Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

معرکہ یمامہ کے بعض شہداء حضرت ثابت بن قیس بن شماس رضی اللہ عنہ

  علی محمد الصلابی

آپؓ کی کنیت ابو محمد تھی اور خطیب الانصار کے لقب سے معروف تھے۔ رسول اللہﷺ نے آپؓ کو شہادت کی بشارت دی تھی، اور معرکہ یمامہ میں جام شہادت نوش فرمایا تھا۔ انصار کا پرچم اس معرکہ میں آپؓ ہی کے ہاتھ میں تھا۔ ایک مسلمان نے آپؓ کو خواب میں دیکھا، آپؓ نے اس سے خواب میں کہا: کل جب میں قتل ہوا تو ایک مسلمان شخص میرے پاس سے گزرا اور اس نے میری بہترین زرہ لے لی، اس کا خیمہ معسکر کے بالکل کنارے پر ہے۔ اس کے خیمہ کے پاس ایک گھوڑا اس کے طول میں بیٹھا ہوا ہے۔ اس نے زرہ کو مٹی کے ڈھیر کے نیچے دبا دیا ہے اور اس کے اوپر کجاوہ رکھ دیا ہے۔ تم سیدنا خالدؓ کے پاس جاؤ اور کہو کہ کسی کو بھیج کر میری زرہ منگا لیں اور جب تم مدینہ خلیفہ کے پاس پہنچو تو ان سے کہنا کہ میرے ذمے اتنا اتنا قرض ہے، اور میرا فلاں غلام آزاد ہے۔ خبردار اس کو خواب سمجھ کر نظر انداز نہ کرنا۔ پھر وہ شخص حضرت خالدؓ کے پاس آیا اور خبر دی، آپؓ نے اس کو زرہ کے لیے روانہ کیا، وہ زرہ اسی حالت میں ملی جیسا کہ خواب میں بتلایا تھا اور اسی طرح وہ شخص جب مدینہ پہنچا تو سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو اس سے باخبر کیا۔ سيدنا ابوبکرؓ نے ان کی موت کے بعد کی ہوئی وصیت کو نافذ کیا۔ حضرت ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ کے علاوہ اور کوئی ایسا نہیں جس کی موت کے بعد کی ہوئی وصیت کو نافذ کیا گیا ہو۔

(البدایۃ والنہایۃ: جلد 6 صفحہ 339)