فصل:....[امامت حضرت علی رضی اللہ عنہ کی بارھویں دلیل…

فصل:....[امامت حضرت علی رضی اللہ عنہ کی بارھویں دلیل :دیگراحادیث]

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 5 از 7

٭ پہلی وجہ :شیعہ سے یہ پوچھا جائے کہ: آپ کو یہ علم کیسے حاصل ہوگیا کہ قدیم زمانے میں جن لوگوں نے یہ روایات نقل کی ہے ؛ وہ ثقہ راوی ہیں ۔ کیونکہ آپ نے تو ان لوگوں کو نہیں پایا اور نہ ہی ان کے احوال جانتے ہو۔ اورنہ ہی تمہارے پاس کوئی ایسی قابل اعتماد کتابیں ہیں جن پر اعتماد کرتے ہوئے ضعیف اورثقہ کے مابین فرق کر سکو۔اور نہ ہی تمہارے ہاں اسناد ہیں جن کی بنا پر تم راویوں کی معرفت حاصل کرسکو۔بلکہ تمہارا بہت ساراوہ علم جو کہ تمہارے سامنے موجود ہے ‘ وہ یہود و نصاری کے ہاں موجود علم سے بھی برا ہے ۔بلکہ یہود کے ہاں تو ہلال اور شماس کی وضع کردہ کتابیں موجود ہیں ‘مگر شیعہ کے ہاں کوئی ایسی کتاب موجود نہیں ہے جس کی روشنی میں وہ جمہور پر رد کرسکیں ۔

جب کہ تمہارا یہ عالم ہے کہ جمہور اہل سنت والجماعت ہمیشہ تمہارے راویوں پرایسی کڑی تنقید کرتے رہے ہیں ،[ جس سے شدید تر تنقید کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا]۔جب کہ تمہیں ان کے احوال کے بارے میں کوئی علم نہیں ۔پھر تواتر کے ساتھ اس بات کا علم بھی حاصل ہے جس کاجھٹلانا کسی طرح بھی ممکن نہیں کہ تمہارے ہاں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے زمانہ سے لے کر آج تک جھوٹ کی کثرت ہے۔

تمہیں اس بات کا بھی علم ہے کہ محدثین خوارج سے بغض رکھتے ہیں اور ان کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول بہت ساری صحیح احادیث بھی روایت کرتے ہیں ۔ جن میں سے بعض احادیث امام بخاری نے نقل کی ہیں ۔ دس روایات امام مسلم نے نقل کی ہیں ۔ اورمحدثین اس چیز کو دین کا حصہ سمجھتے ہیں جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے صحیح سند کے ساتھ ثابت ہو۔ مگر اس کے باوجود خوارج کے ساتھ ان کا بغض انہیں اس بات پر نہیں ابھار سکا کہ یہ لوگ خوارج پر جھوٹ لگائیں ۔ بلکہ انہوں نے خوارج کو آزمایا تو انہیں سچا پایا۔ تمہارا یہ حال ہے کہ محدثین ‘ فقہاء؛ عام مسلمان ؛ تاجر؛ عوام الناس ؛ اور لشکری وغیرہ جن لوگوں نے بھی تمہارے ساتھ میل جول رکھا ؛ اور تمہیں جدید یا قدیم دور میں آزمایا ؛ اس نے تمہارے گروہ کو تمام گروہوں سے بڑا جھوٹا اور کذاب گروہ پایا۔ اگر ان میں کوئی ایک سچا ہوبھی تو دوسرے فرقوں میں ان سے زیادہ سچے موجودہوتے ہیں ۔ اگر دوسرے فرقوں میں کوئی ایک جھوٹا ہو تو شیعہ میں سب سے زیادہ جھوٹے ہوتے ہیں ۔یہ بات کسی بھی عقلمند منصف پر مخفی نہیں ہے۔ہاں جو کوئی اپنے خواہش نفس کی پیروی کرے تو یقیناً اللہ تعالیٰ نے ایسے لوگوں کے دلوں کو اندھا کردیا ہوتاہے۔ اور جن کو اللہ تعالیٰ گمراہ کردے انہیں کوئی راہ ہدایت پر لانے والا رہبر نہیں ملتا۔

یہ باتیں جو ہم نے ذکر کی ہیں ؛ قدیم و جدید میں اہل علم کے ہاں معروف رہی ہیں ۔جیسا کہ ہم نے اس سلسلہ میں بعض اقوال بھی نقل کیے ہیں ۔ یہاں تک کہ امام عبد اللہ بن مبارک رحمہ اللہ فرماتے ہیں :

’’ دین اہل حدیث [محدثین]کے ہاں ہے؛ جھوٹ رافضیوں کے ہاں ہے؛ کلام معتزلہ کے ہاں ہے؛ حیلے اصحاب فلاں اہل رائے کے ہاں ہیں ۔ اور سوئے تدبیر آل ابی فلاں کے ہاں ہے ۔‘‘

یہ بالکل ویسے ہی ہے جیسے کہ انہوں نے فرمایا ہے۔ اس لیے کہ دین وہ چیز ہے جسے دیکر اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کومبعوث کیا تھا۔آپ کی سنتوں اور احادیث کو سب سے زیادہ جاننے والے محدثین ہیں ۔جب کہ علم کلام میں سب سے زیادہ مشہور گروہ معتزلہ کا ہے ۔اسی لیے خواص کے ہاں معتزلہ بدعات میں بڑے مشہور تھے۔جب کہ رافضی اپنی بدعات میں خواص و عوام کے مابین بہت مشہور و معروف ہیں ؛ یہاں تک کہ اکثرعوام الناس انہیں متضاد اقوال کی وجہ سے جانتے ہیں ۔ اس لیے کہ ان کے اقوال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی لائی ہوئی تعلیمات سے متناقض ہیں ؛ خواص و عوام کو اس کا علم ہے۔خود ان کے اعمال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کے خلاف ہونے کی ایک بڑی دلیل ہیں ۔ یہاں تک کہ وہ گروہ جنہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دین سے کوئی زیادہ شناسائی نہیں ؛مگر انہیں مختلف فرقوں کی کسی قدر معرفت حاصل ہے ؛ اگران لوگوں سے رافضی کہتے ہیں کہ : ہم مسلمان ہیں ؛ تووہ کہتے ہیں :نہیں تم کوئی دوسری جنس ہو ؛ [تمہارا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ]۔یہی وجہ ہے کہ رافضی لوگ دین سے دشمنی رکھنے والے ہر گروہ سے دوستی رکھتے ہیں ؛ جیسے کہ یہود و نصاری اور مشرکین ؛ مشرک ترک۔

ان اولیاء اللہ سے دشمنی رکھتے ہیں جو اہل دین میں سے بہترین لوگ اور اہل تقوی کے سردار ہیں ۔یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے اس دین کی تبلیغ کی؛ اسے قائم کیا اور اس کی نصرت کی ۔ یہی وجہ ہے کہ کافر تاتاریوں کے بلاد اسلام میں داخل ہونے کاسب سے بڑا سبب رافضی ہی تھے۔عباسی وزیر ابن علقمی او راس جیسے دوسرے لوگ جیسے نصیر طوسی کے مسلمانوں کے خلاف کفار سے اتحادکو خواص و عوام سبھی جانتے ہیں ۔ایسے ہی ان میں سے جو لوگ شام میں تھے انہوں نے مسلمانوں کے خلاف مشرکین کاساتھ دیااور ان کی مدد کی؛یہ بات تمام لوگ جانتے ہیں ۔

جب مسلمانوں کا لشکر ٹوٹ پھوٹ کاشکار تھا؛ اورغازان اسلامی ممالک پرحملہ آور تھا؛ توان لوگوں نے نصرانی کافروں اور دوسرے مسلمان دشمنوں کاساتھ دیا۔اور مسلمانوں کے بچوں اور اموال کوان کے ہاتھوں بیچ ڈالا ۔اور خوب کھل کر مسلمانوں کے خلاف جنگ کی۔ ان میں سے بعض نے تو صلیبیوں کا جھنڈا بھی اٹھایا ہوا تھا۔قدیم دور میں بیت المقدس پر نصاری کے قبضہ کا ایک بڑا سبب شیعہ تھے۔یہاں تک مسلمانوں نے بیت المقدس کو دوبارہ حاصل کرلیا۔

رافضی مذہب انہوں نے ہی اختیار کیا ہے جو لوگوں میں سب سے بڑے منافق تھے ؛ جیسے : نصیریہ ؛اسماعیلیہ اور دیگر گروہ۔یہ ایسے لوگ تھے جو باطنی طور پر سب سے بڑے کافر؛یہود و نصاری سے بڑھ کر اللہ اور اس کے رسول کے دشمن تھے۔

صفحہ 5 از 7