فصل:....[امامت حضرت علی رضی اللہ عنہ کی آٹھویں دلیل: حدیث…

فصل:....[امامت حضرت علی رضی اللہ عنہ کی آٹھویں دلیل: حدیث طیر]

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 3 از 8

بصورت اوّل آپ کے لیے ممکن تھا کہ آپ کسی کو بھیج کرحضرت علی رضی اللہ عنہ کو بلالیتے ؛پھر آپ نے انہیں کیوں نہیں بلا لیا؟ جیسے کہ آپ دیگر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے کسی ایک کو بوقت ضرورت بلالیا کرتے تھے۔ یا پھر آپ نے دعا میں یوں کیوں نہ فرمایا کہ :’’ اے اللہ! علی رضی اللہ عنہ کو حاضر کردے؛ بیشک وہ تیرے ہاں مخلوق میں سب سے زیادہ محبوب ہے۔‘‘ اگر آپ ایسے صاف اور صریح الفاظ میں علی رضی اللہ عنہ کا نام لے کر دعا کردیتے تو حضرت انس رضی اللہ عنہ سے ایک بھی باطل امید پر نہ رہتے ‘اور نہ ہی حضرت علی رضی اللہ عنہ کی آمد پر دروازہ بند کردیتے ۔

اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ بات نہیں جانتے تھے ؛ تو رافضیوں کایہ دعوی باطل ثابت ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بات کا علم تھا۔ نیز یہ کہ اس روایت کے الفاظ ہیں :

(( اَحَبَّ خَلْقِکَ اِلَیْکَ وَاِلَيَّ۔))

’’ جو تجھے اور مجھے تیری مخلوق میں سب سے زیادہ محبوب ہو۔‘‘

حیرانی کی بات ہے کہ جب حضرت علی رضی اللہ عنہ سب مخلوقات سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو عزیز تر تھے تو آپ کو یہ بات کیوں کر معلوم نہ تھی؟

٭ چھٹا جواب : کتب صحاح ستہ میں جو احادیث صحیح اور ثابت ہیں اورجن کے صحیح ہونے پر محدثین کا اتفاق ہے ؛اور انہیں علمائے کرام رحمہم اللہ میں قبول عام حاصل ہے؛ وہ تمام احادیث اس روایت کے خلاف ہیں ۔ تو پھر ان کا مقابلہ اس موضوع اور جھوٹی روایات سے کیوں کر کیا جاسکتا ہے جنہیں کسی ایک نے بھی صحیح نہیں کہا۔

اس روایت کے ناقابل اعتماد ہونے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ بخاری و مسلم اور دوسری کتب میں وارد فضائل صحابہ کرام کی روایات ہیں ۔بخاری و مسلم میں مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

’’ اگر روئے زمین پر رہنے والوں میں سے کسی کو گہرا دوست بنانے والا ہوتا تو ابوبکر رضی اللہ عنہ کو بناتا۔‘‘[صحیح بخاری، کتاب فضائل اصحاب النبی رضی اللّٰہ عنہم ۔ باب قول النبی رضی اللّٰہ عنہم’’ لوکنت متخذًا خلیلاً‘‘ (ح:۳۶۵۶)،صحیح مسلم کتاب فضائل الصحابۃ، باب من فضائل ابی بکر الصدیق رضی اللّٰہ عنہ ،(ح:۲۳۸۲)]

یہ حدیث مشہور ہی نہیں بلکہ اہل علم کے ہاں متواترہے۔صحاح ستہ میں مختلف طرق سے مروی ہے’ اس حدیث کے راویوں میں حضرت ابن مسعود[صحیح مسلم(۲۳۸۳) ] ،ابن عباس [صحیح بخاری (۳۶۵۶ ]،ابو سعید[صحیح بخاری (۳۶۵۴)، صحیح مسلم(۲۳۸۲ ] او ر ابن زبیر رضی اللہ عنہم [صحیح بخاری (۳۶۵۸)] جیسے جلیل القدر صحابہ شامل ہیں ۔

یہ حدیث اس باب میں ایک صریح ثبوت ہے اہل ارض میں سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے بڑھ کر محبوب کوئی دوسرا نہیں تھا۔ اس لیے کہ ’’خلۃ[یاخلیل]‘‘ کا لفظ محبت کے کمال [ومعراج ] کے لیے بولا جاتاہے۔ اور یہ چیز صرف اللہ تعالیٰ کے لیے ہی ہوسکتی ہے۔ اگر یہ اہل دنیا میں سے کسی کے لیے ممکن ہوتی تو پھر اس کے مستحق حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ تھے۔ اس لیے کہ آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے لوگوں میں سب سے بڑھ کر محبوب تھے۔ 

حدیث صحیح میں وارد ہوا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا گیا تھا کہ سب لوگوں میں سے آپ کو عزیز تر کون ہے؟ فرمایا:’’ عائشہ۔‘‘ عرض کیا گیا مَردوں میں سے کون؟ فرمایا: ’’ان کے والد ابوبکر رضی اللہ عنہ ۔‘‘[صحیح بخاری ، حوالہ سابق (حدیث:۳۶۶۲)، صحیح مسلم، حوالہ سابق (حدیث: ۲۳۸۴)]

سقیفہ بنی ساعدہ کے روز حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے مہاجرین وانصار کے ہجوم میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو مخاطب کرکے کہا تھا:

’’آپ ہم میں سب سے بہتر اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو عزیز تر ہیں ۔‘‘[صحیح بخاری ،حوالہ سابق(حدیث:۳۶۶۸)۔ ]

صحابہ رضی اللہ عنہم میں سے کسی نے بھی اس کی تردید نہیں کی تھی۔‘‘

نیز یہ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت اللہ تعالیٰ کی محبت کے تابع ہے ۔ پس ابوبکر رضی اللہ عنہ اللہ تعالیٰ کو مخلوق میں سب سے محبوب تھے ‘اسی لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کوبھی آپ سے بہت زیادہ پیار تھا۔

ہاں بالکل معاملہ ایسے ہی تھا۔ اس لیے کہ[رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد] آپ ان سب میں اللہ سے زیادہ ڈرنے والے اور عزت والے تھے۔ اور مخلوق میں اللہ کے ہاں سب سے زیادہ معزز و مکرم اور کتاب و سنت کا تقوی رکھنے والے تھے۔ سب سے بڑے متقی تھے۔ اللہ تعالیٰ آپ کو متقی قرار دیتے ہوئے فرماتے ہیں :

﴿وَسَیُجَنَّبُہَا الْاَتْقٰی oاَلَّذِیْ یُؤْتِیْ مَالَہٗ یَتَزَکّٰیo وَ مَالِاَحَدٍ عِنْدَہٗ مِنْ نِّعْمَۃٍ تُجْزٰی o اِِلَّا ابْتِغَائَ وَجْہِ رَبِّہٖ الْاَعْلٰی oوَلَسَوْفَ یَرْضٰی ﴾ (اللیل:۱۷۔۲۱)

’’اور اس سے ایسا شخص دور رکھا جائے گا جو بڑا پرہیزگار ہے۔جو پاکیزہ ہونے کی خاطر اپنا مال دیتا ہے اس پر کسی کا کوئی احسان نہیں ہے جس کا بدلہ اسے دینا ہو۔بلکہ صرف اپنے پروردگار بزرگ و بلند کی رضا چاہنے کے لیے۔ یقیناً وہ (اللہ بھی)عنقریب رضامند ہو جائے گا۔‘‘

ائمہ تفسیر فرماتے ہیں کہ یہ آیات حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے بارے میں نازل ہوئیں ۔ [مستدرک حاکم(۲؍۵۲۵)،تفسیر درمنثور(۶؍۶۰۵)۔ تفسیر قرطبی میں ہے: یعنی اس جہنم سے وہ آدمی دورہوگا جو متقی اور ڈرنے والا ہے حضرت ابن عباس نے فرمایا، الاتقی سے مراد حضرت ابوبکر ہیں جنہیں جہنم میں داخل ہونے سے دور رکھاجائے گا۔]

صفحہ 3 از 8