فصل:....[امامت حضرت علی رضی اللہ عنہ کی بارھویں دلیل…

فصل:....[امامت حضرت علی رضی اللہ عنہ کی بارھویں دلیل :دیگراحادیث]

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 1 از 7

فصل:....[امامت حضرت علی رضی اللہ عنہ کی بارھویں دلیل :دیگراحادیث]

[اشکال] :شیعہ مصنف لکھتا ہے:’’خطیب خوارزمی نے حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جو حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خلافت کو ناپسند کرتا ہو وہ کافر ہے اور اللہ و رسول کے خلاف جنگ آزمائی کر رہا ہے۔ اور جوکوئی حضرت علی رضی اللہ عنہ میں شک کرتا ہو وہ بھی کافر ہے۔‘‘ 

٭ حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھا آپ نے علی رضی اللہ عنہ کو آتے ہوئے دیکھا تو فرمایا :’’ میں اور علی رضی اللہ عنہ بروز قیامت اپنی امت پر حجت ہوں گے۔‘‘

٭ معاویہ رضی اللہ عنہ بن حَیدہ القُشیری کہتے ہیں :

’’ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت علی رضی اللہ عنہ سے یہ کہتے سنا:’’ جو شخص آپ سے عداوت رکھتے ہوئے مر جائے تو پرواہ نہ کریں وہ یہودی مرا ہے یا نصرانی۔‘‘[انتہی کلام الرافضی]

[جواب]:اس کے جواب میں کئی پہلو ہیں :

أولاً: ....ہم شیعہ سے ان روایات کی صحت ثابت کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں ۔یہ برسبیل تنزل کے ۔اس لیے کہ خطیب خوارزمی کا کسی روایت کو نقل کرنا اس بات کی دلیل نہیں ہے کہ اس کلام کارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کافرمان ہونا بھی ثابت ہو گیا ۔یہ تو اس صورت میں ہے اگر کسی کو یہ علم نہ ہو کہ اس کی جمع کردہ کتاب میں کتنی ہی جھوٹی اورمن گھڑت روایات ہیں ؛ کیونکہ اس کی تصانیف موضوعات کا پلندہ ہیں ؛جنہیں دیکھ کرایک حدیث دان شخص حیرت کا اظہار کرنے لگتا ہے اور بے ساختہ پکار اٹھتا ہے ’’سبحانک ہذا بہتان عظیم۔‘‘

ثانیاً:....ہر وہ انسان جسے حدیث سے شغف ہو ‘وہ اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ یہ روایات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ ہیں ۔

ثالثاً:....وہ حقیقت شناس شخص جو واقعات سے آگاہ ہو اور آثار و اقوال میں مہارت رکھتا ہو اس بات سے بخوبی واقف ہے کہ اس قسم کی احادیث کذاب راویوں نے عصر صحابہ وتابعین کے اختتام کے بعد وضع کر لی تھیں ۔ان روایات میں صحابہ و تابعین کاذکر کہاں ہے؟ اور کس کتاب میں انہوں نے یہ روایت کیا ہے ؟پس یہ بات اضطراری طور پر معلوم ہوتی ہے کہ یہ روایات خیر القرون کے بعد اپنی طرف سے گھڑکر[ ان کی طرف منسوب کر]لی گئی ہیں ۔

رابعاً:....ہم کہتے ہیں کہ ہمیں ان موضوع روایات کی نسبت اس بات کا قطعی وحتمی علم حاصل ہے کہ مہاجرین و انصار اللہ و رسول کو چاہتے تھے اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم ان کو چاہتے تھے۔ ہم بہ اذعان و ایقان جانتے ہیں کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ باتفاق صحابہ آپ کے بعد امام قرار پائے تھے، پھر ہم ان یقینی اور متواترروایات کو چھوڑ کر شیعہ کی ان روایات کاذبہ کی بنا پر کس طرح جھٹلا سکتے ہیں جو اس قابل بھی نہیں ہیں کہ انہیں خبرواحد قراردیاجاسکے۔ خصوصاً جب کہ ہمیں ان روایات کے کاذب ہونے کا بخوبی علم بھی ہے ۔بلکہ اہل علم محدثین کا اتفاق ہے کہ یہ روایات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر سب سے بڑا جھوٹ ہیں ۔اس لیے کہ یہ روایات کسی معتمد کتاب میں باسناد صحیح موجود نہیں ۔بلکہ تمام محدثین انہیں جھوٹ کا پلندہ قرار دیتے چلے آئے ہیں ۔

[شیعہ مرویات ناقابل اعتماد]:

خامساً:....اس پر مزید یہ کہ قرآن کریم جگہ جگہ اس بات کی شہادت دے رہا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مہاجرین و انصار سے رضا مندی کا اظہار کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿وَ السّٰبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ مِنَ الْمُھٰجِرِیْنَ وَ الْاَنْصَارِ وَ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْہُمْ بِاِحْسَانٍ رَّضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمْ وَ رَضُوْا عَنْہُ﴾ [التوبۃ ۱۰۰]

’’اور جو مہاجرین اور انصار سابق اور مقدم ہیں اور جتنے لوگ اخلاص کے ساتھ ان کے پیرو ہیں اللہ ان سب سے راضی ہوا اور وہ سب اس سے راضی ہوئے ۔‘‘

نیز اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿لَا یَسْتَوِی مِنْکُمْ مَنْ اَنْفَقَ مِنْ قَبْلِ الْفَتْحِ وَقَاتَلَ اُوْلٰٓئِکَ اَعْظَمُ دَرَجَۃً مِّنْ الَّذِیْنَ اَنْفَقُوْا مِنْ بَعْدُ وَقَاتَلُوْا وَکُلًّا وَعَدَ اللّٰہُ الْحُسْنَی ﴾ [الحد ید ۱۰]

’’ تم میں سے جن لوگوں نے فتح سے پہلے فی سبیل اللہ دیا ہے اور قتال کیا ہے وہ(دوسروں کے) برابر نہیں بلکہ ان کے بہت بڑے درجے ہیں جنہوں نے فتح کے بعد خیراتیں دیں اور جہاد کیے، ہاں بھلائی کا وعدہ تو اللہ تعالیٰ کا ان سب سے ہے۔‘‘

اور اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ وَالَّذِیْنَ مَعَہٗ اَشِدَّآئُ عَلَی الْکُفَّارِ رُحَمَآئُ بَیْنَہُمْ تَرَاہُمْ رُکَّعًا سُجَّدًا یَّبْتَغُونَ فَضْلًا مِّنَ اللّٰہِ وَرِضْوَانًا﴾ [الفتح۲۹]

’’محمد( صلی اللہ علیہ وسلم ) اللہ کے رسول ہیں اور جو لوگ ان کے ساتھ ہیں کافروں پر سخت ہیں آپس میں رحمدل ہیں ، آپ انہیں دیکھیں گے رکوع اور سجدے کر رہے ہیں ؛اوراللہ تعالیٰ کے فضل اور رضامندی کی جستجو میں ہیں ۔‘‘

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿لَقَدْ رَضِیَ اللّٰہُ عَنِ الْمُؤْمِنِیْنَ اِِذْ یُبَایِعُوْنَکَ تَحْتَ الشَّجَرَۃِ ﴾ (الفتح:۱۸)

’’یقیناً اللہ تعالیٰ مومنوں سے راضی ہو گیا جب وہ درخت کے نیچے آپ کی بیعت کر رہے تھے۔‘‘

نیز فرمایا:

﴿لِلْفُقَرَآئِ الْمُہَاجِرِیْنَ الَّذِیْنَ اُخْرِجُوْا مِنْ دِیَارِہِمْ وَ اَمْوَالِہِمْ یَبْتَغُوْنَ فَضْلًا مِّنَ اللّٰہِ وَ رِضْوَانًا﴾ (الحشر:۸)

’’ان تنگدست مہاجرین کے لیے جن کو اپنے گھر بار سے نکالا گیا وہ اللہ کا فضل اور اس کی رضا مندی چاہتے ہیں ۔‘‘

اس قسم کی دیگر آیات قرآنیہ۔ پس جو چیز ہمیں قرآنی دلائل کی روشنی میں یقینی طور پر معلوم ہے ‘اسے ہم ان جھوٹی روایات کی وجہ سے کیسے رد کرسکتے ہیں کہ جن روایات کا گھڑنے والا نہ ہی اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش ہونے سے ڈرتا ہے اور نہ ہی اللہ تعالیٰ کے وقار وعزت کا خیال رکھتاہے۔

صفحہ 1 از 7