امامت علی رضی اللہ عنہ کی چوتھی دلیل؛ حدیث:نیابت مدینہ : -…

امامت علی رضی اللہ عنہ کی چوتھی دلیل؛ حدیث:نیابت مدینہ :

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 3 از 5

٭ ایک بار آپ نے ایک آدمی کو کوئی ذمہ داری سونپی؛ لیکن اس نے اپنے واجبات ادا نہیں کیے۔ تورسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ کیا تم اس بات سے عاجز آگئے ہو کہ جو انسان میرے احکام پورے نہ کرتا ہو ؛ اسے معزول کرکے کسی ایسے کو ذمہ داری سونپ دو جو میرے احکام کو پورا کرے ۔‘‘[یہ حدیث سنن ابی داؤد میں ان الفاظ میں منقول ہے: حضرت عقبہ بن مالک سے روایت ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک چھوٹا دستہ روانہ فرمایا میں نے ان میں سے ایک شخص کے تلوار ماردی جب وہ لوٹا تو اس شخص نے مجھ سے کہا کہ کاش تو دیکھتا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم کو کیسی ملامت کی ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ کیا تم سے یہ نہیں ہوسکتا تھا کہ جس شخص کو میں نے تمہارا امیر بنا کر بھیجا تھا اور اس نے میرے احکامات کی تعمیل نہیں کی تھی تم اس کو معزول کر دیتے اور اس کے بدلے دوسرا امیر مقرر کرلیتے جو میرا حکم بجا لاتا۔‘‘[سنن ابوداد:جلد دوم:حدیث نمبر 862] مسند ۴؍۱۶۰۔]

اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے واجبات پورے نہ کرنے والے کو معزول کرنا ان ہی لوگوں کے سپرد کردیا۔ تو پھرشروع سے ہی ایسا امیر مقرر کرنا جو واجبات اداکرسکے کیسے آپ عوام کے سپرد نہیں کرسکتے تھے۔

٭ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں یہ سنت تھی کہ جب کسی ایسے کو والی مقرر کیا جاتا جو واجبات ادا نہ کرسکتا تو اسے معزول کردیا جاتا ؛ یا پھر آپ اسے معزول کرنے کاحکم دیتے ۔ توپھر یہ بھی ممکن تھا کہ آپ اگر اپنے بعد کسی کو جانشین مقرر فرماتے ؛مگر وہ واجبات ادانہ کرپاتا؛ تو اسے معزول کرنے کی ضرورت پیش آتی۔ اس صورت میں اگر امت خود ہی کسی کو جانشین مقرر کرے ؛ اور معزول کرے یہ اس بات سے بہت آسان ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کسی کو امیر متعین کریں ؛ اور امت اسے معزول کردے۔ اس سے جانشین کو متعین نہ کرنے کی حکمت واضح ہوتی ہے۔ لہٰذا ہم کہتے ہیں کہ:

٭ پانچواں جواب : آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنی موت کے بعد کسی کو جانشین مقرر نہ کرنا ؛ مقررکرنے سے زیادہ بہتر تھا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کے لیے جو بھی انتخاب کیا ‘ وہ افضل ترین امور کا ہی انتخاب تھا[ایسے ہی اب بھی آپ کا جانشین افضل ہی مقرر ہوگا]۔اور اس کی وجہ یہ ہے : یاتو یہ کہا جائے کہ: ’’ آپ پر واجب تھا کہ اپنی زندگی میں صرف معصوم کو ہی اپنا جانشین بنائیں ۔جب کہ آپ کے بعض جانشینوں سے نا مناسب کام بھی ہوگئے جس پر آپ نے سخت انکار کیا ۔ اور ان میں سے بعض کو معزول بھی کیا۔

٭ جیسا کہ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو جذیمہ کے قتال کے لیے بھیجااور آپ نے ان لوگوں کو قتل کردیا۔تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کو نصف دیت ادا کی؛ان کے پاس حضرت علی رضی اللہ عنہ کو بھیجا ؛ انہوں نے کتے کے برتن تک کا تاوان ادا کیا۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھ آسمان کی طرف اٹھائے اور فرمایا:’’ یا اللہ!میں برأت کااظہار کرتا ہوں اس کام سے جو خالد نے کیا۔‘‘

٭ حضرت خالدبن ولید اور حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہما کے مابین جھگڑا ہوگیا؛ یہاں تک کہ بات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچ گئی۔ تو آپ نے فرمایا:

(( لا تسبوا أصحابی فلو أن أحدکم أنفق مثل أحد ذہبا ما بلغ مد أحدہم ولا نصیفہ)) [البخاری:ح ۸۸۷]

’’ میرے صحابہ کو برا نہ کہو ؛ اگر کوئی تم میں سے احد پہاڑ کے برابر سونا اللہ کی راہ میں خرچ کرے تو میرے اصحاب کے ایک مد(سیر بھر وزن)یا آدھے کے برابر بھی(ثواب کو)نہیں پہنچ سکتا۔‘‘

مگر اس کے باوجود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت خالد رضی اللہ عنہ کو معزول نہیں کیا۔

٭ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ولید بن عقبہ رضی اللہ عنہ کو ایک قوم میں زکوٰۃ وصول کرنے کے لیے عامل مقرر کیا ‘ آپ واپس آئے اور عرض کی: وہ لوگ زکوٰۃ ادا نہیں کررہے؛ بلکہ وہ جنگ کے لیے تیار ہیں ۔ آپ چاہتے تھے کہ ان لوگوں کے خلاف فوج بھیجی جائے۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی :

﴿اِِنْ جَائَکُمْ فَاسِقٌ بِنَبَاٍِ فَتَبَیَّنُوْا اَنْ تُصِیبُوْا قَوْمًا بِجَہَالَۃٍ﴾ [الحجرات۶]

’’اگر تمہیں کوئی فاسق خبر دے تو تم اس کی اچھی طرح تحقیق کرلیا کروایسا نہ ہو کہ نادانی میں کسی قوم کو ایذا پہنچا دو۔‘‘

ایسے ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے موقع پر[ انصاری لشکر پر] حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کو والی بنایا تھا ۔ جب آپ کو معلوم ہوا کہ حضرت سعد نے یوں کہاہے: ’’ آج کا دن خونریز جنگ کادن ہے ؛ آج حرمتیں پامال کرنے کا دن ہے۔‘‘

تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت سعد رضی اللہ عنہ کو معزول کرکے ان کی جگہ ان کے بیٹے قیس کو والی بنایا؛ اور نشانی کے طور پر اپنا عمامہ شریف ارسال فرمایا ؛ تاکہ حضرت سعد رضی اللہ عنہ کومعلوم ہوجائے کہ انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے معزول کیا ہے۔

٭ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آپ کے بعض نائبین کی شکایات پہنچائی جاتی تھیں ۔توآپ اسی چیز کاحکم دیتے جو حکم اللہ تعالیٰ نے آپ کودیا ہوتا۔ جیساکہ اہل قباء نے آپ کے پاس شکایت کی کہ حضرت معاذ رضی اللہ عنہ بہت لمبی نماز پڑھاتے ہیں ۔ یہ اس وقت ہوا جب آپ نے نماز عشاء میں سورت بقرہ کی تلاوت کی۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اے معاذ! کیا تم فتنہ گربننا چاہتے ہو؟ آپ سبح اسم ربک الأعلی اور واللیل إذا یغشی اوران جیسی سورتیں پڑھا کرو ۔‘‘ 

٭ صحیح مسلم میں ہے : ’’ایک آدمی نے آپ سے عرض کی : ’’فلاں انسان ہمیں نماز فجر بہت لمبی پڑھاتا ہے ‘ اس لیے میں نماز سے پیچھے رہ جاتاہوں ۔‘‘ تو آپ نے فرمایا:

((إِذا أمَّ أحدکم لِلناسِ فلیخفِف ؛ فإِن من ورائہ الضعِیف والکبیر و ذا الحاجۃ۔ وإِذا صلی لنفسہ فلیطول ما شاء))۔ [صحیح مسلم:کتاب الصلاۃ ‘ح۱۰۴۳] 

’’جب تم میں سے کوئی لوگوں کو نماز پڑھائے تو ہلکی پڑھائے کیونکہ اس کے پیچھے کمزور بیمار؛ عمر رسیدہ اور حاجت مند لوگ ہوتے ہیں ۔اور جب اپنے لیے نماز پڑھے تو پھر جتنا مرضی لمبا کرلے ۔‘‘

صفحہ 3 از 5