فصل:....[امامت حضرت علی رضی اللہ عنہ کی نویں دلیل: حدیث:…

فصل:....[امامت حضرت علی رضی اللہ عنہ کی نویں دلیل: حدیث: سلام امارت]

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 3 از 4

’’جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی نعش لوگوں کے سامنے لائی گئی توجنازہ اٹھانے سے لوگوں نے اس کو گھیر لیا؛ وہ آپ کے حق میں دعا کرنے اور آپ کی مدح و ستائش کرنے لگے۔میں بھی ان لوگوں میں موجود تھا ؛ مجھے کو ئی خیال ہی نہیں آرہا تھا کہ اچانک ایک شخص نے میرا کندھا تھام لیا۔ میں نے پیچھے مڑکر دیکھا تو وہ علی رضی اللہ عنہ تھے۔ انھوں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے حق میں رحمت کی دعا کی اور فرمایا تو نے اپنے پیچھے کسی آدمی کو نہیں چھوڑا کہ جس کے اعمال کو لے کر بارگاہ ایزدی میں حاضر ہونا میرے نزدیک زیادہ محبوب ہو۔ہاں اللہ کی قسم ! میرا یقین تھا کہ اللہتعالیٰ آپ کو دونوں ساتھیوں ( نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر) کے ساتھ ملا دے گا۔کیونکہ میں اکثر سرور کائنات کو یہ فرماتے سنا کرتا تھا کہ میں اورابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما آئے،میں اور ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما داخل ہوئے ، میں اور ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما نکلے ۔‘‘مجھے امید تھی کہ اللہ تعالیٰ آپ کو ان دونوں ساتھیوں کی ملاقات نصیب کرے گا۔‘‘[صحیح بخاری، کتاب فضائل اصحاب النبی رضی اللّٰہ عنہم ، باب مناقب عمر بن الخطاب رضی اللّٰہ عنہ (ح:۳۶۸۵، ۳۶۷۷)، صحیح مسلم، کتاب فضائل الصحابۃ، باب من فضائل عمر بن الخطاب رضی اللّٰہ عنہ (ح:۲۳۸۹)۔ عبد الرزاق کا قول ہے کہ:’’ میرے لیے یہی جرم کافی ہے کہ میں علی سے محبت کا دعویٰ کروں اور ان کے اس قول کی خلاف ورزی کروں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اس امت میں سب سے افضل ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما ہیں ۔‘‘ اور اگرمیں تیسرے خلیفہ کانام لینا چاہوں تو حضرت علی رضی اللہ عنہ کا نام لوں گا۔‘‘]

اس حدیث سے واضح ہوتا ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ پر حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کی عظمت و فضیلت کسی سے پوشیدہ نہ تھی یہی وجہ ہے کہ متقدمین شیعہ جنہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کا زمانہ پایا؛ وہ آپ کے ساتھ انتہائی الفت و محبت رکھنے کے باوجود حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کو ان سے افضل قرار دیا کرتے تھے۔سوائے چند ایک ملحدین کے کوئی آپ کو شیخین پر فضیلت نہیں دیتا تھا، البتہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے مقابلہ میں افضل تصور کرتے تھے۔

[شیعہ کا اشکال]:اسی طرح شیعہ کا یہ قول:’’ہُو وَلِیُّ کُلِّ مُؤْمِنٍ بَعْدِیْ۔‘‘ 

[جواب]:’’حضرت علی رضی اللہ عنہ میرے بعد ہر مومن کے دوست ہیں ۔‘‘ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ اوربہتان ہے۔ بلکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب بقید حیات تھے اور بعد از وفات بھی آپ ہر مومن کے دوست ہیں ، اسی طرح ہر مومن زندگی میں اور بعد از وفات آپ کا دوست ہے۔ خلاصہ یہ کہ ولایت جو عداوت کی ضد ہے کسی زمانہ کے ساتھ مخصوص نہیں ہے۔اور اگر مراد وِلایت ہوتی جو امارت کے معنی میں آتی ہے ؛توآپ یوں فرماتے :

’’ہُو وَالِیُّ کُلِّ مُؤْمِنٍ بَعْدِیْ۔‘‘

’’وہ میرے بعد ہر مومن کے امیر ہیں ۔‘‘

جیساکہ نماز جنازہ کے بارے میں اختلاف وارد ہوا ہے کہ جب والی اور ولی جمع ہوجائیں تو اس صورت میں نماز جنازہ پڑھانے کے لیے کسے امام بنایا جائے گا ؟ یہ بھی کہا گیا ہے کہ : والی [امیر] کو امام بنایا جائے گا۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ : میت کے ولی کو امام بنایا جائے گا۔

قائل کا یہ قول کہ::’’ہُو وَلِیُّ کُلِّ مُؤْمِنٍ بَعْدِیْ‘‘’’وہ میرے بعد ہر مومن کے دوست ہیں ۔‘‘

یہ ایسا کلام ہے جس کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کرنا ناجائز ہے۔ اس لیے کہ اگر اس سے مراد موالات [دوستی کے معنی میں ] ہے ‘تو پھر میرے بعد کہنے کی کوئی ضرورت نہیں ۔ اور اگر اس سے مراد امارت ہے تو پھر آپ کو یوں فرمانا چاہیے تھا کہ : :’’ہُو وَالٍ علی کُلِّ مُؤْمِنٍ‘’’میرے بعد ہر مومن پر امیر ہوں گے ۔‘‘

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد حضرت علی رضی اللہ عنہ کے متعلق :’’اَنْتَ مِنِّیْ وَ اَنَا مِنْکَ‘‘ ’’تم مجھ سے ہو اور میں تم سے ہوں ‘‘ بالکل صحیح ہے ۔اور اس کے علاوہ بھی کئی احادیث ثابت ہیں ۔ آپ نے یہ کلمات اس وقت فیصلہ کرتے ہوئے فرمائے جب آپ کے سامنے حضرت جعفر ‘حضرت زیدبن حارثہ اور حضرت علی رضی اللہ عنہم ؛حضرت امیرحمزہ رضی اللہ عنہ کی بچی کی تربیت کے بارے میں جھگڑا کرتے ہوئے پیش ہوئے۔ آپ نے اس کا فیصلہ اس کی خالہ کے حق میں کیا ؛ اوریہ خالہ حضرت جعفر رضی اللہ عنہ کے نکاح میں تھیں ۔ آپ نے فرمایا: ’’ خالہ ماں کی منزلت پر ہوتی ہے ۔‘‘

حضرت جعفر رضی اللہ عنہ کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا: تم اخلاق میں اور شکل و صورت میں مجھ سے مشابہت رکھتے ہو۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مخاطب ہو کر فرمایا: ’’اَنْتَ مِنِّیْ وَ اَنَا مِنْکَ‘‘ ’’تم مجھ سے ہو اور میں تم سے ہوں ‘ ‘ اور حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کو مخاطب کرکے فرمایا تھا:’’اَنْتَ اَخُوْنَا وَ مَوْلَانَا‘‘

’’ تم ہمارے بھائی اور ہمارے دوست ہو ۔‘‘[صحیح بخاری، کتاب المغازی، باب غزوۃ احد(حدیث:۴۰۴۳)]

صحیحین میں ہے کہ:’’ قبیلہ اشعری [حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ کے قبیلہ والوں ]کی یہ عادت تھی کہ جب جنگ کے موقع پر زاد راہ ختم ہو جاتا تو جو کچھ ان کے پاس ہوتا اس کو جمع کرتے پھر تقسیم کر لیا کرتے تھے یہ دیکھ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

’’ہُمْ مِنِّیْ وَ اَنَا مِنْہُمْ۔‘‘ [صحیح بخاری، کتاب الشرکۃ، باب الشرکۃ فی الطعام والنھد (حدیث: ۲۴۸۶)، صحیح مسلم، کتاب فضائل الصحابۃ، باب من فضائل الاشعریین ، (حدیث: ۲۵۰۰)۔ ]’’وہ مجھ سے ہیں اور میں ان میں سے ہوں ۔‘‘ 

جیسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اشعریین کے لیے فرمایا:’’ہُمْ مِنِّیْ وَ اَنَا مِنْہُمْ۔‘‘اور حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مخاطب ہو کر فرمایا : ’’اَنْتَ مِنِّیْ وَ اَنَا مِنْکَ‘‘ ’’تم مجھ سے ہو اور میں تم سے ہوں ‘ ‘ ۔حضرت جُلَبیْب رضی اللہ عنہ کے بارے میں فرمایا تھا: 

’’ھٰذَا مِنِّیْ وَ اَنَا مِنْہُ۔‘‘ [صحیح مسلم۔ کتاب فضائل الصحابۃ، باب من فضائل جلیبیب رضی اللّٰہ عنہ (حدیث: ۲۴۷۲)۔]’’یہ مجھ سے ہے اور میں اس سے ہوں ۔‘‘ 

صفحہ 3 از 4