فصل:....[امامت حضرت علی رضی اللہ عنہ کی نویں دلیل: حدیث:…

فصل:....[امامت حضرت علی رضی اللہ عنہ کی نویں دلیل: حدیث: سلام امارت]

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 2 از 4

’’ میں چاہتا ہوں کہ اپنے بھائیوں کو دیکھوں ۔ صحابہ کرام نے عرض کیا:یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا ہم آپ کے بھائی نہیں ہیں ؟تو آپ نے فرمایا: ’’ تم میرے صحابہ ہو‘ میرے بھائی ابھی تک نہیں آئے ۔‘‘کہنے لگے :یا رسول اللہ! آپ اپنی امت کے ان لوگوں کو کیسے پہچانیں گے جو ابھی تک نہیں آئے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ بھلا تم دیکھو اگر کسی شخص کی سفید پیشانی والے سفید پاؤں والے گھوڑے سیاہ گھوڑوں میں مل جائیں تو کیا وہ اپنے گھوڑوں کو ان میں سے پہچان نہ لے گا؟ صحابہ کرام نے عرض کیا: کیوں نہیں یا رسول اللہ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ:’’ وہ لوگ جب آئیں گے تو وضو کے اثرات کی وجہ سے ان کے چہرے؛ ہاتھ اور پاؤں چمکدار اور روشن ہوں گے اور میں ان سے پہلے حوض پر موجود ہوں گا ۔اور سنو بعض لوگ میرے حوض سے اس طرح دور کیے جائیں گے جس طرح بھٹکا ہوا اونٹ دور کر دیا جاتا ہے؛ میں ان کو پکارونگا ادھر آؤ تو مجھ سے کہا جائیگا کہ : انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد دین کو بدل دیا تھا تب میں کہوں گا دور ہو جاؤ دور ہو جاؤ۔‘‘ [مسلم۔ کتاب الطہارۃ، باب استحباب اطالۃ الغرۃ(ح:۲۴۹) سنن نسائی(۱۵۰)، سنن ابن ماجۃ (۴۳۰۶)۔]

مذکورہ صدر حدیث سے مستفاد ہوتاہے کہ جو شخص وضو کرتے وقت اپنا منہ اور ہاتھ پاؤں دھوتا ہے وہ بروز قیامت ان لوگوں میں سے ہو گا جن کے ہاتھ پاؤں سفید ہوں گے اور حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما ان جمہور مسلمانوں کے آگے آگے ہوں گے۔

اس کے مصداق شیعہ کے سوا آپ کی جمہور امت ہے، چونکہ شیعہ وضوء کرتے وقت پاؤں نہیں دھوتے۔ لہٰذا ان کے پاؤں سفید نہیں ہوں گے۔اس لیے سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت علی رضی اللہ عنہ بروز قیامت ان کی قیادت بھی نہیں کریں گے۔ اورنہ ہی انہیں سفید پاؤں والوں کے ساتھ چلایا جائے گا۔اس لیے کہ[حدیث میں مذکور]حجلہ [سفیدنشان] پاؤں کی پشت میں ہوتا ہے ۔پاؤں میں یہ نشان ایسے ہی ہوتا ہے جیسے ہاتھ میں ۔ یہی وجہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے:

’’ایڑیوں اور پاؤں کی اندرونی جانبوں کو آگ کی وجہ سے بڑی تکلیف کا سامنا ہو گا۔‘‘[مسند احمد (۴؍۱۹۱)، موقوفاً و مرفوعاً۔ صحیح ابن خزیمۃ(۱۶۳)، مرفوعاً وعلقہ الترمذی فی کتاب الطہارۃ، باب ما جاء ’’ وَیْلٌ لِّلْاَعْقَابِ مِنَ النَّارِ‘‘ (تحت الحدیث:۴۱)۔]

[حدیث کا مطلب یہ ہے کہ وضو کرتے وقت پاؤں کا جو حصہ خشک رہے وہ آگ میں جلے گا]۔

یہ ایک بدیہی بات ہے کہ محجّل گھوڑا وہی ہوتا ہے جس کے ہاتھ پاؤں پر سفیدی کا نشان ہو ورنہ اسے محجل نہیں کہتے۔ ثابت ہوا کہ محجل پاؤں اور ہاتھ کی سفیدی والے کو کہتے ہیں ۔ بنابریں جو شخص اپنے پاؤں کو ٹخنوں تک نہیں دھوتا۔ بروز قیامت اس کے پاؤں سفید نہیں ہوں گے۔پس سفید نشان والوں کے قائد بھی ان لوگوں سے برأت کا اظہار کریں گے؛ بھلے یہ کوئی بھی لوگ ہوں ۔

نیز جس حقیقت واقعی سے اس روایت کاجھوٹ واضح ہوتا ہے وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد مسلمانوں کا امام ؛سردار اور قائد قرار دینا ہے۔حالانکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اعلانیہ اورواضح طور پرحضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کو حضرت علی رضی اللہ عنہ سے افضل قرار دیا کرتے تھے اس کی حد یہ ہے کہ خاص و عام [اہل ایمان ہی نہیں ]بلکہ مشرکین بھی اس سے آگاہ تھے۔

احدکے موقع پر ابوسفیان نے تین مرتبہ کہا کہ: کیا تم لوگوں میں محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم )ہیں ؟ کیا تم لوگوں میں محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ہیں ؟ کیا تم لوگوں میں محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم )ہیں ؟ جس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب کو اس کا جواب دینے سے منع کردیا تھا۔ پھر ابوسفیان نے تین مرتبہ کہا کہ:’’ کیا تم میں ابن ابی قحافہ ہیں ؟کیا تم میں ابن ابی قحافہ ہیں ؟کیا تم میں ابن ابی قحافہ ہیں ؟(یعنی صدیق اکبر رضی اللہ عنہ )۔ اور پھر تین مرتبہ کہا کہ:کیا تم میں عمر بن الخطاب ہیں ؟کیا تم میں عمر بن الخطاب ہیں ؟کیا تم میں عمر بن الخطاب ہیں ؟ اور پھر اس کے بعد اپنے ساتھیوں سے مخاطب ہو کر کہنے لگا کہ :’’یہ تو سب مارے گئے۔‘‘ جس پر فاروق اعظم رضی اللہ عنہ اپنے آپ کو نہ روک سکے اور کہا :

’’ اے اللہ کے دشمن اللہ کی قسم! جن لوگوں کا تو نے نام لیا ہے وہ سب زندہ ہیں ۔ اور جس بات سے تم رنجیدہ ہو وہ برقرار ہے۔‘‘[صحیح بخاری، کتاب المغازی، باب غزوۃ احد(حدیث:۴۰۴۳)امام بخاری اور دوسرے محدثین نے پوری تفصیل کے ساتھ یہ حدیث ذکر کی ہے [صحیح بخاری:ح 293] یہ امر قابل غور ہے کہ ابوسفیان نے صرف تینوں حضرات کے بارے میں سوال کیا تھا اس سے معلوم ہوا کہ کفار صرف انہی تینوں کو اہمیت و وقعت کی نگاہ سے دیکھتے تھے دوسروں کو نہیں ۔]

یہ کفار کاسالار اعلی ہے ؛اس انتہائی خطرناک موقع پر صرف نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ‘ حضرت ابوبکر و حضرت عمر رضی اللہ عنہما کے بارے میں ہی پوچھتا ہے۔ اس لیے کہ اس کو علم ہے اور ہر خاص و عام جانتا ہے کہ یہی تین شخصیات اس سارے معاملے کا بنیادی کردار ہیں اور یہ معاملہ ان ہی کی وجہ سے قائم ہے۔ اس سے یہ بھی دلیل سامنے آتی ہے کہ کفار کے ہاں بھی یہ بات

صاف ظاہر تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے وزیر یہی دو شخص ہوسکتے ہیں ۔ اوراس معاملہ[یعنی دعوت اسلام کی تبلیغ ] کو یہی حضر ات اس کی آخری حدوں تک لے کر جاسکتے ہیں ۔اور باقی تمام لوگوں میں انہیں ایک خاص مقام حاصل ہے۔ اور اسلام کی نشرو اشاعت میں ان حضرات کی وہ خدمات ہیں جو کسی دوسرے کو حاصل نہیں ۔ اتنی بات مسلمان تو کجا ‘ کفار تک بھی جانتے تھے ۔ اس طرح کی احادیث بھی بہت زیادہ کثرت کے ساتھ اور تواتر کی حدتک پہنچی ہوئی ہیں ۔

بخاری و مسلم میں حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ:

صفحہ 2 از 4