فصل:....[امامت حضرت علی رضی اللہ عنہ کی آٹھویں دلیل: حدیث…

فصل:....[امامت حضرت علی رضی اللہ عنہ کی آٹھویں دلیل: حدیث طیر]

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 7 از 8

اس میں مستثنیٰ منقطع ہے۔اس کا معنی یہ ہوا کہ : یہ ’’اتقی ‘‘ عطیات دینے میں صرف ان لوگوں پر انحصار نہیں کرتا جن کا ان پر کوئی احسان ہے ؛ اس لیے کہ لوگوں کا آپس میں ایسا کرناتوعدلاً واجب ہے جو کہ خرید و فروخت اور اجرت کی منزلت پر ہے۔ہر انسان کے ساتھ ایسا کرناہر ایک پر واجب ہے۔ اور اگر کسی انسان کا کوئی قابل معاوضہ [بدلہ ]احسان نہ ہو تو پھر اس قسم کے معادلہ [برابری کے سلوک] کی ضرورت نہیں رہتی۔ پس اس صورت میں عطاء خالص اللہ کی رضا کے لیے ہوگی ۔ بخلاف اس شخص کے جس پر کسی کا کوئی احسان ہو‘ تو وہ بدلہ چکانے کا محتاج ہوتا ہے۔اسے ضرورت ہوتی ہے کہ وہ بھلائی کے بدلہ میں بھلائی کا سلوک کرے۔ لیکن جس شخص پر کسی کا کوئی ایسا احسان نہیں ہے جس کا اسے بدلہ دیا جائے ‘تو جب یہ شخص اپنا مال اللہ کی راہ میں خرچ کرے تو یہ صرف اپنے تزکیہ نفس کے لیے ہوگا۔ اس لیے کہ یہ انسان ہمیشہ لوگوں کو ان کے معاملات میں پورا پورا بدلہ دیتا ہے؛ ان کی مدد کرتا اورانہیں جزاء سے نوازتا ہے۔پس جب اللہ تعالیٰ اسے مال عطا کرتا ہے تو وہ اسے تزکیہ نفس کے لیے خرچ کرتا ہے ‘ اس پر کسی کا کوئی احسان نہیں ہوتاجس کا بدلہ دے رہا ہو۔

نیز اس آیت میں ایک پہلو یہ بھی ہے کہ : یہ فضیلت اس انسان کی ہے جو معاوضات میں سے واجبات کی ادائیگی کے بعد خرچ کررہا ہو۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

﴿وَ یَسْئَلُوْنَکَ مَاذَا یُنْفِقُوْنَ قُلِ الْعَفْوَ﴾ [البقرۃ۲۱۹]

’’ آپ سے دریافت کرتے ہیں کہ کیا کچھ خرچ کریں ، تو آپ فرما دیجئے حاجت سے زیادہ چیز۔‘‘

پس جس پر قرض یادوسرے فرائض ہوں ‘ پہلے وہ ادا کرے گا ‘وہ صدقہ کو ان واجبات پر مقدم نہیں کرے گا۔اگر اس نے ایسا کرلیا تو کیا اس کا صدقہ واپس کردیا جائے گا؟ اس مسئلہ میں فقہاء کرام کے ہاں دو قول معروف ہیں ۔

اس آیت سے وہ لوگ استدلال کرتے ہیں جو صدقہ واپس کرنے کا کہتے ہیں ۔ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے اس انسان کی تعریف کی ہے جو اپنا مال تزکیہ نفس کے لیے خرچ کرتا ہے ‘اور اس پر کسی کا قابل معاوضہ [یا بدلہ ] احسان نہیں ہوتا۔ اگر اس پر کسی انسان کا احسان ہو توضروری ہے زکوٰۃ کا مال نکالنے سے پہلے بدلہ چکائے۔ اگر اس نے بدلہ چکانے سے پہلے اس مال کو تزکیہ کے لیے خرچ کردیا ‘تو اس کایہ فعل قابل تعریف نہ ہوگا۔ بلکہ اس کایہ عمل مردود ہوگا جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے :

’’ جس کسی نے کوئی ایسا کام کیا جس کا ہم نے حکم نہیں دیا تو اس کا وہ کام مردود ہوگا۔‘‘

٭ تیسری بات : نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

’’مجھے اور کسی کے مال سے اتنا فائدہ نہیں پہنچا جتنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے مال سے حاصل ہوا۔‘‘ [الترمذی۔ کتاب المناقب۔ باب۱۵؍۳۴)، (ح:۳۶۶۱)، سنن ابن ماجۃ۔ المقدمۃ۔ باب فضائل ابی بکر الصدیق رضی اللّٰہ عنہ (ح:۹۴)۔ ]

نیزفرمایا:’’ ابوبکر رضی اللہ عنہ کی صحبت و رفاقت اور مال کے احسانات مجھ پر سب سے زیادہ ہیں ۔‘‘ [صحیح بخاری، کتاب فضائل اصحاب النبی صلي اللّٰه عليه وسلم۔ باب قول النبی صلي اللّٰه عليه وسلم’’ سدوا الابواب الا باب ابی بکر‘‘ (ح:۳۶۵۴)، صحیح مسلم، کتاب فضائل الصحابۃ، باب من فضائل ابی بکر الصدیق رضی اللّٰہ عنہ (ح:۲۳۸۲)۔ ]

بخلاف حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ؛ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے کسی قسم کا انفاق فی سبیل اللہ کا کوئی تذکرہ نہیں کیا تھا۔اور یہ بات بھی معلوم شدہ ہے کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے شروع اسلام کے ایام میں سات ایسے لوگوں کو خرید کر آزاد کیا تھا جن کو اسلام لانے[اورایمان قبول کرنے]کے جرم میں ستایا جاتا تھا۔[مستدرک حاکم (۳؍۲۸۴)، سیرۃ ابن ہشام(ص:۱۴۷)۔]آپ نے یہ کام صرف اللہ رب ذوالجلال کی رضامندی کے حصول کے لیے کیا تھا۔ آپ کا یہ کارنامہ جناب ابو طالب کے کردار کی طرح نہیں تھا جنہوں نے صرف قرابت کی وجہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حمایت کی ۔ ان کا مقصود اللہ تعالیٰ کی رضامندی یا اس کی خوشنودی کا حصول نہیں تھا۔ 

ہم یہ بھی کہتے ہیں کہ ’’ الاتقی‘‘ اسم جنس ہے اس میں امت کے سبھی اعلی تقوی رکھنے والے شامل ہیں ؛ اور ظاہر ہے کہ حضرات صحابہ کرام جلیل القدراور خیر القرون کے لوگ ہیں ۔وہی اس امت کے سب سے بڑے متقی گروہ سے تعلق رکھتے ہیں اور امت کے اہل تقوی کے سرخیل یا تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ یا پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ ؛ یا کوئی تیسرا انسان ہے۔ کسی تیسرے انسان کا ہونا بالاجماع منتفی ہے۔ اورحضرت علی رضی اللہ عنہ کے متعلق کہا جاتا ہے کہ آپ بھی اس قسم میں شامل ہیں ۔

اس لیے کہ جب آپ کو مال حاصل ہوگیا تھا تو آپ تزکیہ وطہارت کے حصول کے لیے اللہ کی راہ میں خرچ کرتے تھے۔ تو اس کے جواب میں کہا جائے گا کہ : حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ شروع اسلام کے ایام میں اس وقت خرچ کیا کرتے تھے جب اس کی بہت سخت ضرورت تھی۔ پس آپ اس وصف ِ اتقی میں دوسرے لوگوں سے بڑھ کر کامل و اکمل ہوئے ۔

مزید برآں یہ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو ایسے مواقع پر آگے بڑھاتے تھے جہاں کسی دوسرے کی شراکت ممکن نہیں ہوا کرتی تھی؛ جیسے نماز اورحج میں اپنا نائب بنانا؛ سفر ہجرت میں اپنی ہمراہی کے لیے صرف ان کا انتخاب کرنا؛رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں آپ کا تقریر کرنا؛ آپ کو تقریر کی اجازت ملنا؛ نیز فتوی دینا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اس پر رضامندی کا اظہار کرنا؛اور ان کے علاوہ دیگر اتنے خصائص ہیں جن کایہاں پر بیان طوالت کاموجب ہوگا ۔

جو انسان ان اوصاف میں اکمل ہو ‘ وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں سب سے زیادہ عزت والا اور محبوب ہوگا۔یہ بات بے شمار دلائل کی روشنی میں ثابت ہے کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ مقام صدیقیت میں تمام صحابہ کرام سے بڑھ کر عزت والے اور مقدم تھے۔ اور آپ انبیاء کرام علیہم السلام کے بعد سب سے افضل ترین ہستی ہیں ۔ اور جو ان اوصاف میں کامل ہووہی افضل ہوگا۔

نیز یہ کہ صحیح سند کے ساتھ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے ثابت ہے کہ آپ نے فرمایا:

صفحہ 7 از 8