امامت علی رضی اللہ عنہ کی چوتھی دلیل؛ حدیث:نیابت مدینہ : -…

امامت علی رضی اللہ عنہ کی چوتھی دلیل؛ حدیث:نیابت مدینہ :

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 5 از 5

[جواب]:ہم کہتے ہیں : ایک غلط بات ہے۔ اس لیے کہ جونہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ واپس وارد ہوئے، حضرت علی رضی اللہ عنہ آپ کے واپس آنے سے خود بخودہی معزول ہوگئے تھے۔ جس طرح آپ کے دیگرنائبین آپ کی تشریف آوری سے از خود اُس منصب سے الگ ہو جایا کرتے تھے جس پر آپ ان کو اپنی عدم موجودگی میں مقرر فرمایا کرتے تھے۔[آپ نے اس کے بعد حضرت علی رضی اللہ عنہ کو کفار سے اظہار براء ت کرنے کے لیے مکہ بھیجا تھا]۔ نیزآپ کو یمن میں عامل مقرر کیا[تھاجہاں سے] آپ حجۃ الوداع کے موقع پر[واپس آکر] رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملے؛ اس وقت مدینہ پر آپ کے علاوہ کو ئی دوسرا خلیفہ تھا۔٭

کیا آپ یہی سمجھتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ یمن میں تھے اوررسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں تھے ؛ مگر پھر بھی مدینہ میں خلیفہ حضرت علی رضی اللہ عنہ ہی تھے ؟ [أیں چہ بو العجبی است ؟]۔

٭ اس میں کوئی شک نہیں کہ ایسی بات کوئی ایسا جاہل ہی کہہ سکتا ہے جسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے احوال کاکچھ پتہ نہ ہو۔ یعنی اس کا خیال یہ ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ برابر مدینہ میں خلیفہ رہے یہاں تک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال ہوگیا۔مگر انہیں اس بات کا علم نہ ہوسکا کہ اسکے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سن ۹ھ ؁ میں آپ کواپنا نمائندہ بنا کرحضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ بھیجا تاکہ اہل مکہ کے عہد انہیں واپس کریں ۔ اس وقت آپ پر امیر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ تھے۔پھر ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ واپس آنے کے بعد آپ کو یمن روانہ فرمایا۔آپ کے علاوہ حضرت معاذ اورحضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہما کو بھی یمن بھیجا تھا۔

٭ پھر جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع والے سال حج کیا ؛ تو اس وقت مدینہ پر اپنا جانشین حضرت علی رضی اللہ عنہ کے علاوہ کسی دوسرے صحابی کو بنایا تھا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ واپس مکہ میں آکر آپ سے ملے ۔اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سو اونٹوں کی قربانی دی ؛ جن میں سے سڑسٹھ اونٹ خودرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نحر کیے ؛ جب تینتیس اونٹوں کی قربانی کرنے کے لیے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو ذمہ داری تفویض فرمائی ۔

یہ تمام باتیں اہل علم کے ہاں معلوم شدہ اور متفق علیہ ہیں ۔اور متواتر اسناد کیساتھ ایسے منقول ہیں گویا کہ آپ اپنی آنکھوں کے سامنے یہ ساری چیزیں دیکھ رہے ہوں ۔اور جس انسان کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے احوال کے بارے میں علم نہ ہو ؛ اس کے لیے جائز نہیں ہے کہ وہ ایسے بنیادی اوراصولی مسائل میں گفتگو کرے۔

خلیفہ اسی وقت خلیفہ ہوسکتا ہے جب تک مستخلِف [جس کی جگہ خلیفہ بنایا جانا ہو] غائب ہو ؛ یا اس کا انتقال ہوچکا ہو۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خو د مدینہ طیبہ میں موجود تھے تو پھر وہاں پر آپ کے جانشین کا ہونا بھی ممتنع ہے ۔ جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے علاوہ دیگر مواقع پر اپنی عدم موجودگی میں جتنے بھی لوگوں کو مدینہ پر اپنا جانشین مقرر کیا ؛ آپ کے واپس آتے ہی ان کی جانشینی ختم ہوگئی۔یہی حال تمام ولاۃ الامور کا ہوتا ہے ؛ جب حاکم اپنی عدم موجودگی میں شہر پر کسی کو جانشین مقرر کرتے ہیں تو جب بھی جانشین مقرر کرنے والا خود واپس آجائے تو اس کی جانشینی کی حیثیت ختم ہوجاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یوں کہنا درست نہیں ہے کہ : ’’ بیشک فلاں کو اللہ تعالیٰ نے اپنا جانشین بنایا ۔‘‘

سو بلاشک و شبہ اللہ تعالیٰ زندہ و قائم اور اپنے بندوں کے امور کا مدبر ہے ۔ وہ موت ؛نیند اور غائب ہونے سے مبرا ہے ۔

یہی وجہ ہے کہ جب لوگوں نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہا : ’’ یا خلیفۃ اللہ !‘‘ تو آپ نے فرمایا : ’’ میں خلیفۃ اللہ نہیں ہوں ؛بلکہ میرے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خلیفہ ہوں ۔‘‘

ہاں اللہ تعالیٰ کے لیے یہ لفظ استعمال کیا جاتا ہے کہ وہ بندے کا خلیفہ ہے ۔جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

(( اللہم أنت الصاحب في السفر و الخلیفۃ في الأہل۔))

’’ اے اللہ ! تو ہی سفر کا ساتھی ہے اور گھر والوں میں خلیفہ ہے ۔‘‘

اورحدیث دجال میں آتا ہے :

’’واللّٰہ خلیفتي علی کل مسلم ۔‘‘ ’’اللہ تعالیٰ ہر مسلمان پر میرا خلیفہ ہے ۔‘‘

پس ہر وہ جسے اللہ تعالیٰ نے قرآن میں خلیفہ کہا ہے ‘ وہ اپنے سے پہلوں کا جانشین و خلیفہ ہے۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :

﴿ثُمَّ جَعَلْنٰکُمْ خَلٰٓئِفَ فِی الْاَرْضِ مِنْ بَعْدِہِمْ﴾ [یونس ۱۴]

’’پھر ان کے بعد ہم نے دنیا میں بجائے ان کے تم کو جانشین کیا۔‘‘

نیز اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :

﴿وَ اذْکُرُوْٓا اِذْ جَعَلَکُمْ خُلَفَآئَ مِنْ بَعْدِ قَوْمِ نُوْحٍ ﴾ [الأعراف۶۹]

’’پھر وہ وقت یاد کرو کہ اللہ نے تم کو قوم نوح کے بعد جانشین بنایا ۔‘‘

اور ارشادالٰہی ہے :

﴿وَعَدَ اللّٰہُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْکُمْ وَعَمِلُوْا الصّٰلِحٰتِ لَیَسْتَخْلِفَنَّہُم فِی الْاَرْضِ کَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِہِمْ﴾ [النور ۵۵]

’’وعدہ کر لیا اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں سے جو تم میں سے ایمان لائے اور نیک کام کیے، وہ انہیں ضرور حاکم کر دے گا جیسے ان لوگوں کو حاکم کیا تھا جوان سے پہلے گزر چکے ۔‘‘

جیساکہ اللہ تعالیٰ نے یہ بھی فرمایا :

﴿وَ اِذْ قَالَ رَبُّکَ لِلْمَلٰٓئِکَۃَ اِنِّیْ جَاعِلٌ فِی الْاَرْضِ خَلِیْفَۃً ﴾ [البقرۃ۳۰]

’’اور جب تیرے رب نے فرشتوں سے کہا کہ میں زمین میں خلیفہ بنانے والا ہوں ۔‘‘

یعنی اس مخلوق کا جانشین بنانے والا ہوں جو تم سے پہلے زمین پر تھے ؛ جیسا کہ مفسرین نے ذکر کیا ہے۔رہ گیا فرقہ اتحادیہ کا نظریہ ؛ جو یہ خیال کرتے ہیں کہ انسان اللہ تعالیٰ کا خلیفہ ہے تو یہ محض جہالت اور گمراہی ہے ۔


صفحہ 5 از 5