امامت علی رضی اللہ عنہ کی چوتھی دلیل؛ حدیث:نیابت مدینہ : -…

امامت علی رضی اللہ عنہ کی چوتھی دلیل؛ حدیث:نیابت مدینہ :

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 4 از 5

٭ جس امام نے مسجد میں قبلہ رخ تھوکا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے معزول کردیا؛ اور فرمایا: ’’ بیشک تم نے اللہ اوراس کے رسول کو اذیت دی ہے۔‘‘[سنن أبي داؤد ‘ کتاب الصلاۃ ‘ باب کراہیۃ البزاق في المسجد۱؍۱۸۹۔]

آپ کے جانشینوں میں سے کسی ایک کو جب کسی مسئلہ میں کوئی مشکل درپیش آتی تو وہ آپ کے پاس کسی آدمی کو بھیج کر اس کا حل دریافت کرلیا کرتے تھے ۔

سو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے جانشین کو ان باتوں کی تعلیم دیا کرتے جن کا انہیں علم نہ ہوتا۔اور اگرکسی سے غلطی ہوجاتی تو اس کی اصلاح کرتے ۔اوراگروہ اپنی اصلاح نہ کرتے تو انہیں معزول کردیا جاتا۔ان تمام باتوں سے پتہ چلتا ہے کہ یہ لوگ معصوم نہ تھے۔پس معلوم ہوا کہ آپ پر واجب نہیں تھا کہ معصوم کو ہی ولایت تفویض کرتے۔نیز یہ ایسی چیزہے جس کا مکلف بنایا جانا ممکن نہیں ۔اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے انبیاء کرام صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ کسی کو بھی معصوم پیدا ہی نہیں کیا۔اگر آپ کو اس بات کا مکلف ٹھہرایا جاتاکہ صرف معصوم کو ہی اپنا جانشین مقرر کریں تو یہ ایسی تکلیف ہوتی جو آپ کے بس سے باہر ہے۔ اس طرح مقصودولایت فوت ہوجاتا؛ اور لوگوں کی دنیا اوردین میں خرابی پیدا ہوجاتی ۔

جب یہ معلوم ہوگیا کہ آپ کے لیے اپنی زندگی میں جائز ہی نہیں بلکہ واجب تھا کہ ایسے لوگوں کو اپناجانشین مقرر کریں جو کہ معصوم نہیں ؛ایسے ہی اگر اپنی موت کے بعد کسی کوجانشین مقرر کریں تو ان کے لیے معصوم ہونا ضروری نہیں ۔اورنہ ہی موت کے بعد آپ کے لیے یہ ممکن ہے کہ آپ انہیں تعلیم دیں یا ان کی اصلاح کریں ؛ جیساکہ آپ اپنی زندگی میں کیا کرتے تھے ۔ تو اس لیے آپ کااپنا جانشین مقرر نہ کرنا جانشین مقرر کرنے سے زیادہ بہتر تھا۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے امت تک اللہ تعالیٰ کے اوامر و نواہی پہنچادیئے۔ اورامت کوان چیزوں کی تعلیم دے دی جن کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے اورجن سے منع کیا ہے۔ پس وہی خود ایسے انسان کواپنے اوپر خلیفہ مقرر کرلیں گے جو ان میں اللہ اوراس کے رسول کے احکام قائم کرے۔ اوروہ لوگ اس خلیفہ کے ساتھ قیام شریعت کے امور میں مدد کریں گے۔اور کسی کے لیے ان امور کوقائم کرنااس کے بغیر ممکن ہی نہیں ۔ پس جو کوئی علم کی بات اس [خلیفہ ] سے رہ گئی ہو توجاننے والے اسے تعلیم دیں گے؛ اور جہاں پر ان کی مدد کی ضرورت ہوگی تو مدد کریں گے۔ اورجو کوئی حق سے روگردانی کرے ‘ اسے حسب امکان اپنے قول و عمل سے واپس حق پر لائیں گے۔ چنانچہ ان کی کسی بات کا حساب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نہیں ہوگا۔ جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے امت کی کوئی جواب دہی نہیں ہوتی۔اس سے معلوم ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنی موت کے بعد جانشین مقرر نہ کرنا جانشین مقرر کرنے سے زیادہ بہتر اور آپ کے حق میں زیادہ اکمل ہے۔پس جو کوئی موت کے بعد جانشین مقرر کرنے کو زندگی میں جانشین مقرر کرنے پر قیاس کرتا ہے ؛ وہ لوگوں میں سب سے بڑا جاہل انسان ہے۔

جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ علم تھا کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ دوسرے لوگوں سے زیادہ خلافت کے حقدار ہیں ؛ تو پھر آپ کے لیے ان کے حقدار ہونے کی طرف اشارہ ورہنمائی بھی کردی۔حالانکہ آپ جانتے تھے کہ امت آپ کے بعد ان کو ہی جانشین مقرر کرے گی؛ یہ خود آپ کے جانشین مقرر کرنے سے بے نیاز کردیتا ہے تاکہ امت خود ہی اس واجب کو پورا کرے۔ اور اس کا ثواب بھی امت کے لیے زیادہ ہوگا کیونکہ اس سے مقصود رسالت حاصل ہورہا ہے۔

ایسے ہی جب حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو یہ علم تھا کہ امت میں اب حضرت عمر رضی اللہ عنہ جیسا کوئی دوسرا نہیں ؛ اور آپ کو یہ اندیشہ تھا کہ اگر میں انہیں اپنا جانشین مقرر نہیں کروں گاتو ان کی سختی کی وجہ سے شائد لوگ آپ کو خلیفہ نہ بنائیں ؛ تو آپ نے خود ہی انہیں اپنا جانشین مقرر کردیا ۔ آپ کایہ اقدام امت کے حق میں بہت بہتر تھا۔

پس جو کچھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا ؛ وہ آپ کے علم و فضل کے شایان شان تھا۔ اور جوکچھ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کیا ‘ وہ آپ کے لائق تھا ؛ اس لیے کہ جس چیز کا علم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تھا ؛ اس کا علم ابو بکر رضی اللہ عنہ کو حاصل نہیں تھا۔

٭ چھٹا جواب:ان سے کہا جائے گا : تصور کیجیے ! جانشین مقرر کرنا واجب تھا ؛ تو پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو اپنا جانشین مقرر کیا تھا ؛ جیسا کہ تعین استخلاف والوں کا کہنا ہے۔ اور اس پردیگر اقوال بھی دلالت کرتے ہیں ۔

[حضرت علی رضی اللہ عنہ اور امارت مدینہ]

[اعتراض]: شیعہ مصنف کا یہ قول کہ ’’ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو مدینہ کی امارت سے معزول نہیں کیا تھا۔‘‘[سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے امارت مدینہ سے معزول نہ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ غزوۂ تبوک سے واپس آنے کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ میں سیدنا علی کے محکوم ہوں گے۔ ممکن ہے شیعہ مصنف الوہیت علی کا قائل ہو اور اس کے نزدیک سرور کائنات کا سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے زیر فرمان ہونا چنداں قابل اعتراض نہ ہو جیسا کہ اس کے پیش رو ابن ابی الحدید شارح نہج البلاغہ کا قول ہے۔ ٭....رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جگہ پر نائب کی حیثیت سے کام کرنا مستقل جانشینی نہیں ہوا کرتی تھی؛بلکہ اس کی اہمیت عارضی ہوا کرتی تھی۔ اور جب بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سفر سے واپس تشریف لاتے تو بغیر کسی مزید اقدام کے نائب کو معزول سمجھاجاتا۔ یہی کچھ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ بھی ہوا۔[کشمیری]]

صفحہ 4 از 5