہے کہ :

۳۔ ’’صرف مومن حضرت علی رضی اللہ عنہ سے محبت کریں گے اورصرف منافق آپ سے بغض رکھیں گے۔ ‘‘[صحیح مسلم، کتاب الایمان باب الدلیل علی ان حب الانصار وعلی رضی اللّٰہ عنہ (حدیث:۷۸)۔ ]

آخر الذکر حدیث انصار مدینہ رضی اللہ عنہم کے بارے میں بھی وارد ہوئی ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ :

’’اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھنے والا کوئی بھی انسان انصار سے بغض نہیں رکھے گا۔‘‘[صحیح بخاری، کتاب الایمان ، باب حب الانصار من الایمان(حدیث:۱۷)، صحیح مسلم، حوالہ سابق (حدیث:۷۴،۷۵)۔]

باقی رہی حدیث کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ من کنت مولاہ فہذا علي مولاہ۔‘‘ ’’جس کا میں مولا ہوں علی بھی اس کا مولا ہے ۔‘‘ تو یہ صحیح نہیں ہے؛ اس کی کوئی بھی سند ثقہ راویوں پر مشتمل نہیں ۔ اس کے علاوہ روافض جو حضرت علی رضی اللہ عنہ کے فضائل و مناقب میں جو روایات بیان کرتے ہیں وہ سب موضوع ہیں ، جنہیں علم حدیث سے معمولی واقفیت رکھنے والا شخص بھی جانتا ہے۔ 

اگر سوال کیا جائے کہ محدث ابن حزم رحمہ اللہ نے مذکورہ صدر قول میں حدیث’’اَنْتَ مِنِّی وَ اَنَا مِنْکَ‘‘ نیز ’’حدیث مباہلہ‘‘ اور حدیث’’ الکساء‘‘ ذکر نہیں کیں ؛تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ ابن حزم رحمہ اللہ کے نزدیک یہ احادیث بھی ضعیف ہیں ۔

اس کا جواب یہ ہے کہ ابن حزم رحمہ اللہ نے احادیث صحیحہ سے وہ حدیثیں مراد لی ہیں جن میں صرف علی رضی اللہ عنہ کی مدح وستائش کی گئی ہے اور کسی کا ذکر نہیں کیا گیا۔جب کہ ان روایات میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے علاوہ دوسرے لوگوں کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔آپ نے حضرت جعفر رضی اللہ عنہ سے یہ بھی فرمایا تھاکہ:’’ تم شکل و صورت میں اوراخلاق میں مجھ سے مشابہت رکھتے ہو۔‘‘

حضرت زید رضی اللہ عنہ سے آپ نے فرمایا تھا: ’’ أنت أخونا و مولانا ۔‘‘

صفحہ 3 از 5