سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کا اپنی فوج کے ساتھ مسیلمہ کذاب پر چڑھائی
علی محمد الصلابیحضرت ابوبکرؓ نے سیدنا خالد رضی اللہ عنہ کو یہ حکم دے رکھا تھا کہ اسد، غطفان اور مالک بن نویرہ سے فارغ ہو کر یمامہ کا رخ کریں اور اس کی بڑی تاکید کر رکھی تھی۔ حضرت شریک بن عبدہ فزاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں ان لوگوں میں سے تھا جو معرکہ بزاخہ میں شریک تھے۔ پھر میں سیدنا ابوبکرؓ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپؓ نے مجھے حضرت خالد رضی اللہ عنہ کی طرف روانہ کیا۔ میرے ساتھ سیدنا خالدؓ کو ایک خط لکھا، جس میں تھا:
’’اما بعد! تمہارے پیغام رساں کے ذریعہ سے تمہارا خط مجھے ملا، جس میں معرکہ بزاخہ میں اللہ کی فتح و نصرت کا تم نے ذکر کیا ہے اور اسد و غطفان کے ساتھ جو معاملہ تم نے کیا ہے وہ مذکور ہے۔ اور تم نے تحریر کیا ہے کہ میں یمامہ کی طرف رخ کر رہا ہوں۔ تمہیں میری یہ وصیت ہے: اللہ وحدہ لا شریک لہ سے تقویٰ اختیار کرو اور تمہارے ساتھ جو مسلمان ہیں ان کے ساتھ نرمی برتو، ان کے ساتھ باپ کی طرح پیش آؤ، اے حضرت خالدؓ خبردار! بنی مغیرہ کی نخوت و غرور سے بچنا، میں نے تمہارے متعلق ان کی بات نہیں مانی ہے، جن کی بات میں کبھی نہیں ٹالتا۔ لہٰذا تم جب بنو حنیفہ سے مقابلہ میں اترو تو ہوشیار رہنا، یاد رکھو! بنو حنیفہ کی طرح اب تک کسی سے تمہارا سابقہ نہیں پڑا ہے۔ وہ سب کے سب تمہارے خلاف ہیں اور ان کا ملک بڑا وسیع ہے لہٰذا جب وہاں پہنچو تو بذات خود فوج کی کمان سنبھالو۔ میمنہ پر ایک شخص کو اور میسرہ پر ایک شخص کو اور شہسواروں پر ایک کو مقرر کرو۔
(حروب الردۃ: شوقی ابوخلیل: صفحہ 78)
اکابرین صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور مہاجرین و انصار میں سے جو تمہارے ساتھ ہیں ان سے برابر مشورہ لیتے رہو اور ان کے فضل و مقام کو پہچانو۔ پوری تیاری کے ساتھ میدان جنگ میں جب دشمن صف بستہ ہوں ان پر ٹوٹ پڑو۔ تیر کے مقابلہ میں تیر، نیزے کے مقابلہ میں نیزہ، تلوار کے مقابلہ میں تلوار، ان کے قیدیوں کو تلواروں پر اٹھا لو۔
(حروب الردۃ: د شوقی ابوخلیل: صفحہ 78)
قتل کے ذریعہ سے ان میں خوف و ہراس پیدا کرو، ان کو آگ میں جھونک دو، خبردار! میری حکم عدولی نہ کرنا۔ والسلام علیک
(مجموعۃ الوثائق السیاسیۃ: صفحہ، 348، 349 حروب الردۃ: ابوخلیل صفحہ 79)
جب یہ خط حضرت خالد رضی اللہ عنہ کو ملا تو آپؓ نے اس کو پڑھا اور فرمایا: ہم نے سن لیا اور ہم اس کی مکمل فرمانبرداری کریں گے۔
(حروب الردۃ: شوقی ابوخلیل صفحہ 79)
حضرت خالد رضی اللہ عنہ نے مسلمانوں کو اپنے ساتھ تیار کیا، اور بنو حنیفہ سے قتال کے لیے روانہ ہو گئے۔ انصار پر ثابت بن قیس بن شماس امیر مقرر تھے۔ مرتدین میں سے جس سے راستہ میں واسطہ پڑتا اس کو عبرتناک سزا دیتے۔ ادھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے پیچھے سے حضرت خالدؓ کی حفاظت کے لیے ایک بہت بڑی فوج بہترین اسلحہ سے لیس روانہ کی، تا کہ لشکر سیدنا خالد رضی اللہ عنہ پر کوئی پیچھے سے حملہ آور نہ ہو سکے۔ حضرت خالدؓ کا گزر یمامہ کے راستے میں بہت سے بدو قبائل سے ہوا جو مرتد ہو چکے تھے، ان سے جنگ کر کے انہیں اسلام کی طرف واپس لائے۔ راستہ میں سجاح کی بچی کھچی فوج ملی، ان کی خبر لی، انہیں قتل کیا اور عبرتناک سزائیں دیں، پھر یمامہ پر حملہ آور ہوئے۔
(الصدیق اوّل الخلفاء: صفحہ 105)
جب مسیلمہ کذاب کو سیدنا خالد رضی اللہ عنہ کی روانگی کی خبر ملی تو اس نے یمامہ کی ایک جانب مقام عقرباء میں اپنی فوج کو جمع کیا.
(حروب الردۃ: د۔ شوقی ابوخلیل: صفحہ 80)
اور لوگوں کو حضرت خالد رضی اللہ عنہ سے مقابلہ کے لیے رغبت دلائی اور انہیں ابھارا، اہلِ یمامہ اس کے پاس جمع ہو گئے۔ اس نے فوج کے میمنہ و میسرہ پر محکم بن طفیل اور رجال بن عنفوہ کو مقرر کیا۔
حضرت خالدؓ عکرمہ اور سیدنا شرحبیل رضی اللہ عنہما سے ملے، مقدمۃ الجیش پر حضرت شرحبیل بن حسنہؓ کو اور میمنہ و میسرہ پر زید بن خطاب اور ابوحذیفہ بن عتبہ بن ربیعہ رضی اللہ عنہما کو مقرر فرمایا۔
(حروب الردۃ: دیکھیے شوقی ابو خلیل صفحہ 80)