امامت حضرت علی رضی اللہ عنہ کی چھٹی حدیث:’’حدیث مؤاخاۃ ‘‘:…

امامت حضرت علی رضی اللہ عنہ کی چھٹی حدیث:’’حدیث مؤاخاۃ ‘‘:

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 2 از 3

مباہلہ کا واقعہ وفد ِنجران کی آمد کے موقعہ پر ہوا تھا۔تب اللہ تعالیٰ نے سورۃ آل عمران کی آیات نازل فرمائیں ؛یہ سن نوہجری کے آخر یا دس ہجری کے شروع کا واقع ہے۔لوگوں کا اتفاق ہے کہ یہ واقعہ اس سے پہلے پیش نہیں آیا۔ دراصل نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا نجران کے عیسائیوں کیساتھ مباہلہ وقوع پذیر نہیں ہوا تھابلکہ انہیں صرف دعوت ِمباہلہ دی گئی تھی۔ انھوں نے مشورہ کی مہلت طلب کی۔جب خلوت میں مشورہ کیا تو ایک دوسرے سے کہنے لگے:’’آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے نبی ہیں اور جو قوم نبی سے مباہلہ کرتی ہے برباد ہو جاتی ہے۔‘‘ چنانچہ اہل کتاب میں یہ سب سے پہلے لوگ تھے جنھوں نے جزیہ دینا تسلیم کیا اور چلے گئے۔‘‘[سیرۃ ابن ہشام(ص:۲۷۱۔۲۷۷) البخاری، کتاب المغازی، باب قصۃ اہل نجران(ح: ۴۳۸۰) ۔]

لوگوں کا اس بات پر اتفاق ہے کہ مباہلہ کے دن کوئی مؤاخات نہیں ہوئی ۔

٭ پانچواں جواب: مہاجرین و انصار کے مابین موأخات کا واقعہ پہلی سن ہجری میں دار بنی النجار میں پیش آیا تھا۔ مباہلہ اورموأخات کے مابین کئی سال کافاصلہ ہے۔

٭ چھٹا جواب : نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مہاجرین و انصار کے مابین مؤاخات قائم کی تھی۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت علی رضی اللہ عنہ دونوں ہی مہاجر تھے۔ان کے مابین مؤاخات نہیں قائم ہوئی تھی۔ بلکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت سہیل بن حنیف رضی اللہ عنہ کے مابین بھائی چارہ قائم کیا تھا۔ معلوم ہوا کہ یہ بھائی چارہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کے مابین نہیں تھا۔یہ بات صحیحین کی روایت کے موافق ہے کہ مؤاخات مہاجرین و انصار کے مابین تھی؛ مہاجرین و مہاجرین کے مابین نہیں تھی۔

٭ ساتواں جواب: ’’أما ترضی أن تکون مِنِّیْ بِمَنْزِلَۃِ ہَارُوْنَ مِنْ مُّوْسٰیْ۔‘‘

’’کیاتم اس بات پر راضی نہیں کہ تمہیں میرے ساتھ وہی منزلت ہو جیسے ہارون حضرت موسیٰ کے ساتھ ۔‘‘

یہ جملہ آپ نے ایک ہی بار غزوہ تبوک کے موقع پر ارشاد فرمایا تھا۔ اس مجلس کے علاوہ آپ نے کسی بھی دوسرے موقع پر آپ نے اصلاً یہ جملہ ارشاد ہی نہیں فرمایا۔اس پر تمام محدثین اہل علم کا اتفاق ہے ۔ جب کہ ان کی روایت کردہ حدیث موالاۃ کے الفاظ بھی غدیر خم کے موقع پر ارشاد فرمائے تھے۔ اس کے علاوہ کسی اور مجلس میں آپ نے یہ جملے ارشاد ہی نہیں فرمائے۔

٭ آٹھواں جواب : اس سے پہلے حدیث مواخات کے متعلق گفتگو گزر چکی ہے۔ اس حدیث میں علی الاطلاق عموم ہے 

جس سے نہ ہی کسی افضلیت کا تقاضا ثابت ہوتا ہے اور نہ ہی امامت کا ۔ اور جو فضیلت حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے لیے ثابت ہے اس میں کوئی دوسرا آپ کا شریک نہیں ؛جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان :

’’ اگر میں زمین والوں میں سے کسی کو گہرا دوست بنانا چاہتا تو ابوبکر رضی اللہ عنہ کو بناتا۔‘‘ [البخاری، کتاب فضائل اصحاب النبی رضی اللّٰہ عنہم ، باب قول النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم ’’ لو کنت متخذا خلیلاً‘‘ (ح۳۶۵۸)، صحیح مسلم، کتاب فضائل الصحابۃ، باب من فضائل ابی بکر الصدیق رضی اللّٰہ عنہ (ح: ۲۳۸۲، ۶؍۲۳۸۳)۔]

اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کایہ خبر دینا کہ : مردوں میں حضرت ’’ابوبکر رضی اللہ عنہ آپ کو عزیز تر ہیں ۔‘‘

اور حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کاگواہی دیناکہ :

’’ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی ہم سب سے زیادہ آپ کو چاہتے تھے۔‘‘

ان کے علاوہ دیگر وہ روایات ہیں جن سے دلائل کی روشنی میں نقلی طور پر حدیث مواخات سے ان لوگوں کے استدلال کا بطلان ثابت ہوتا ہے۔

٭ نواں جواب : بعض لوگوں کا یہ خیال کرلینا کہ مواخات کا رشتہ مہاجرین کے مابین قائم ہوا تھا ؛ کیونکہ اس طرح کی بعض روایات نقل کی گئی ہیں ۔مگر یہ بات دوٹوک یقین کے ساتھ کہی جاسکتی ہے کہ ایسا بالکل نہیں ہوا تھا ۔اور اس طرح کی جتنی بھی روایات ہیں ‘ وہ سب باطل ہیں ۔یہ ان لوگوں کی روایات ہیں جو جان بوجھ کر جھوٹ بولتے ہیں یا پھر ان لوگوں نے انہیں نقل کیا ہے جن سے نقل کرنے میں خطا واقع ہوئی ہے۔یہی وجہ ہے کہ اصحاب صحاح [ستہ ] نے اس طرح کی کوئی روایت نقل نہیں کی۔

٭ صحیح احادیث سے ثابت شدہ بات ہے کہ مؤاخات کا رشتہ مہاجرین و انصار کے مابین قائم ہوا تھا۔ یہ بات سبھی جانتے ہیں کہ اگر مہاجرین کا ان کے آپس میں اور انصار کا ان کے مابین رشتہ مؤاخات قائم کیا ہوتا تو اسے نقل کرنے اور اتنی اہمیت دینے کی کوئی وجہ یا سبب نہ ہوتا ۔اورجہاں دوسرے امور ذکر کیے جاتے ہیں وہاں احادیث مؤاخات میں اس کا ذکر بھی کیا گیا ہوتا۔حالانکہ اس بارے میں کوئی ایک بھی صحیح حدیث نہیں ہے ‘ اور نہ ہی اصحاب صحاح ستہ نے ایسی کوئی روایت نقل کی ہے۔یہ بات ہر وہ انسان جانتا ہے جسے صحیح احادیث اورسیرت کی متواتر روایات؛ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے احوال ؛مؤاخات کے اسباب و فوائداور مقصود کا علم ہوتاہے۔وہ اس مؤاخات کی رو سے ایک دوسرے کے وارث بھی بنتے تھے۔ سو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مہاجرین وانصار کے مابین مؤاخات کا رشتہ قائم کیا تھا۔ جیساکہ آپ نے حضرت سعد بن ربیع اور عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہما ؛اور حضرت سلیمان فارسی اور حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہما کے مابین مؤاخات قائم کی تھی تاکہ مہاجرین و انصار کے مابین ایک صلہ قائم ہوجائے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :

﴿وَ اُولُوا الْاَرْحَامِ بَعْضُہُمْ اَوْلٰی بِبَعْضٍ فِیْ کِتٰبِ اللّٰہِ﴾ [الأنفال ۷۵]

’’اور رشتے دار اللہ کی کتاب میں ایک دوسرے کے زیادہ حق دار ہیں ۔‘‘

یہ وہی حلف ومؤاخات ہے جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :

﴿ وَ الَّذِیْنَ عَقَدَتْ اَیْمَانُکُمْ فَاٰتُوْہُمْ نَصِیْبَہُمْ ﴾ [النساء۳۳]

’’ اور جن لوگوں کو تمھارے عہد و پیمان نے باندھ رکھا ہے انھیں ان کا حصہ دو۔‘‘

صفحہ 2 از 3