امامت حضرت علی رضی اللہ عنہ کی چھٹی حدیث:’’حدیث مؤاخاۃ ‘‘:…

امامت حضرت علی رضی اللہ عنہ کی چھٹی حدیث:’’حدیث مؤاخاۃ ‘‘:

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 1 از 3

امامت حضرت علی رضی اللہ عنہ کی چھٹی حدیث:’’حدیث مؤاخاۃ ‘‘:

[اشکال]:شیعہ مصنف لکھتا ہے:’’امامت حضرت علی رضی اللہ عنہ کے اثبات میں چھٹی روایت حدیث مؤاخات ہے ۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مہاجرین و انصار کے درمیان بھائی چارہ قائم کیا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کھڑے تھے اور آپ کو دیکھ اور جان رہے تھے، آپ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ اور کسی شخص کے درمیان بھائی چارہ قائم نہ کیا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ روتے ہوئے واپس لوٹ گئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ ابو الحسن کہاں گئے؟‘‘ لوگوں نے کہا :’’ روتے اور آنسو بہاتے ہوئے چلے گئے ۔‘‘ [آپ نے فرمایا: ’’ اے بلال ! جاؤ ‘ اور انہیں میرے پاس بلا لاؤ۔آپ ان کے پاس چلے گئے ۔جب آپ ان کے گھر میں داخل ہوئے توحضرت علی رضی اللہ عنہ کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے ]۔سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے رونے کی وجہ پوچھی تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کہا کہ آپ نے مہاجرین و انصار کے درمیان مواخات قائم کی ہے اور کسی کو میرا بھائی نہیں بنایا۔ ‘‘ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: اللہتعالیٰ آپ کو رسوا نہیں کرے گا، ہو سکتا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آپ کو اپنا بھائی بنانا چاہتے ہوں ۔‘‘حضرت بلال نے کہا: اے علی ! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ کو بلا رہے ہیں ؛ تشریف لائیے۔ جب حضرت بلال رضی اللہ عنہ کے بلانے پر حضرت علی رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے توآپ نے رونے کا سبب دریافت کیا: اے ابو الحسن ! تمہیں کس چیز نے رلا دیا؟ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے آپ کورونے کا سبب بتایاتو یہ سن کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’بیشک میں نے تجھے اپنے لیے خاص کیا ہے۔ کیا تجھے یہ بات پسند نہیں کہ تو نبی کا بھائی قرار پائے؟ توحضرت علی رضی اللہ عنہ نے کہا:’’ کیوں نہیں ؟ ‘‘ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کاہاتھ پکڑا اور منبر کے پاس آکر کہا:’’ علی میرا ہے اور میں اس کا ہوں ۔ ان کو مجھ سے وہی مرتبہ حاصل ہے جو ہارون کو موسیٰ علیہماالسلام سے تھا۔آگاہ ہوجاؤ! جس کا میں مولی ہوں علی اس کا مولیٰ ہے۔‘‘ جب آپ واپس پلٹے توحضرت عمر رضی اللہ عنہ ان کے پیچھے گئے ‘ اورفرمایا:’’ اے ابوالحسن!خوشخبری ہو! آپ میرے اور ہر مسلم کے مولیٰ ہوگئے ہیں ۔‘‘ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کی مواخات سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ افضل الصحابہ ہیں ۔ لہٰذا آپ ہی امام و خلیفہ ہوں گے۔‘‘[شیعہ کا بیان ختم ہوا]

[جواب]: پہلاجواب : سب سے پہلے ہم اس روایت کی صحت پیش کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں ۔ اس لیے کہ مصنف نے اس روایت کو کسی بھی کتاب کی طرف منسوب نہیں کیا۔جیسا کہ وہ اپنی عادت کے مطابق روایات کو منسوب کرتا ہے۔ اگرچہ اس کی عادت ایسی کتابوں کی طرف منسوب کرنا ہے جن سے حجت قائم نہیں ہوتی۔ یہاں پر اس نے اپنے اسلاف رافضی شیوخ کی عادت کے مطابق ارسال سے کام لیا ہے ؛ جو جھوٹ بولتے ہیں اور جھوٹ کو بغیر کسی سند کے نقل کرتے ہیں ۔ 

ابن مبارک رحمہ اللہ کا فرمان ہے: ’’ اسناد دین کا حصہ ہیں ۔ اگر اسناد نہ ہوتیں تو جو کوئی اپنی مرضی سے جو کچھ چاہتا کہتا پھرتا۔ اوراگر اس سے سوال کیا جاتا تووہ حیران و سرگرداں رک جاتا ۔‘‘

٭ دوسرا جواب : ہم کہتے ہیں :یہ روایت محدثین کے ہاں صریح جھوٹ ہے۔حدیث کا ادنی علم رکھنے والابھی اس کے جھوٹ ہونے میں ذرا بھر بھی شک نہیں کرتا۔اوراس حدیث کو گھڑنے والا انتہائی بڑا جاہل ہے‘ اس نے ایسا جھوٹ بولا ہے جو صاف صاف اورکھلا ہوا ظاہر ہے۔حدیث کی ادنی معرفت رکھنے والا بھی اس کے جھوٹ ہونے کو جانتا ہے جیسا کہ اس کا بیان آگے آئے گا۔

٭ تیسرا جواب : مواخات علی رضی اللہ عنہ کی تمام احادیث موضوع اورمن گھڑت ہیں [اس حدیث کا ضعیف ہونا بیان کیا جا چکا ہے۔ مگر یہاں پر ایک اور حوالہ ذکر کررہے ہیں ۔ مجمع الزوائد ۹؍۱۱۱؛ پر ہیثمی نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے حضرت علی رضی اللہ عنہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مابین مواخات پر ایک روایت ذکر کی ہے۔ ہیثمی نے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے :’’ یہ روایت طبرانی الکبیر اور الاوسط میں روایت کی ہے۔ اس میں حامد بن آدم المروزی ہے؛ جو کہ کذّاب ہے۔ پھر ایک اور روایت حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے نقل کی ہے؛ اور اس کے متعلق کہا ہے: ’’طبرانی نے اسے اوسط میں روایت کیا ہے؛ اس کی سند میں اشعث بن عم الحسن ابن صالح ہے؛ وہ ضعیف ہے؛ اس کے بارے میں ہمیں کچھ زیادہ معلوم نہیں ۔ اور اس سلسلہ کی تیسری حدیث طبرانی میں حضرت ابو مامہ سے مروی ہے؛ اس کی سند میں بشر بن عون ہے ؛ جو کہ ضعیف ہے۔]۔ نہ ہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کو اپنا بھائی بنایا اور نہ ہی مواخات مہاجرین کے مابین تھی ۔ نہ ہی ابوبکرو عمر رضی اللہ عنہما کو بھائی بنایا ؛ اور نہ ہی انصار کے مابین بھائی چارہ قائم کیا ۔ لیکن ایسا ضرورہوا ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت کرکے مدینہ تشریف لائے تو آپ نے مہاجرین و انصار کے مابین مواخات کا رشتہ آغاز ہجرت میں استوار کیا تھا۔ 

مباہلہ کا واقعہ :

جب کہ مباہلہ کا واقعہ سن ۹ یا ۱۰ ہجری میں اس وقت پیش آیاجب نجران کا وفد حاضر خدمت ہوا۔

٭ چوتھا جواب : اس حدیث کے جھوٹ ہونے کے دلائل صاف واضح ہیں ۔ان میں سے ایک : شیعہ مصنف کہتا ہے کہ :’’جب مباہلہ کادن تھا توآپ نے مہاجرین وانصار کے مابین بھائی چارہ قائم کیا ۔‘‘

صفحہ 1 از 3