فصل:....[امامت حضرت علی رضی اللہ عنہ کی دوسری حدیث] - ردِ…

فصل:....[امامت حضرت علی رضی اللہ عنہ کی دوسری حدیث]

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 4 از 5

’’آپ ہمارے بھائی اور ہمارے سردار ہیں ۔‘‘

جب کہ حدیث مباہلہ اور حدیث کساء میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے علاوہ حضرت فاطمہ اور حسنین کریمین رضی اللہ عنہم کا بھی ذکر ہے ‘ اس لیے ابن حزم رحمہ اللہ پر اعتراض وارد نہیں ہوسکتا۔

اس کے علاوہ بھی ہم ایک مرکب جواب دیتے ہیں ۔ ہم کہتے ہیں :’’ اگر یہ الفاظ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے[ غدیر خم کے مقام پر] ارشاد فرمائے بھی تھے؛ تو ان پر کوئی کلام نہیں ہوسکتا ؛ اس لیے کہ اس سے تو آپ کی مرادآپ کے بعد امامت و خلافت ہرگز نہ تھی۔ اس لیے کہ ظاہری الفاظ سے یہ مفہوم نہیں نکلتا۔ ایسی اہم بات بڑے واضح انداز میں بیان کرنا چاہیے تھی نہ کہ مجمل و مبہم الفاظ میں ۔اس لیے کہ ان الفاظ میں کہیں بھی کوئی ایسی دلیل نہیں پائی جاتی جس سے مراد خلافت لی جاسکتی ہو۔ [مولیٰ کا لفظ عربی زبان میں وَلی کا مترادف ہے]۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿اِنَّمَا وَلِیُّکُمُ اللّٰہُ وَ رَسُوْلُہٗ وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوا﴾ (المائدہ:۵۵)

’’ بیشک تمہارا دوست اللہ ہے اور اس کا رسول اور وہ لوگ جو ایمان لائے ہیں ۔‘‘

نیز اللہ تعالیٰ کا ارشاد گرامی ہے :

﴿وَاِِنْ تَظٰہَرَا عَلَیْہِ فَاِِنَّ اللّٰہَ ہُوَ مَوْلٰہُ وَجِبْرِیلُ وَصَالِحُ الْمُؤْمِنِیْنَ وَالْمَلٰٓئِکَۃُ بَعْدَ ذٰلِکَ ظَہِیرٌ

’’اور اگر تم اس کے خلاف ایک دوسرے کی مدد کرو تو یقیناً اللہ خود اس کا مدد گار ہے اور جبریل اور صالح مومن اور اس کے بعد تمام فرشتے مددگار ہیں ۔‘‘[التحریم ۴]

اس آیت سے مستفاد ہوتا ہے کہ رسول اللہ سب مومنین کے دوست ہیں ۔ اور یہ مؤمن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دوست ہیں ۔ جیسا کہ اس سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اہل ایمان کا دوست ہے ‘ اور اہل ایمان اللہ تعالیٰ کے دوست ہیں ۔ اور اہل ایمان آپس میں بھی ایک دوسرے کے دوست ہیں ۔

موالات (دوستی لگانا) معادات( دشمن رکھنا) کی ضد ہے۔ یہ جانبین سے استوار کی جاتی ہے۔ ضروری نہیں کہ دوستی لگانے والے دونوں فریق مرتبہ و مقام کے لحاظ سے برابر ہوں ۔ بلکہ اس بات کا بھی امکان ہے کہ ایک فریق عالی منصب ہو اور اس کا دوسرے سے دوستی لگانا اس کے فضل و احسان پر مبنی ہو۔ اس کے مقابلہ میں ایک فریق فروتر درجہ رکھتا ہو اور اس کا فریق اعلیٰ سے دوستی لگانا اطاعت و عبادت کا درجہ رکھتا ہو۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ اہل ایمان سے محبت رکھتا ہے ‘ اور اہل ایمان اللہ تعالیٰ سے محبت رکھتے ہیں ۔ تو ثابت ہوا کہ موالات کا معنی دوستی لگانا ہے جو کہ دشمنی کرنے ‘ دھوکہ بازی کرنے اور لڑنے جھگڑنے کی ضد ہے ۔ کفار اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت نہیں رکھتے ۔ بلکہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کرتے ہیں ‘ اور ان کے ساتھ دشمنی کرتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿ لَا تَتَّخِذُوْا عَدُوِّی وَعَدُوَّکُمْ اَوْلِیَآئَ﴾ [الممتحنۃ ۱]

’’ میرے اور اپنے دشمن کو اپنا دوست مت بناؤ ۔‘‘

اللہ تعالیٰ ایسا کرنے پر بدلہ سے نوازتے ہیں ۔ جیساکہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا :

﴿فَاِنْ لَّمْ تَفْعَلُوْا فَاْذَنُوْا بِحَرْبٍ مِّنَ اللّٰہِ وَ رَسُوْلِہٖ﴾ [البقرۃ ۲۷۹]

’’ اگر تم ایسا نہ کرو تو پھر تم اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے جنگ کرنے کے لیے تیار ہوجاؤ ۔‘‘

بیشک اللہ تعالیٰ اہل ایمان کا دوست ہے ‘ اور وہ انہیں کفر و گمراہی کے اندھیروں سے اسلا م کی روشنی کی طرف نکالتاہے ۔

بنابریں اللہ و رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کے مولیٰ ہونے کے یہ معنی ہیں کہ یہ سب مومنوں سے دوستی رکھتے ہیں ، گویا مولی کا لفظ اندریں صورت موالات سے ہو گا جو معادات کی ضد ہے۔ مومن جو اللہ و رسول کے ساتھ موالات قائم کرتے ہیں ، وہ بھی معادات کی ضد ہے۔ دوستی لگانے کا یہ حکم سب مومنوں کے لیے ہے۔ بلاشبہ حضرت علی رضی اللہ عنہ ایک بلند پایہ مومن ہیں اور وہ باقی مومنوں سے دوستی رکھتے ہیں ۔[اور اہل ایمان ان سے دوستی رکھتے ہیں ]۔

اس حدیث میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے باطنی ایمان کا اثبات و اقرار ہے ۔ اور اس بات کی گواہی موجود ہے کہ آپ ظاہری و باطنی طور پر دوستی کے مستحق ہیں ۔ بنا بریں اس حدیث میں آپ رضی اللہ عنہ کے دشمنان خوارج و نواصب کی تردید پائی جاتی ہے۔ حدیث میں یہ کہیں مذکور نہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے سوا کوئی دوسرا مومنوں کا کوئی دوست ہی نہیں ۔اور ایسا کیسے ہوسکتا ہے جب کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بہت سارے دوست ہیں ۔ جن میں نیک و کار اہل ایمان شامل ہیں ۔ ان میں حضرت علی رضی اللہ عنہ بدرجہ اولی شامل ہیں ۔اور تمام اہل ایمان آپ سے محبت رکھتے ہیں ۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

’’ قبیلہ مسلم و غفار و جہینہ و مزینہ اور قریش و انصاریہ سب میرے دوست ہیں ۔ اللہ و رسول کے سوا ان کا کوئی دوست نہیں ۔‘‘[صحیح بخاری، کتاب المناقب، باب مناقب قریش(حدیث:۳۵۰۴)، صحیح مسلم، کتاب فضائل الصحابۃ، باب من فضائل غفار و اسلم....‘‘(حدیث: ۲۵۲۰)۔]

فی الجملہ ولی ؛ مولی اور والی کے مابین فرق پایا جاتا ہے ۔ پس وہ ولایت جس کا معنی دوستی کا ہے[اور جس کا الٹ دشمنی ہوتی ہے] وہ ایک علیحدہ چیز ہوتی ہے ؛ جب کہ وہ ولایت جس کا معنی حکومت و امارت ہے وہ ایک علیحدہ چیز ہے ۔

اس حدیث میں وارد ولایت پہلے معنی یعنی دوستی کے مفہوم میں ہے؛ دوسرا معنی مراد نہیں ۔ اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نہیں ارشاد فرمایا کہ : ’’ من کنت والیہ فعلي والیہ ۔‘‘’’جس کا میں والی ہوں علی بھی اس کا والی ہے۔‘‘رسول اللہ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان مبارک :’’ من کنت مولاہ فہذا علي مولاہ۔‘‘’’جس کا میں مولا ہوں علی بھی اس کا مولا ہے ‘‘ سے یہی مراد ہے ۔ اس مولی سے والی مراد لینا باطل ہے ۔ اس لیے کہ ولایت دونوں اطراف سے ثابت ہوتی ہے ؛ جیسے کہ مومنین اللہ تعالیٰ کے ولی اور اس کے دوست ہیں ‘ اور اللہ تعالیٰ ان کا ولی اور دوست ہے ۔

صفحہ 4 از 5