حضرت عباد بن بشر رضی اللہ عنہ
علی محمد الصلابیآپؓ فضلائے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں سے تھے۔ آپؓ ہی ہیں جب رسول اللہﷺ کے ساتھ رات گئے تک بات کرنے کے بعد واپس ہونے لگے تو آپؓ کے عصا سے روشنی پھوٹی، جس سے آپﷺ نے گھر تک کا راستہ طے کیا۔
(البخاری: مناقب الانصار: صفحہ 3805)
آپؓ نے حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر اسلام قبول کیا تھا۔ آپؓ ان سورماؤں میں سے ہیں جنہوں نے کعب بن اشرف کو قتل کیا تھا۔
(البخاری: المغازی: صفحہ 4037)
آپؓ کو رسول اللہﷺ نے مزینہ اور بنو سالم کی زکوٰۃ پر عامل مقرر کیا تھا اور تبوک کے موقع پر محافظین کے دستہ پر آپؓ کو مقرر فرمایا تھا۔ معرکہ یمامہ میں بہادری کے جوہر دکھائے۔ انصار کے تین آدمیوں پر کوئی فضیلت نہ لے جا سکا اور تینوں کا تعلق بنو عبدالاشہل سے تھا: سیدنا سعد بن معاذ، سیدنا اسید بن حضیر عباد بن بشر رضی اللہ عنہم.
(البخاری: معلقا: صفحہ 2655)
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے: رسول اللہﷺ نے میرے گھر میں تہجد کی نماز ادا کی۔ آپﷺ نے سیدنا عباد بن بشرؓ کی آواز سنی، فرمایا:
اے عائشہ! کیا یہ عباد بن بشر کی آواز ہے؟
میں نے کہا: ہاں۔
آپﷺ نے فرمایا: اے اللہ اسے بخش دے۔
(الطبقات لابن سعد: جلد 2 صفحہ 234 البخاری: صفحہ 2655)
آپؓ معرکہ یمامہ میں شہید ہوئے۔
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں: جب ہم معرکہ بزاخہ سے فارغ ہوئے تو میں نے ان کو کہتے ہوئے سنا: اے سیدنا ابوسعیدؓ! آج رات میں نے خواب دیکھا کہ میرے لیے آسمان کھل گیا ہے اور پھر مجھ پر بند کر دیا گیا ہے۔ ان شاء اللہ اس سے اشارہ میری شہادت کی طرف ہے۔
میں نے کہا: واللہ آپﷺ نے خیر دیکھی ہے۔
(الطبقات لابن سعد: جلد 2 صفحہ 234)
معرکہ یمامہ میں آپؓ کے مواقف نمایاں رہے ہیں۔ آپؓ نے ایک بلند جگہ پر کھڑے ہو کر بلند آواز سے پکارا: میں سیدنا عباد بن بشرؓ ہوں، اے انصار، اے انصار! میرے پاس آؤ، میرے پاس آؤ۔ سب کے سب انصار ان کی طرف لبیک لبیک پکارتے ہوئے دوڑ پڑے، حضرت عباد رضی اللہ عنہ نے اپنی تلوار کی نیام توڑ دی اور انصار نے بھی اپنی تلواروں کی نیامیں توڑ دیں۔ پھر آپؓ نے فرمایا: میرے پیچھے آؤ اور سخت حملہ کرو، آپؓ لوگوں کو لے کر نکلے اور بنو حنیفہ کو شکست دے کر باغ تک ان کو دوڑایا اور اس میں بند کر دیا۔
(غزوات ابن حبیش: جلد 1 صفحہ 121)
جب مسلمان باغ کا دروازہ کھولنے میں کامیاب ہو گئے تو آپؓ نے اپنی زرہ دروازے پر پھینک دی اور تلوار کھینچ کر اندر گھسے اور ان سے قتال کرتے ہوئے جام شہادت نوش کر لیا۔ اس وقت آپؓ کی عمر پینتالیس (45) سال تھی۔ آپؓ کے جسم پر اس قدر زخم آئے کہ پہچانے نہیں جا رہے تھے۔ ایک علامت سے آپؓ کو پہچانا گیا۔
(الاکتفاء للکلاعی: جلد 3 صفحہ 53)
آپؓ کے مواقف معرکہ یمامہ میں اس قدر مشہور ہوئے کہ اسے ضرب المثل کے طور پر استعمال کیا جانے لگا۔
(الانصار فی العہد الراشدی: صفحہ 186)
بنو حنیفہ آپؓ کو نہ بھولے۔ جب بھی اپنے کسی فرد کا زخم دیکھتے تو کہتے: یہ تجربہ کار حضرت عباد بن بشرؓ کے لگائے زخموں کی طرح ہے۔
(الاکتفاء: جل، 3 صفحہ 53)
حروب ارتداد میں انصار کا عظیم مؤقف اور بے مثال اقدام رہا ہے خاص کر معرکہ یمامہ میں اور اس جنگ میں انصار کے اقدام و صبر کی شہادت حضرت مجاعہ بن مرارہ حنفیؓ نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس دی۔ کہا: اے خلیفۂ رسول! میں نے انصار سے بڑھ کر کسی کو تلواروں کی یلغار پر صبر کرنے والا اور سچا حملہ کرنے والا نہیں دیکھا، میں جس وقت حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے ساتھ میدان میں بنو حنیفہ کے مقتولین کی پہچان کرنے کے لیے چکر لگا رہا تھا، میں نے انصار کو دیکھا وہ میدان میں پڑے ہوئے ہیں۔ یہ سن کر سیدنا ابوبکرؓ رو پڑے اور آپؓ کی داڑھی تر ہو گئی۔
(الاکتفاء: جلد 3 صفحہ 65)