معرکہ سے قبل نفسیاتی جنگ چھیڑنا
علی محمد الصلابیحضرت خالد رضی اللہ عنہ نے قتال سے قبل نفسیاتی جنگ چھیڑنے کا منصوبہ بنایا۔ چنانچہ سیدنا زیاد بن لبیدؓ کو یمامہ کے سردار محکم بن طفیل کے پاس روانہ کیا جو ان کا دوست رہ چکا تھا تا کہ اس کو اپنی طرف مائل کرسکیں۔ حضرت خالد رضی اللہ عنہ نے سيدنا زیادؓ سے فرمایا: اگر تم محکم کو کوئی ایسی چیز روانہ کرو جس سے اس کو توڑ سکو تو بہتر ہے، حضرت زیاد رضی اللہ عنہ نے اس کو شعر کے چند ابیات لکھے:
ویل الیمامۃ ویلا لا فراق لہ
إن جالت الخَیلُ فیہا بالقنا الصادی
: اگر شہسوار مجاہدین اپنے نیزوں کے ساتھ یمامہ میں گھس گئے تو پھر یمامہ میں نہ ختم ہونے والی تباہی یقینی ہے۔
واللہ لا تنثنی عنکم أعنَّتُہا
حتی تکونوا کاہل الحِجْرِ او عادِ
ترجمہ: واللہ ان نیزوں کی انیاں تم سے مڑ نہیں سکتیں جب تک کہ تم ثمود یا عاد کی طرح تباہ نہ ہو جاؤ۔
اسی طرح حضرت خالد رضی اللہ عنہ عمیر بن صالح الیشکری کی طرف متوجہ ہوئے جو اسلام لا چکے تھے اور انتہائی راسخ الایمان اور پختہ عقیدہ رکھتے تھے لیکن اپنی قوم سے اپنا اسلام چھپائے ہوئے تھے، ان سے سیدنا خالدؓ نے کہا: تم اپنی قوم کے پاس جاؤ۔ وہ اپنی قوم میں گئے اور ان سے کہا: حضرت خالد رضی اللہ عنہ مہاجرین و انصار کے ساتھ تمہارے قریب پہنچ چکے ہیں، میں نے ان کو ایسی قوم دیکھا ہے کہ اگر تم ان پر صبر کے ذریعہ سے غلبہ حاصل کرنا چاہو گے تو وہ تم پر نصرت کے ذریعہ سے غالب آ جائیں گے اور اگر تم ان پر عدد کے ذریعہ سے غالب آنا چاہو گے تو وہ تم پر مدد کے ذریعہ سے غالب آجائیں گے۔ تم اور وہ برابر نہیں ہو، اسلام آکے رہے گا اور شرک جا کے رہے گا۔ ان کا ساتھی نبی ہے اور تمہارا ساتھی کذاب ہے۔ ان کے ساتھ سرور ہے اور تمہارے ساتھ غرور ہے۔ ابھی تلوار میان اور تیر ترکش میں ہے۔ قبل ازیں کہ تلوار میان سے نکلے اور تیر برسائے جائیں ہوش میں آجاؤ۔
(الحرب النفسیۃ: احمد نوفل صفحہ 144، 145)
پھر حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ سیدنا ثمامہ بن اثالؓ کے ساتھ اس سلسلہ میں ملے، وہ اپنی قوم کے پاس گئے، ان کو فرماں برداری کی دعوت دی اور ان کے اندر قتال کی روح ختم کرتے ہوئے فرمایا: دو نبی اکٹھے نہیں ہو سکتے۔ یقیناً محمدﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں اور نہ آپﷺ کے ساتھ کوئی نبی ہے۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے تمہارے پاس ایسے شخص کو بھیجا ہے جسے اس کے اور اس کے باپ کے نام سے نہیں پکارا جاتا بلکہ اس کو سیف اللہ کہتے ہیں اور اس کے ساتھ اور بہت سی تلواریں ہیں لہٰذا تم اپنی فکر کرو۔
(الحرب النفسیۃ: احمد نوفل: جلد 2 صفحہ 145 فن ادارۃ المعرکۃ: محمد فرج 138، 140)
حضرت خالد رضی اللہ عنہ نے محکم منصوبہ بندی کا اہتمام کیا۔ سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ دشمن کو کبھی بھی کمزور نہیں سمجھتے تھے، میدان معرکہ میں ہمیشہ پوری تیاری اور مکمل احتیاط کے ساتھ رہتے کہ کہیں اچانک دشمن حملہ نہ کر دے اور کوئی سازش نہ کر بیٹھے۔ آپؓ کی یہ صفت بیان کی گئی ہے کہ آپؓ خود سوتے نہیں تھے، دوسروں کو سلاتے تھے، پوری تیاری کے ساتھ رات گزارتے، آپؓ پر دشمن کی کوئی بات مخفی نہیں رہتی تھی۔
(حرکۃ الردۃ للعتوم: صفحہ 199)
مسیلمہ کی جنگ میں معرکہ عقرباء سے قبل آپؓ نے مکنف بن زید اور ان کے بھائی حریث کو ہراول مقرر کیا، تا کہ وہ معرکہ کے سلسلہ میں لازمی معلومات فراہم کریں۔ فوج کو مرتب کرنے کا وقت قریب آچکا تھا۔ مؤقف انتہائی خطرناک تھا، اس لیے لازمی ترتیبات کا اختیار کرنا ضروری تھا۔ اس معرکہ میں علم بردار حضرت عبداللہ بن حفص بن غانم رضی اللہ عنہ تھے، پھر یہ سالم مولیٰ سیدنا ابو حذیفہؓ کو منتقل ہو گیا۔
(حرکۃ الردۃ للعتوم: صفحہ 200)
جیسا کہ عربوں کا مقولہ ہے لوگ اپنے جھنڈوں تلے ہوتے ہیں اور جب پرچم ہی زائل ہو جائے تو لوگ بھی زائل ہو جاتے ہیں۔ سیدنا خالدؓ نے اس معرکہ میں حضرت شرحبیل بن حسنہ رضی اللہ عنہ کو آگے بڑھایا اور اسلامی فوج کو پانچ حصوں میں تقسیم کر دیا۔ مقدمہ پر خالد بن ولید مخزومی، میمنہ پر ابو حذیفہ، میسرہ پر شجاع اور قلب پر زید بن خطاب اور شہسواروں پر حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کو مقرر فرمایا اور اونٹوں کو پیچھے رکھا جن پر خیمے لدے تھے اور خواتین سوار تھیں اور یہ معرکہ سے قبل آخری ترتیب تھی۔
(حرکۃ الردۃ للعتوم: صفحہ 200)