نسیبہ بنت کعب المازنیہ الانصاریہ
علی محمد الصلابیآپؓ بھی لشکر خالد کے ساتھ یمامہ کی طرف روانہ ہوئیں۔ قتال میں بذاتِ خود حصہ لیا اور یہ قسم کھا رکھی تھی کہ جب تک بنو حنیفہ کا دجال قتل نہیں ہو جاتا ہتھیار نہیں رکھوں گی۔ اللہ کے فضل سے آپؓ کی قسم پوری ہوئی اور مسیلمہ قتل ہوا اور آپؓ مدینہ واپس ہوئیں، آپؓ کے جسم پر تلوار اور نیزوں کے بارہ زخم تھے۔ یہ سب کے سب اس مجاہدِ صحابیہ کے لیے تمغائے شرف تھے جس نے خواتین کے لیے دین و عقیدہ کے دفاع سے متعلق بہترین مثال پیش کی ہے۔ اگرچہ اس کی خاطر وہ چیز برداشت کرنا پڑی جو عام طور سے صنف نازک کے بس کی نہیں۔
(حرکۃ الردۃ للعتوم: صفحہ 309)
اس معرکہ کے بعد سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے ان کے بارے میں پورا اہتمام کیا۔ سیدہ نسیبہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: جب جنگ ختم ہو گئی اور میں اپنی قیام گاہ پر واپس آئی تو حضرت خالدؓ طبیب لے کر حاضر ہوئے، جس نے کھولتے ہوئے تیل سے میرا علاج کیا۔ واللہ یہ علاج میرے لیے زخم سے زیادہ تکلیف دہ رہا۔ سیدنا خالد رضی اللہ عنہ برابر میری خبر گیری کرتے، حسن صحبت کا ثبوت دیتے اور ہمارے حقوق کو پہچانتے اور ہمارے سلسلہ میں نبی کریمﷺ کی وصیت پر عمل کرتے۔
(الانصار فی العصر الراشدی: صفحہ 190)