فصل:....[امامت حضرت علی رضی اللہ عنہ کی نویں دلیل: حدیث:…

فصل:....[امامت حضرت علی رضی اللہ عنہ کی نویں دلیل: حدیث: سلام امارت]

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 1 از 4

فصل:....[امامت حضرت علی رضی اللہ عنہ کی نویں دلیل: حدیث: سلام امارت]

[اشکال]:شیعہ لکھتا ہے : ’’ اثباتِ امامت ِ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی نویں حدیث جمہور علماء نے روایت کی ہے کہ آپ نے صحابہ کو حضرت علی رضی اللہ عنہ پرامیر المؤمنین ہونے کی وجہ سلام بھیجنے کا حکم دیا اور فرمایا: آپ سید المسلمین امام المتقین اور پانچ کلیانے گروہ کے قائد ہیں ؛ اور فرمایا: آپ میرے بعد ہر مؤمن کے ولی ہیں ؛نیز آپ کے حق میں یہ بھی فرمایا کہ: ’’بیشک علی مجھ سے ہے اور میں علی سے ہوں ‘ اور آپ ہر مؤمن مرد و عوت کو اس کی جان سے بڑھ کر محبوب ومقدم ہیں ۔پس ان نصوص کی بنا پر حضرت علی رضی اللہ عنہ ہی خلیفہ و امام ہوں گے۔یہ روایت اس باب میں واضح ہے ۔ ‘‘[انتہی کلام الرافضی]

[جواب]: اس کا جواب کئی وجوہات سے دیا گیا ہے : 

٭ پہلا جواب : ہم شیعہ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ اس روایت کی اسناد بیان کریں اور اس کی صحت ثابت کریں ۔ شیعہ مصنف نے اپنی عادت کے مطابق اس روایت کو کسی بھی کتاب کی طرف منسوب نہیں کیا ۔شیعہ مصنف کا یہ کہناکہ :’’ اسے جمہور نے روایت کیا ہے ۔‘‘ سرا سر جھوٹ پر مبنی ہے۔ ہمارا دعویٰ ہے کہ یہ روایت صحاح اور قابل اعتماد مسانیدوسنن اور دوسری معتمد کتب میں موجود نہیں ۔اگرچہ اسے بعض اندھیری رات کے مسافروں نے روایت بھی کیا ہے؛ تو اس جیسی اور بھی روایات انہوں نے جمع کی ہیں ۔اس جیسی روایات باتفاق مسلمین حجت نہیں ہوسکتیں کہ لوگوں پر ان کی اتباع واجب ہو۔ اللہ تعالیٰ نے ہم پر جھوٹ بولنے کو حرام قرار دیا ہے۔ اور ہم اللہ تعالیٰ کے متعلق ایسی بات نہیں کہہ سکتے جو ہم جانتے نہ ہوں ۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے تواتر کے ساتھ ثابت ہے کہ آپ نے فرمایا:

((مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا، فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ))۔

’’ جو انسان مجھ پر جان بوجھ کر جھوٹ بولے ‘ اسے چاہیے کہ اپنا ٹھکانہ جہنم کی آگ میں بنالے ۔‘‘ [البخارِیِ1؍33 ؛ کِتاب العِلمِ، باب إِثمِ من کذب علی النبِیِ صلی اللّٰہ علیہِ وسلم؛ مسلِم4؍2298 ؛ ِکتاب الزہدِ، باب التثبِیتِ فِی الحدیثِ وحکمِ ِکتابۃِ العِلمِ، والحدیث فِی سننِ أبِی داود والتِرمِذِیِ وابنِ ماجہ والدارِمِیِ، وہو فِی المسندِ فِی مواضِع کثِیرۃ مِنہا : الأرقام 6486، 9888۔]

٭ دوسرا جواب: اہل علم محدثین کا اس روایت کے جھوٹ ہونے پر اتفاق ہے ۔ صرف یہی نہیں بلکہ ہر وہ انسان جسے علم حدیث کی معمولی سی بھی معرفت ہو‘ وہ جانتا ہے کہ یہ روایت محض جھوٹ ہے ؛ اہل علم محدثین میں سے کسی ایک نے بھی اپنی کسی قابل اعتماد سے روایت نہیں کیا ۔ اور نہ ہی صحاح ستہ ؛ سنن ؛اور قابل اعتماد مسانید میں اس کا کوئی وجود ہے۔

٭ تیسرا جواب : [اس کی اسناد میں متہم بالکذب راوی پائے جاتے ہیں ] ۔بلکہ علماء حدیث اس سے بڑھ کر اسے موضوع قرار دیتے ہیں اور اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کرنے کو حرام سمجھتے ہیں ۔اس حکایت کا روایت کرنے والا بڑا جھوٹا انسان ہے۔ اورنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جھوٹ سے منزہ اور بری ہیں ۔کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سوا کوئی شخص سید المسلمین اور امام المتقین نہیں ہو سکتا؛ اس پر تمام مسلمانو ں کا اجماع ہے۔

’’اگر یہ کہا جائے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد مسلمانوں کے سردار ہوں گے ۔‘‘

تو اس کے جواب میں کہا جائے گاکہ : ’’مذکورہ روایت میں ایسے الفاظ موجود نہیں جو اس تأویل پر دلالت کرتے ہوں کہ علی رضی اللہ عنہ میرے بعد امام المسلمین ہوں گے۔بلکہ روایت اس تأویل کیخلاف ہے۔ اس لیے کہ خیر المسلمین و المتقین وقائدغرالمحجلین ‘‘ قرن اول کے مسلمان تھے ۔اس دور میں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ کوئی بھی دوسرا ان کا قائد و سید اورامام و سردار نہیں تھا۔تو پھر آپ کیسے ایسی چیز کی خبر دے سکتے ہیں جو ابھی تک موجود نہ ہو ۔ اور پھر اس خبر کو بھی ایسے ہی تشنہ لب چھوڑدیا جائے حالانکہ وضاحت کے ساتھ اس کے بیان کی بہت ہی سخت ضرورت بھی ہو۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہی بروزِ قیامت مسلمانوں کے قائدہوں گے تو پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ کن لوگوں کی قیادت کریں گے؟

نیز یہ کہ جب سب مسلمان شیعہ کی نگاہ میں کافر و فاسق ہیں تو حضرت علی رضی اللہ عنہ کس کی قیادت کریں گے؟ صحیح احادیث میں ثابت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک موقع پر فرمایا:

((ودِدت أنا قد رأینا ِإخواننا))۔ قالوا: أولسنا إِخوانک یا رسول اللّٰہِ؟۔ قال:(( أنتم أصحابِی؛ وِإخواننا الذِین لم یأتوا بعد))۔ فقالوا: کیف تعرِف من لم یأتِ بعد مِن أمتِک یا رسول اللّٰہِ؟۔ فقال: ((أرأیت لو أن رجلا لہ خیل غرَّ محجل بین ظہری خیل دہم بہم لا یعرِف خیلہ؟))۔ قالوا: بلی یا رسول اللّٰہِ!۔ قال:(( فإِنہم یأتون غرًّا محجلِین مِن الوضوئِ؛ وأنا فرطہم علی الحوضِ؛ ألا لیذادن رِجال عن حوضِی؛ کما یذاد البعِیر الضال أنادِیہِم ألا ہلم۔ فیقال: ِإنہم قد بدلوا بعدک فأقول سحقا سحقا))

صفحہ 1 از 4