فصل:....[امامت علی رضی اللہ عنہ کی گیارھویں دلیل:آپ کی…

فصل:....[امامت علی رضی اللہ عنہ کی گیارھویں دلیل:آپ کی محبت کا وجوب]

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 3 از 3

[ یا کوئی مسلم یہ الفاظ اپنی زبان پر لا سکتا ہے کہ غالی اسماعیلیہ جھوٹے روافض اور فاسق امامیہ حبّ علی کی بنا پر انبیاء کرام سے پہلے جنت میں داخل ہوں گے؟ یہ بات تو اسی طرح ہے جیسے کوئی ناصبی کہے جو شخص یزید و حجاج سے محبت رکھتا ہو یا خارجی کہے جو ابن ملجم کو چاہتا ہو وہ جنت میں جائے گا اور جو ان سے بغض رکھے گا وہ جہنم میں داخل ہو گا] [اس کی وجہ یہ ہے کہ شیعہ علماء کے نزدیک ایمان امام کی معرفت اور اس سے محبت کا نام ہے۔ اس لیے انہوں نے نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر الزام لگاتے ہوئے بیان کیا کہ آپ نے فرمایا: ’’ علی رضی اﷲ عنہ کی محبت ایسی نیکی ہے جس کے ہوتے ہوئے کوئی برائی نقصان دہ نہیں ہے۔اور بغض علی ایسی برائی ہے جس کی موجود گی میں کوئی نیکی بھی فائدہ مند نہیں ہے۔‘‘ [الفضائل؍ شاذان بن جبرائیل القمی: ۹۶( فی فضائل الامام علی علیہ السلام )۔]کتاب الفضائل ص95؛ فی بعض فضائل الإمام علی ۔کشف الغمۃ فی معرفۃ الأئمۃ1؍123؛ فی فضل مناقبہ لأبی الحسن علی بن عیسی الأربلي] نیز آپ کی طرف یہ بھی منسوب کیا ہے کہ آپ نے فرمایا: ( حالانکہ آپ اس الزام سے بری ہیں ):’’ـ اگر تمام مخلوق علی بن أبی طالب کی محبت پر جمع ہوجاتی تو اﷲ تعالیٰ جہنم کو پیدا نہ فرماتے۔‘‘ [الفضائل؍ص110 شاذان بن جبرائیل( خبر المقدسی ) ] آپ پر افتراء پردازی کرتے ہوئے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ’’ اگلے اور پچھلے لوگوں میں سے صرف وہی شخص جنت میں داخل ہوگا جو علی سے محبت کرتا ہوگا۔ اگلے اور پچھلے لوگوں میں سے جس نے بھی علی سے نفرت کی وہ جہنم میں داخل ہوگا۔‘‘ [علل الشرائع؍ ابوجعفر محمد بن علی بن بابویہ القمی: ۱؍ ۱۶۲، حدیث نمبر:ـ ۱( باب العلۃ التي من أجلھا صار علی بن أبی طالب قسیم اﷲ بین الجنۃ والنار )۔ الأمالی للطوسی ص330 ح107 ؍ المجلس الحادی عشر؛کشف الغمۃ 2؍23 فصل فی ذکر مناقب شتی وأحادیث متفرقۃ ] اور ایک بہتان یہ بھی تراش کر آپ کی جانب منسوب کیا ہے کہ آپ نے فرمایا: ’’ اولین و آخرین میں سے جنت میں صرف وہی لوگ داخل ہوں گے جو حضرت علی رضی اللہ عنہ سے محبت کرتے ہوں گے ۔ اور اولین و آخرین میں سے صرف وہی لوگ جہنم میں داخل ہوں گے جو حضرت علی رضی اللہ عنہ سے بغض رکھتے ہوں گے ۔‘‘ [علل الشرائع ۱؍۱۶۲؛ ح: ۱؛ باب ۱۳۰۔’’العلۃ التي من أجلہا صار علی بن ابی طالب قسیم اللہ بین الجنۃ والنار۔ مختصر بصائر الدرجات ص ۴۸۵؛ ح: ۵۷۶۔ بحار الأنوار ۳۹؍ ۱۹۵۔ ح: ۵؛ باب أنہ قسیم الجنۃ والنار وجواز الصراط]]


صفحہ 3 از 3