Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

مسیلمہ کذاب کا قتل

  علی محمد الصلابی

مسلمان مرتدین سے قتال کرتے ہوئے مسیلمہ کذاب تک پہنچ گئے، وہ ایک دیوار کے شگاف کے درمیان کھڑا ہوا تھا، جیسے خاکستری اونٹ ہو۔ وہ بچاؤ اور سہارے کی تلاش میں تھا، غصہ سے پاگل ہو چکا تھا۔ جب اس کا شیطان اس پر سوار ہوتا تو اس کے منہ سے جھاگ نکلتی، اسی حالت میں حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ کے غلام سیدنا وحشی بن حربؓ جنہوں نے غزوۂ احد میں حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کو قتل کیا تھا، آگے بڑھے اور اپنا حربہ پھینک کر مارا، وہ مسیلمہ کو جا لگا اور دوسری طرف سے پار ہو گیا۔ پھر جلدی سے سيدنا ابودجانہ سماک بن خرشہ رضی اللہ عنہ اس کی طرف بڑھے، اس پر تلوار چلائی اور وہ زمین پر ڈھیر ہو گیا۔ قصر سے ایک عورت پکار اٹھی: حسن و جمال کے پیکر امیر کو کالے کلوٹے غلام نے قتل کر دیا۔ باغ اور معرکہ میں قتل ہونے والے مرتدین کی تعداد تقریباً دس ہزار تھی، اور ایک روایت میں اکیس ہزار بھی وارد ہے، اور جام شہادت نوش کرنے والے مسلمانوں کی تعداد چھ سو تھی، اور ایک روایت میں پانچ سو وارد ہے، واللہ اعلم۔ شہید ہونے والوں میں کبار صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین شامل ہیں جن کا ذکر آگے آرہا ہے۔

حضرت خالد رضی اللہ عنہ مقتولین کا جائزہ لینے کے لیے نکلے، آپؓ کے پیچھے مجاعہ بن مرارہ بیڑیوں میں جکڑا ہوا چل رہا تھا۔ آپ اسے مقتولین کو دکھاتے تا کہ مسیلمہ کی شناخت کر سکے، رجال بن عنفوہ کے پاس سے گزر ہوا، آپؓ نے مجاعہ سے دریافت کیا: کیا یہی مسیلمہ ہے؟ اس نے کہا: نہیں، یہ اس سے بہتر ہے، یہ رجال بن عنفوہ ہے۔ پھر ایک زرد رنگ اور چپٹی ناک والے شخص کے پاس سے گزر ہوا، سیدنا خالد رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تمہارے صاحب یہی ہیں؟ اللہ تعالیٰ نے اسی کی اتباع کی وجہ سے تو تمہیں برباد کیا ہے۔ پھر حضرت خالدؓ نے شہسواروں کو یمامہ کے اطراف میں بھیجا تاکہ قلعوں کے اطراف میں جو مال اور قیدی ملیں انہیں لے آئیں۔

(البدایۃ والنہایۃ: جلد 6 صفحہ 330)