Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

حضرت ابوعقیل عبد الرحمٰن بن عبداللہ البلوی الانصاری الاوسی رضی اللہ عنہ

  علی محمد الصلابی

سیدنا ابوعقیلؓ معرکہ یمامہ میں پہلے زخمی ہونے والوں میں سے تھے، آپؓ پر تیر مارا گیا جو آپؓ کے دونوں کندھوں اور دل کے درمیان لگا، جس سے آپؓ زخمی ہو گئے۔ تیر نکالا اور اس زخم سے آپؓ کا بایاں پہلو کمزور ہو گیا۔ آپؓ کو مسلمانوں کے معسکر میں لایا گیا۔ جب معرکہ گرم ہو ا اور مسلمان اپنے خیموں اور چھاؤنی کی طرف پیچھے ہٹنے لگے، حضرت ابوعقیل رضی اللہ عنہ زخم سے نڈھال تھے، اتنے میں سيدنا معن بن عدیؓ کو پکارتے ہوئے سنا: اے انصار! اللہ، اللہ اپنے دشمن پر ٹوٹ پڑو۔ یہ کہہ کر حضرت معن رضی اللہ عنہ آگے بڑھے۔ سيدنا ابو عقیلؓ اٹھ کھڑے ہوئے اور انصار کی طرف بڑھے۔

لوگوں نے کہا: اے سيدنا ابوعقیلؓ! آپؓ قتال کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔

فرمایا: منادی نے میرا نام لے کر بلایا ہے۔

آپؓ سے کہا گیا: منادی نے انصار کو آواز دی ہے، اس سے زخمی مقصود نہیں ہیں۔

آپؓ نے فرمایا: میں بھی تو انصار کا ایک فرد ہوں۔ میں ضرور اس پکار پر لبیک کہوں گا، اگرچہ گھسٹ کر ہی کیوں نہ ہو۔

پھر آپؓ کمر کس کر تیار ہو گئے، اپنے دائیں ہاتھ میں تلوار کھینچ لی اور پکارنے لگے: اے انصار! حنین کی طرح دوبارہ ٹوٹ پڑو۔

یہ آواز سن کر سب جمع ہو گئے اور پورے جوش و جذبے کے ساتھ شہادت یا فتح کے شوق میں آگے بڑھے اور دشمن کو پیچھے دھکیل کر باغ میں بند کر دیا۔ اس حملہ میں سيدنا ابو عقیلؓ کا ایک ہاتھ کندھے سے کٹ گیا اور آپؓ کے جسم پر چودہ زخم آئے، جس کے نتیجہ میں آپؓ نے جام شہادت نوش کیا۔ حضرت ابوعقیل رضی اللہ عنہ کی آخری سانس چل رہی تھی کہ سيدنا عبداللہ بن عمرؓ کا آپؓ کے پاس سے گزر ہوا، فرمایا:

اے ابوعقیلؓ!

کہا: حاضر ہوں۔

پھر دریافت کیا: انجام کس کے لیے ہے؟

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: خوش ہو جاؤ اللہ کا دشمن قتل کیا جا چکا ہے۔

سیدنا ابوعقیلؓ نے اپنی انگلی آسمان کی طرف اٹھائی اور اللہ کا شکر ادا کیا۔

آپؓ کے بارے میں حضرت عمرؓ نے فرمایا: اللہ ان پر رحم فرمائے، وہ برابر شہادت کی طلب میں لگے رہے، وہ ہمارے نبیﷺ کے بہترین صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں سے تھے۔

(حروب الردۃ: شوقی ابو خلیل صفحہ، 93، 94 بحوالہ الاکتفاء: جلد 2 صفحہ 13)