فصل:....[امامت حضرت علی رضی اللہ عنہ کی آٹھویں دلیل: حدیث…

فصل:....[امامت حضرت علی رضی اللہ عنہ کی آٹھویں دلیل: حدیث طیر]

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 1 از 8

فصل:....[امامت حضرت علی رضی اللہ عنہ کی آٹھویں دلیل: حدیث طیر]

[اشکال]:شیعہ مصنف لکھتا ہے:’’تمام جمہور نے روایت کیا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک پرندہ لایا گیا، تو آپ نے دعا کی :’’ اے اللہ! اس پرندے کا گوشت کھانے کے لیے کسی ایسے شخص کو میرے پاس بھیج جو مجھے اور تجھے سب لوگوں میں سے عزیز تر ہو۔ اتنے میں حضرت علی رضی اللہ عنہ تشریف لائے؛ اور دروازے پر دستک دی۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کسی ضرورت میں مشغول ہیں ۔ پس آپ واپس چلے گئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر پہلے کی طرح دعا کی؛ اتنے میں دروازے پر دستک ہوئی۔ حضرت انس نے پھر کہا: کیا میں نے نہیں کہا کہ : آپ کسی ضرورت میں مشغول ہیں ۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ پھر واپس پلٹ گئے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر پہلے کی طرح دعا کی ؛ آپ پھر واپس آئے اور پہلے دو بار کی نسبت بہت سخت دستک دی۔ اس دستک کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سن لیااور فرمایا: اسے اندر آنے کی اجازت دو۔ جب آپ اندر تشریف لائے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:تم نے اتنی دیر کیوں لگادی ؟ تو انہوں نے عرض کیا : میں ایک بار آیا تو مجھے انس نے واپس کردیا ‘ پھر دوسری بار آیا تو انس نے واپس کردیا۔ پھر میں تیسری بار آیا تو انس نے واپس کردیا۔ آپ نے پوچھا : اے انس! تم نے ایسے کیوں کیا ؟ تو انہوں نے عرض کی : میں یہ امید کرتا تھا کہ یہ دعا انصار کے کسی فرد کے لیے ہو۔ تو آپ نے فرمایا : اے انس! کیا انصار میں علی سے بہتر بھی کوئی ہے ؟ یا انصار میں علی سے افضل بھی کوئی ہے۔ جب آپ اللہ کے ہاں سب سے محبوب مخلوق تھے تو اس سے واجب ہوا کہ آپ ہی امام بھی ہوں ۔ ‘‘[انتہی کلام الرافضی ]

[جواب]:اس کا جواب کئی طرح سے دیا گیاہے : 

٭ پہلا جواب : ہم اس حدیث کی صحت پیش کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں ۔ مصنف کا یہ کہنا کہ تمام جمہور نے اس روایت کو نقل کیا ہے ؛ جمہور پر جھوٹ اور بہتان ہے۔اسے نہ ہی اصحاب صحاح نے روایت کیا اور نہ ہی محدثین نے اسے صحیح کہا۔لیکن یہ بعض لوگوں کی نقل کردہ مرویات میں سے ہے۔ جیسا کہ اس جیسی دوسری روایات بھی حضرت علی رضی اللہ عنہ کے فضائل میں نقل کی گئی ہیں ۔ بلکہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے فضائل میں بھی بہت ساری روایات نقل کی گئی ہیں ۔ اور اس باب میں مستقل کتابیں لکھی گئی ہیں ۔ لیکن محدثین کرام نے ان میں سے کسی ایک کو بھی صحیح نہیں کہا۔

٭ دوسرا جواب : ہم کہتے ہیں : یہ حدیث سب محدثین؛اہل علم ومعرفت کے نزدیک جھوٹی اور موضوع ہے۔ ابو موسیٰ المدینی کہتے ہیں : کئی معتبر محدثین نے اس [پرندہ والی ]روایت کی اسناد جمع کی ہیں ۔ جیسے کہ حاکم نیشا پوری ؛ ابو نعیم ؛ ابن مردویہ اور دوسرے محدثین کرام رحمہم اللہ ۔

مشہور محدث امام حاکم سے ’’حدیث الطیر ‘‘ کے بارے میں پوچھا گیا تو انھوں نے کہا:’’ یہ حدیث صحیح نہیں ۔‘‘ [تفصیل کے لیے دیکھئے۔ تذکرۃ الحفاظ للذہبی (۳؍۱۰۴۲۔۱۰۴۳۔ ترجمۃ للامام الحاکم)، البدایۃ النھایۃ لابن کثیر (۷؍ ۳۸۷)، یہ روایت سنن ترمذی(۳۷۲۱)، کتاب المناقب ‘ باب مناقب علی رضی اللّٰہ عنہ ؛(۳۸۰۵) میں مختصراً مروی ہے: اس حدیث کے الفاظ یہ ہیں : ’’نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک پرندہ تھا؛ تو آپ نے فرمایا: ’’ اے اللہ ! میرے پاس مخلوق میں اپنے نزدیک سب سے محبوب انسان کو لے آ؛ تاکہ وہ میرے ساتھ یہ پرندہ کھائے؛ اتنے میں حضرت علی رضی اللہ عنہ تشریف لائے اور انہوں نے آپ کے ساتھ اسے کھایا۔‘‘امام ترمذی اس حدیث کے نقل کرنے کے بعد فرماتے ہیں : یہ حدیث غریب ہے؛ سدی سے اسے ہم صرف اس سند کے ساتھ جانتے ہیں ۔یہ حدیث ایک اور سند سے بھی حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے جسے امام شوکانی رحمہ اللہ نے فوائد مجموعہ میں ص ۳۸۲پر بھی نقل کیا ہے۔ امام شوکانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں : ’’ المختصر‘‘ میں کہا گیا ہے کہ اس حدیث کی کئی اسناد ہیں ‘ جوکہ تمام کی تمام ضعیف ہیں ۔اسے ابن جوزی رحمہ اللہ نے موضوعات میں درج کیا ہے۔جب کہ امام حاکم رحمہ اللہ نے اسے مستدرک حاکم میں نقل کرتے ہوئے صحیح کہا ہے۔جس پر بہت سارے اہل علم نے اعتراض کیا ہے۔ جو زیادہ تفصیل میں جانا چاہتا ہو اسے چاہیے کہ سیر اعلام النبلاء میں امام حاکم رحمہ اللہ کے حالات زندگی میں دیکھ لے۔ نیز دیکھیے: تحفۃ الاحوذی(۴؍۳۲۸)۔ موضوعات میں اس کے قریبی معنی میں ایک اور روایت ۱؍۳۷۶ پر نقل کی گئی ہے: اس میں ہے: ’’ حضرت انس فرماتے ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا : اے انس ! میرے لیے وضوء کا پانی لاؤ۔ پھر آپ نے کھڑے ہوکر دو رکعت نماز ادا کی اور فرمایا: ’’اے(]

حالانکہ حاکم تشیع کی جانب منسوب ہے۔ان سے یہ بھی کہا گیا تھا کہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے فضائل میں کوئی حدیث بیان کرو ‘ تو آپ نے فرمایا :’’ ایسی کوئی روایت میرے دل میں نہیں آتی ؛ یامیری زبان پر جاری نہیں ہوتی ۔ اس بات پر آپ کو مارا بھی گیا ؛ مگر آپ نے فضائل معاویہ رضی اللہ عنہ میں کوئی حدیث بیان نہ کی۔ حالانکہ آپ وہی امام حاکم ہیں جنہوں نے اپنی کتاب اربعین میں صرف ضعیف ہی نہیں بلکہ ائمہ حدیث کے نزدیک موضوع احادیث تک جمع کی ہیں ۔ جیسا کہ وعدہ توڑنے والے اور بیعت توڑنے والے کو قتل کرنے کی روایت ۔ مگران کی شیعیت اور ان جیسے دوسرے ائمہ حدیث جیسے امام نسائی ‘ ابن عبد البر اور ان کے امثال کی شیعیت اس درجہ تک نہیں پہنچتی کہ یہ لوگ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو حضرات ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما پر فضیلت دیں ۔ علماء حدیث میں کوئی ایک بھی ایسا نہیں پایا جاتا جو حضرت علی رضی اللہ عنہ کو حضرات شیخین پر فضیلت دیتا ہو۔ بلکہ ان میں شیعیت کا انتہائی درجہ یہ ہے کہ یہ لوگ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ پر ترجیح دیتے ہیں ۔ باقی ان

صفحہ 1 از 8