فصل:....[امامت حضرت علی رضی اللہ عنہ کی بارھویں دلیل…

فصل:....[امامت حضرت علی رضی اللہ عنہ کی بارھویں دلیل :دیگراحادیث]

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 4 از 7

[شیعہ اس زعم فاسد میں مبتلا ہیں کہ ائمہ اللہ کے بندوں پر اس کی حجت کا درجہ رکھتے ہیں ۔ ہدایت انہی کے ذریعہ حاصل ہوسکتی ہے اور ان کی اطاعت کے بغیر نجات ممکن نہیں ہے۔ ان کا عقیدہ ہے کہ آخری امام ہنوز پردۂ غیب میں ہے اور کسی نے بھی ان سے دینی یا دنیوی فائدہ نہیں اٹھایا، اس سے یہ امر واضح ہوتا ہے کہ عقیدہ رفض زنادقہ کا اختراع کردہ ہے، یہی وجہ ہے کہ فرقہ باطنیہ والے ]سب سے پہلے اپنے دام میں پھنسنے والوں کو شیعیت کی دعوت دیتے ہیں ۔جب کوئی شخص اس کا قائل ہو جاتا ہے تو پھر وہ یوں کہنے لگتے ہیں کہ علی دیگر خلفاء کی طرح تھے، چنانچہ وہ شخص حضرت علی رضی اللہ عنہ کو جرح و قدح کا نشانہ بنانے کے لیے تیار ہو جاتا ہے۔ جب اس میں پختہ ہو جاتا ہے تو پھر باطنیہ اسے رسول پر اعتراضات وارد کرنا سکھاتے ہیں یہاں تک کہ وہ منکر رسول ہو جاتا ہے پھر اسے باری تعالیٰ کی ہستی کا منکر بناتے ہیں خلاصہ یہ کہ تدریجاً وہ پوری شریعت کا منکر ہوجاتا ہے۔ ان کی کتاب کی یہی ترتیب ہے ۔ اس کتاب کانام ’’ البلاغ الاکبر ‘‘ ہے ‘اور اسے ’’الناموس الاعظم بھی کہتے ہیں ۔ اس کے مصنف نے یہ کتاب قرمطی کو بھیجی تھی جس نے بحرین سے خروج کیا تھا؛ اور پھر مکہ پر غلبہ پاکر وہاں حجاج کرام کا قتل عام کیا ‘ اور حجر اسود اکھاڑ کر لے گئے ؛ اللہ تعالیٰ کی حرمتوں کو پامال کیا ‘اور فرائض کو ساقط قراردیا۔ ان لوگوں کے عقائد و اخلاقیات علمائے کرام رحمہم اللہ میں بڑے معروف ہیں ۔ 

پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف یہ بات کیسے منسوب کی جاسکتی ہے کہ آپ یہ فرمادیں کہ : ’’ جو کوئی علی رضی اللہ عنہ سے بغض رکھتے ہوئے مر جائے ؛ وہ یہودی مرے یا عیسائی ؛ اس میں کوئی حرج نہیں ۔ جب کہ حال یہ ہے کہ تمام خوارج آپ کی تکفیر کرتے اور آپ سے بغض رکھتے ہیں ۔اور خود حضرت علی رضی اللہ عنہ انہیں یہود ونصاری کی طرح نہیں سمجھتے تھے ؛بلکہ انہیں اہل قبلہ میں شمار کرتے تھے ۔اور ان پر یہود و نصاری کے حکم سے ہٹ کر حکم لگایا کرتے تھے۔ اورآپ کا یہی معاملہ بنوامیہ اور ان کے متبعین میں سے ان لوگوں کے ساتھ تھا جو آپ سے بغض رکھتے تھے۔ تو پھر ان لوگوں کو یہود و نصاری کی طرح کیسے قراردیا جاسکتا ہے جو نمازیں پڑھتے ہوں ؛ رمضان کے روزے رکھتے ہوں ‘ بیت اللہ کا حج کرتے ہوں ‘ اور زکوٰۃ اداکرتے ہوں ؟ اس کی آخری حد یہ ہوسکتی ہے کہ اس انسان پر یا تو آپ کا امام ہونا مخفی رہا یا پھر اس نے معرفت حاصل ہونے کے بعد بھی آپ کی نافرمانی کی ۔

ہر صاحب عقل و خرد اس حقیقت سے آگاہ ہے کہ جمہور اہل اسلام کو حضرت علی رضی اللہ عنہ سے عداوت ہے نہ کسی اور سے۔ انھیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تکذیب اور آپ کے احکام کی خلاف ورزی سے بھی کوئی دلچسپی نہیں ۔ نظر بریں اگر مسلمانوں کو معلوم ہوتاکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تصریحاً حضرت علی رضی اللہ عنہ کو خلیفہ مقرر کیا ہے تو اس کی تصدیق کرنے میں انھیں پس و پیش کی قطعاً ضرورت نہ تھی۔ زیادہ سے زیادہ یہ فرض کیا جا سکتا ہے کہ مسلمانوں کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس حکم کا پتہ نہ چل سکا ۔ ظاہر ہے کہ جس شخص کو دین کی کسی بات کا علم نہ ہو وہ یہود و نصاریٰ کی طرح کیوں کر ہو سکتا ہے؟

یہاں پر تکفیر میں کلام کرنا مقصود نہیں ‘بلکہ اس بات پر تنبیہ کرنا مقصود ہے کہ : یہ وہ جھوٹی احادیث ہیں جن کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ ہونا اضطراری طورپر معلوم ہے ‘اور یہ روایات دین اسلام کے متناقض ہے۔اور ان سے حضرت علی رضی اللہ عنہ اور ان کی مخالفت کرنے والوں کی تکفیر لازم آتی ہے۔ یہ باتیں کوئی ایسا انسان بھی نہیں کہہ سکتا جو اللہ تعالیٰ پر او رآخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو؛ چہ جائے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا کچھ فرمایا ہو۔ العیاذ باللہ ؛ ایسی باتوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کرنا بھی آپ کی ذات پر بہت بڑی قدح اورطعن کا موجب ہے۔ اور اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ اسی ملحد او رزندیق کا فعل ہوسکتا ہے جو دین اسلام میں فساد اور بگاڑ پیدا کرنا چاہتا ہو۔ایسے لوگوں پر اللہ کی لعنت ہوجو اس کے رسول پر جھوٹ گھڑ لاتے ہیں ۔ شیعہ کی روایات موضوعہ کی نسبت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد گرامی قابل غور ہے:

آپ فرماتے ہیں :’’ جس نے دانستہ مجھ پر جھوٹ باندھا، وہ اپناگھر دوزخ میں بنا لے۔‘‘ [صحیح بخاری، کتاب العلم۔باب اثم من کذب علی النبی رضی اللّٰہ عنہم (ح: ۱۰۷، ۱۰۸)،صحیح مسلم ۔ المقدمۃ۔ باب تغلیظ الکذب علی رسول اللّٰہ رضی اللّٰہ عنہم (ح:۲،۳)۔]

[البتہ ہم یہ کہتے ہیں کہ جو شخص نص رسول کو اللہ و رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت کے نقطۂ خیال سے چھپا لے وہ یقیناً جہنمی ہے۔]

[قبول ِاحادیث کاوجوب]:

[ اشکال] :شیعہ مصنف کا یہ قول کہ ’’ جب امامیہ نے دیکھا کہ ہمارے مخالفین ایسی احادیث روایت کررہے ہیں تو ہم نے اپنے ثقہ راویوں سے نقل کرکے اہل سنت کی ذکر کردہ روایات سے کئی گنا زیادہ احادیث بیان کی ہیں ۔ہم پر واجب ہوتا ہے کہ ا ن کی طرف رجوع کریں ۔اور ان سے ہٹنا ہم پر حرام ہے 

[جواب]:ہم کہتے ہیں کہ:’’ اس میں کوئی شک نہیں کہ تمہارے وہ راوی جن کی تم توثیق کرتے ہو ‘ وہ حد سے زیادہ ان راویوں کی جنس سے ہی ہوسکتے ہیں جو جمہور سے روایات نقل کرتے ہیں ؛ لیکن [ایسا ہرگزنہیں ] ۔اہل علم اضطراری طور پر جانتے ہیں کہ یہ راوی جھوٹے کذاب تھے ؛ اور تم ان سے بڑے کذاب اور پرلے درجہ کے جاہل ہو۔ تم پر ان حدیث کے موجب عمل کرنا اور ان کے مطابق فیصلے دینا حرام ہے۔ اس اعتراض پر کئی طرح سے کلام کیا جاسکتا ہے : 

صفحہ 4 از 7