Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

سیدنا طفیل بن عمرو الدوسی الازدی رضی اللہ عنہ

  علی محمد الصلابی

سیدنا طفیل بن عمرو الدوسی الازدیؓ معرکہ یمامہ میں شہید کیے گئے۔ آپؓ انتہائی شریف اور لبیب شاعر تھے، اپنی شہادت سے قبل آپؓ نے خواب دیکھا۔ فرماتے ہیں: میں نکلا اور میرے ساتھ عمرو کے دو بیٹے تھے۔ میں نے دیکھا: میرے سر کا حلق کر دیا گیا ہے اور میرے منہ سے ایک پرندہ نکلا اور ایک عورت نے مجھے اپنی شرمگاہ میں داخل کر لیا ہے۔ میں نے اس کی تعبیر یہ نکالی کہ سر کے حلق کا مطلب اس کا قلم ہونا ہے اور پرندہ سے مقصود میری روح ہے اور عورت سے مقصود زمین ہے، جس میں دفن کیا جاؤں گا۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا اور معرکہ یمامہ میں شہید ہو گئے۔

(عہد الخلفاء الراشدین: ذہبی صفحہ 62، 63)

اس فیصلہ کن معرکہ میں بہت سے مہاجرین و انصار نے جام شہادت نوش کیا۔

مرتدین کے خلاف فتح و نصرت کی خوشی کے باوجود مدینہ اپنے شہداء پر روتا رہا، صرف معرکہ یمامہ میں ایک ہزار دو سو مسلمان شہید ہوئے۔ ان میں بہت سے کبار صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین تھے اور ان میں اکثر حفاظ قرآن تھے۔ تقریباً چالیس قراء شہید ہوئے۔ حزن و غم نے مدینہ کا دل نچوڑ دیا۔ فتح و نصرت کی مسکراہٹوں کو آنسوؤں میں ڈبو دیا۔ سینے تنگ ہو گئے اور دلوں پر آزمائش اسی قدر بھاری پڑی جس قدر فتح و کامیابی نے نفوس کو روشن کیا، ایمان کو قوت بخشی اور ان کے اندر اعتماد کو پیدا کیا۔

(الصدیق اوّل الخلفاء: صفحہ 117)