فصل:....[امامت حضرت علی رضی اللہ عنہ کی دوسری حدیث] - ردِ…

فصل:....[امامت حضرت علی رضی اللہ عنہ کی دوسری حدیث]

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 5 از 5

رہا مسئلہ اپنے نفوس سے بڑھ کر عزیز ہونا تو یہ صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ثابت ہے ۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہر اہل ایمان کے لیے اس کی جان و مال سے بڑھ کر محبوب ہونا یہ نبوت کے خصائص میں سے ہے ۔ اگر یہ ثابت ہوجائے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بعد کسی کو بذریعہ نص خلیفہ متعین کیا تھا؛ تو اس سے بھی یہ لازم نہیں آتا کہ خلیفہ اہل ایمان کو ان کی جانوں سے بڑھ کر محبوب ہو۔ یہ بات کسی ایک نے بھی نہیں کہی ۔ اور نہ ہی کسی ایک سے منقول ہے۔ اور اس کا معنی بھی یقینی طور پر باطل ہے ۔ اس لیے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اہل ایمان کے لیے ان کی جانوں سے بڑھ کر محبوب ہونا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں اور موت کے بعد بھی ثابت ہے ۔ اور اگر حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خلافت کو تسلیم بھی کرلیا جائے تو پھر بھی یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد کی بات ہے ۔ آپ کی زندگی میں ایسا کچھ بھی نہیں تھا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے لیے جائز نہیں تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مبارک میں خلیفہ بنتے۔ تو اس وقت آپ ہر مؤمن کے لیے اس کی جان و مال سے بڑھ کر محبوب و مقدم نہیں تھے۔ اور اگر مولی کے لفظ سے مراد خلافت لی جائے تو اس وقت آپ کسی ایک مؤمن پر بھی خلیفہ نہیں تھے۔

اس سے ظاہر ہوگیا کہ ان الفاظ سے خلافت مراد نہیں ہے ۔ اپنی جانوں سے بڑھ کر محبوب ہونا ایسا وصف ہے جو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں ہی ثابت ہے؛ جس کے لیے موت کے بعد تک کا کوئی انتظار نہیں کیا گیا ۔ جب کہ خلافت کا معاملہ اس سے مختلف ہے ؛ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات تک کوئی بھی خلیفہ نہیں تھا۔ اس سے معلوم ہوا کہ مذکورہ بالا حدیث سے جو معنی شیعہ مراد لیتے ہیں ‘ وہ کہیں بھی ثابت نہیں ہے ۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی زندگی میں اور موت کے بعد بھی قیامت تک کے لیے اہل ایمان کے لیے ان کی جان و مال سے بڑھ کر محبوب و قریب ہیں ۔ جب آپ کی حیات مبارک میں ہی کوئی انسان بعض امور پر نائب بنایا جائے‘ یا تسلیم کرلیا جائے کہ کوئی انسان بعض امور میں آپ کی حیات مبارک میں ہی خلیفہ یا نائب بن جائے اور اسے اجماع اور نص کی روشنی میں خلیفہ تسلیم کرلیا جائے۔تو وہ اس خلافت کا [آپ کے بعد بھی ] زیادہ حق دار ہوگا‘ اور اہل ایمان کے لیے ان کی جانوں سے بھی بڑھ کر مقدم ہوگا‘ تو پھر کوئی دوسرا انسان اس کو چھوڑ کر اہل ایمان کے لیے ان کی جانوں سے بڑھ کر محبوب نہیں ہوگا۔ خصوصاً آپ کی حیات مبارک میں ۔

رہ گیا حضرت علی رضی اللہ عنہ اور دیگر صحابہ کرام کا ہر اہل ایمان کا ولی اور دوست ہونا؛ یہ ایسا وصف ہے جو حضرت علی رضی اللہ عنہ [یا دیگر صحابہ کرام ] کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مبارک میں بھی ثابت ہے ؛ اور وفات کے بعد بھی۔اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کی وفات کے بعد بھی۔حضرت علی رضی اللہ عنہ آج بھی ہر مومن کے دوست اور محبوب ہیں ‘ جب کہ آج آپ کسی پر بھی والی یا حاکم نہیں ہیں ۔ یہی حال باقی تمام اہل ایمان کا ہے ۔ وہ اپنی زندگیوں میں بھی اور موت کے بعد بھی اہل ایمان کے دوست ہیں ۔


صفحہ 5 از 5