شیعہ حضرات یہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ جب تم معاویہ (رضی اللہ عنہ) کو منبر پر دیکھو تو اسے قتل کر دو
مولانا ابوالحسن ہزارویشیعہ حضرات یہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ جب تم معاویہ (رضی اللہ عنہ) کو منبر پر دیکھو تو اسے قتل کر دو
الجواب اہلسنّت
مذکورہ روایت، روایت اور درایت دونوں کے اعتبار سے غلط ہے اس روایت کو نقل کرنے والا عمرو بن عبید معتزلی ہے۔ جس نے اس روایت کو حسن بصری رحمہ اللہ کی طرف منسوب کیا ہے خطیب بغدادی رحمہ اللہ نے اپنی کتاب (متعلق میں) امام بخاری رحمہ اللہ نے اپنی کتاب (تاریخ صغیر )میں خطیب بغدادی نے اپنی کتاب تاریخ بغدادی میں اور دیگر تمام علماء متقدمین اس روایت کو حسن بصری رحمہ اللہ کی طرف منسوب کرنا جھوٹ اور کذب قرار دیا ہے اور یہ روایت معتزلہ نے چلائی ہے جو امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے سخت دشمن تھے حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے امیر شام بنایا تھا اور عرصہ دراز تک دمشق کی جامع مسجد کے ممبر پر خطبہ دیتے رہے ہیں امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے تقرر کے وقت کسی صاحب نے اعتراض کیا اور نہ ہی کوئی انہیں ممبر پر قتل کرنے کے لئے اٹھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زندگی میں جو انہیں عظمت اور فضیلت عطا کی ہے اور تعریف میں احادیث بیان فرمائی ہیں یہ سب باتیں اس بات کی کھلی دلیل ہیں کہ مذکورہ روایات اور حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے خلاف اس قسم کے دوسرے قصے کہانی اور افسانہ محض جھوٹ اور من گھڑت ہیں۔