Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

حضرت عبداللہ بن سہیل بن عمرو رضی اللہ عنہ

  علی محمد الصلابی

آپؓ قدیم الاسلام ہیں۔ حبشہ کی طرف ہجرت کی پھر مکہ واپس آ گئے اور خوب ستائے گئے۔ آپؓ کا شمار مستضعفین میں ہوتا ہے۔ بدر میں کفار مکہ کے ساتھ نکلے اور جب اسلام و کفر کی افواج آمنے سامنے آئیں تو بھاگ کر مسلمانوں کی صف میں شامل ہو گئے اور معرکہ یمامہ میں جام شہادت نوش کیا۔ جب سيدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے حج کیا تو ان کے والد کی تعزیت کی۔ ان کے والد سہیل نے کہا: مجھے رسول اللہﷺ کی یہ حدیث پہنچی ہے کہ: شہید اپنے خاندان کے ستر افراد کی شفاعت کرے گا۔

(سنن ابی داود: الجہاد: باب الشہید یشفع: صفحہ 2522 عن ابی الدرداء و صححہ الالبانی)

مجھے امید ہے کہ شفاعت کا آغاز مجھ سے ہو گا۔

(تاریخ الذہبی: الخلفاء الراشدون: صفحہ 61)

حضرت سہیل بن عمرو رضی اللہ عنہ نے مکہ میں وفات نبویﷺ کے موقع پر عظیم کردار ادا کیا۔ اکثر اہل مکہ نے اسلام سے پھرنے کا ارادہ کر لیا حتیٰ کہ والی مکہ سیدنا عتاب بن اَسیدؓ خوفزدہ ہو گئے اور روپوش ہو گئے۔ اس موقع پر حضرت سہیل بن عمرو رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو خطاب کیا، اللہ کی حمد وثناء کے بعد رسول اللہﷺ کی وفات کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: اس سے تو اسلام کی قوت میں اضافہ ہوا ہے۔ جو ہمیں شک میں ڈالے گا اس کی ہم گردن اڑا دیں گے۔ اس کے بعد لوگ اپنے ارادے سے باز آ گئے اور سیدنا عتاب بن اسیدؓ باہر آئے۔

جب غزؤہ بدر کے موقع پر حضرت سہیل بن عمرو رضی اللہ عنہ گرفتار کر کے مدینہ لائے گئے، سیدنا عمرؓ نے ان کے دانت اکھاڑ لینے کا مشورہ دیا تو رسول اللہﷺ نے فرمایا: امید ہے وہ ایسا مؤقف اختیار کرے کہ پھر تم اس کی مذمت نہ کر سکو۔

(ترتیب وتہذیب، البدایۃ والنہایۃ: خلافۃ ابی بکر: صفحہ 82)