فصل:....[امامت حضرت علی رضی اللہ عنہ کی بارھویں دلیل…

فصل:....[امامت حضرت علی رضی اللہ عنہ کی بارھویں دلیل :دیگراحادیث]

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 6 از 7

یہ اور اس جیسے دیگر امور جوکہ ظاہر ومعروف ہیں ؛ جنہیں عام و خاص سبھی جانتے ہیں ؛ان کے موجب اور ان کی دین سے مفارقت اورکفار و منافقین کے زمرہ میں داخل ہونے کی وجہ سے ان کو مسلمانوں سے جدا کرنا واجب ہوجاتا ہے۔یہاں تک کہ ان کے احوال کو دیکھنے والا ہی سمجھ جائے کہ یہ لوگ مسلمانوں سے علیحدہ ایک جنس ہیں ۔ اس لیے کہ بلاریب جو لوگ قدیم و جدید دور میں اسلام کو قائم کرتے چلے آئے ہیں وہ جمہور مسلمان ہیں ۔جب کہ رافضیوں نے تو ہمیشہ دین اسلام کو مٹانے اور اس کی رسی کو توڑنے ‘اور اس کی بنیادوں کو ڈھانے کی کوشش کی ہے۔اور جس قدر ان میں دین کا کچھ حصہ باقی ہے ‘ وہ جمہور مسلمانوں کی کوششوں کی وجہ سے ہے۔

یہی وجہ ہے کہ ان میں قرآن کی تلاوت کرنے والے بہت کم ہیں ۔اور ان میں سے جو لوگ اچھی طرح قرآن پڑھنا جانتے ہیں انہوں نے اہل سنت و الجماعت سے اس کی تعلیم حاصل کی ہے۔ یہی حال حدیث میں بھی ہے ؛ حدیث کی معرفت و تصدیق اور اخذوقبول میں اہل سنت کا قول ہی معتبر ہے۔ایسے ہی فقہ و عبادت ؛ زہد وجہاد اور قتال میں بھی لوگ حقیقت میں اہل سنت والجماعت کے لشکر میں شامل ہیں ۔اور اہل سنت والجماعت ہی وہ لوگ ہیں جن کے علماء و مجاہدین عباد و زھاد کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ نے اس دین کی علماً اور عملاً حفاظت فرمائی ہے۔ رافضی دین اسلام سے پرلے درجے کے جاہل لوگ ہیں ۔اور انسان کے لیے ان کے پاس کوئی خاص چیز نہیں ہے سوائے اس چیز کے جس سے دشمن خوش ہوں اور اہل اسلام کو تکلیف پہنچائے۔ اسلام میں ان لوگوں کے لیل و نہار انتہائی سیاہ ہیں ۔ ان کے عیوب اور بھلائیوں کو سب سے زیادہ جاننے والے اہل سنت ہیں ۔ آپ ہمیشہ ان سے کچھ دیگر اچھنبے امور بھی دیکھتے رہیں گے جن سے ان کی پہچان حاصل ہوجائے گی۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے یہود کے بارے میں فرمایا ہے :

﴿وَ لَا تَزَالُ تَطَّلِعُ عَلٰی خَآئِنَۃٍ مِّنْہُمْ اِلَّا قَلِیْلًا مِّنْہُمْ ﴾ [المائدۃ ۱۳]

’’ اورآپ ہمیشہ ان کی کسی نہ کسی خیانت کی خبر پاتے رہیں گے، سوائے ان میں سے بہت تھوڑے۔‘‘

اگر میں ان کی بعض ایسی باتیں نقل کرنی شروع کردوں جو میں نے خود دیکھی ہیں اور جو ثقہ لوگوں سے نقل کی ہیں ؛ اور جو کچھ ان کی کتابوں میں پڑھا ہے ؛ تو اس کے لیے ایک بہت بڑی کتاب چاہیے۔

یہ لوگ انتہائی درجہ کی جہالت اورکم عقلی کا شکار ہیں ۔ایسی باتوں سے نفرت کرتے ہیں جن سے نفرت کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ۔اگر یہ مان بھی لیا جائے کہ یہ لوگ حق پر ہیں تو پھربھی ایسے کام کرتے ہیں جن میں ان کے لیے کوئی منفعت نہیں ۔ مثال کے طور پر مرغی کے پر نوچنا؛ گویاکہ وہ اس سے انتقام لے رہے ہوں ۔ [وہ یہ خیال کرتے ہیں کہ] وہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے بال نوچ رہے ہیں ۔ -العیاذ باللہ -۔ اور ایسے ہی زین کے نیچے رکھے ہوئے تھڑے کو درمیان سے پھاڑ ڈالنا ؛ اور یہ کہنا کہ ہم نے عمر رضی اللہ عنہ کا پیٹ پھاڑ ڈالا۔تو کیا مسلمان فرقوں میں سے کسی ایک نے اپنے مخالفین کے ساتھ ایسا کیا ہے ؟

اگر ایسا کرنا مشروع ہوتا تو ابو جہل اوراس جیسے دوسرے لوگ اس کے زیادہ حق دار تھے ۔ اور جیسا کہ ان لوگوں کا عشرہ مبشرہ کے بغض کی وجہ سے دس کے عدد سے بغض و نفرت رکھنا۔ جب کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں کئی مقامات پر دس کا ذکربطور مدح کیا ہے ۔ جیساکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : ﴿وَالْفَجْرِOوَلَیَالٍ عَشْرٍ﴾ [الفجر]

’’ اور قسم ہے فجر کے وقت کی اور دس راتوں کی ۔‘‘

نیز فرمایا : ﴿ وَّ اَتْمَمْنٰہَا بِعَشْرٍ ﴾ [الأعراف ۱۴۲]

’’اور ہم نے مزید دس راتوں سے اسے پورا کردیا۔‘‘

اوراللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

﴿ تِلْکَ عَشَرَۃٌ کَامِلَۃٌ ﴾ [البقرۃ ۱۹۶]

’’اور وہ ہیں گنتی کے پورے دس ۔‘‘

جب کہ نو کے عدد کو بطور مذمت کے ذکر کیا ہے ؛ فرمان الٰہی ہے :

﴿وَکَانَ فِی الْمَدِیْنَۃِ تِسْعَۃُ رَہْطٍ یُفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِ وَلَا یُصْلِحُوْنَ ﴾ [النمل ۴۸]

’’اور شہر میں نو گروہ تھے جو کہ فساد پھیلاتے تھے اور اصلاح نہیں کرتے تھے ۔‘‘

تو کیا کبھی بھی ایسا ہوا ہے کہ مسلمانوں نے نو کے عدد کو زبان پر لانے کو ناپسند کیا ہے ۔ جب کہ شیعہ کا یہ حال ہے کہ وہ دس کے بجائے نو کے لفظ کو ترجیح کے طورپر استعمال کرتے ہیں ۔

ایسے ہی شیعہ کا ان اسماء[ناموں ] کوناپسند کرنا جو ان کے ناپسندیدہ لوگوں کے ناموں پر رکھے گئے ہیں ۔جب کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں ایسے لوگ موجود تھے جن کے نام اسلام دشمنوں کے ناموں پر تھے۔ جیسا کہ ولید ؛ جسے قرآن نے وحید کے لقب سے ذکر کیاہے ؛اس کا بیٹا بہترین مسلمانوں میں سے تھا؛ اس کا نام بھی ولید رضی اللہ عنہ تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں قنوت نازلہ پڑھ کر اس کے لیے دعا فرمایا کرتے تھے : ’’ اے اللہ ! ولید بن ولید کو نجات عطاء فرما۔‘‘ [متفق علیہ ]

جیساکہ ابی بن خلف جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قتل کیا تھا ۔ جبکہ مسلمانوں میں اس نام کے کئی افراد موجود تھے جیسے حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ وغیرہ ۔اور جیسا کہ عمرو بن عبد ود العامری؛اور صحابہ میں بھی اس نام کے لوگ تھے جیسے عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ ۔ اس کی مثالیں بہت زیادہ ہیں ۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں سے کسی ایک کا نام بھی اس وجہ سے تبدیل نہیں کیا کہ اس نام کا کوئی کافر بھی موجود ہے۔

٭ اگر اس بات کو تسلیم کرلیا جائے کہ جن لوگوں سے شیعہ نفرت رکھتے ہیں ‘وہ کافر ہیں ؛ پھر بھی ان کا ان ناموں سے ناپسندیدگی کا اظہار کرنا جہالت کی انتہاء ہے ؛کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان صحابہ کو ان ہی ناموں سے پکارا کرتے تھے۔

صفحہ 6 از 7