فصل: ....حدیث میں مہارت کی ضرورت - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

فصل: ....حدیث میں مہارت کی ضرورت

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 1 از 7

فصل: ....حدیث میں مہارت کی ضرورت

[اہل نظر و استدلال میں ہر کوئی منقولات کا خبیر اورجھوٹ اورسچ اور صحیح اور سقیم کے مابین فرق کا ماہر نہیں ہوتا]

جان لیجیے کہ : اہل نظر و استدلال میں ہر کوئی منقولات کا خبیر اورجھوٹ اورسچ اور صحیح اور سقیم کے مابین فرق کا ماہر نہیں ہوتا؛عوام الناس کی تو بات ہی کجا ہے۔اور اجمالی طور پر یہ بات معلوم شدہ ہے کہ منقولات میں سچ بھی ہوتا ہے اور جھوٹ بھی۔ اور ان حضرات کو علم حدیث کے ماہر علماء کی طرح کا علم اور تجربہ نہیں ہوتا۔ پس انہیں حضرات کو جھوٹ اور سچ پر استدلال کرنے کے لیے دوسرے طریقوں کی ضرورت ہوتی ہے۔

اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے قلم کے ذریعہ تعلیم دی ہے؛ اور انسان کو وہ کچھ سکھایا ہے جو وہ نہیں جانتا تھ۔ اور اسے پیدا کیا؛ پھر برابر کیا؛ جس نے تقدیر مقرر کی اور ہدایت دی۔ اورہر چیز کو اس کے مناسب حال پر پیدا کیااور پھر اس کو ہدایت دی۔ وہ ہستی جس نے لوگوں کوان کی ماؤں کے پیٹوں سے نکالا؛اوروہ کچھ بھی نہیں جانتے تھے؛ اور پھران کے لیے کان اور آنکھیں اور دل بنادیے ؛ وہ اپنے بندوں میں سے جس کو چاہے ان دلائل کی طرف آسانی سے ہدایت دیتا ہے جن کی وجہ سے حق اور باطل اور سچ اور جھوٹ کے درمیان تمیز کرنا ممکن ہو۔

جیسا کہ حدیث قدسی میں آیا ہے :

’’ اے میرے بندو! تم سارے گمراہ ہو سوائے اس کے جسے میں ہدایت دیدوں ۔پس تم مجھ سے ہدایت طلب کرو‘ میں تمہیں ہدایت دوں گا۔‘‘

یہی وجہ ہے کہ جھوٹ سے سچ کی معرفت کے مختلف طریقے ہیں ۔ حتی کہ کوئی خبر دینے والا اپنی ذات کے بارے میں یہ خبر دیتا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کا رسول ہے۔ یعنی وہ نبوت کا دعوی کرتا ہے۔ پس وہ طرق جن کے ذریعہ سچے کی سچائی اور جھوٹے کذاب متنبی کی معرفت ہو؛ بہت زیادہ اور مختلف ہیں ۔ اس مسئلہ پر ہم کئی ایک مواقع پر تنبیہ کرچکے ہیں ۔ یہی حال رسولوں سے منقول پیغام کا بھی ہے۔ ان میں سے سچ اور جھوٹ کے جاننے کے طریقے متعدد اور متنوع ہیں ۔ اور یہی حال ان لوگوں کی صداقت جاننے کا بھی ہے جو اس علم نبوت کے حاملین ہیں ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اہل علم سچوں کی سچائی کو جانتے ہیں ۔ جیسا کہ امام مالک، اورالثوری، شعبہ، یحی بن سعید؛ عبد الرحمن بن مہدی؛ أحمد بن حنبل، البخاری، مسلم، ابو داود، اور ان کے امثال علماء کے متعلق علم یقینی کے طور پر جانتے ہیں ؛ اور پورے وثوق کے ساتھ کہتے ہیں کہ : یہ حضرات جان بوجھ کرحدیث میں جھوٹ نہیں بولتے ۔اور ان کے مقابلہ میں محمد بن سعید المصلوب، ابو البختری القاضی، واحمد بن عبد اللہ الجویباری، وعتاب بن براہیم بن عتاب، ابو داود النخعی،اور ان جیسے دوسرے لوگوں کے متعلق جانتے ہیں کہ یہ جان بوجھ کر جھوٹ بولتے ہیں ۔

لیکن جہاں تک خطاء کا تعلق ہے ؛تو اس پر نبی کو باقی نہیں رہنے دیا جاتا؛ ان کے علاوہ کوئی بھی خطا سے معصوم نہیں ۔ لیکن محدثین کرام جانتے ہیں کہ ائمہ جیسا کہ زہری ؛ ثوری ؛ مالک اور ان کے امثال بہت معمولی چیزوں میں سب لوگوں سے کم غلطی کرنے والے ہیں ۔ اوریہ چیزیں بھی ایسی معمولی ہیں کہ اس سے حدیث کے مقصود میں فرق نہیں آتا۔ اوروہ ان سے کم مرتبہ کے ان لوگوں کو بھی جانتے ہیں جن سے کبھی کبھار غلطی ہوجاتی ہے؛ مگر اکثر طور پر ان پر حفظ اور ضبط کا غلبہ رہتا ہے۔ اور ان کے پاس ایسے دلائل ہوتے ہیں جن سے غلطی کرنے والے کی غلطی پر استدلال کرتے ہیں ۔

ان کے علاوہ کچھ دوسرے لوگ بھی ہیں جو بہت زیادہ کثرت کے ساتھ غلطی کرتے ہیں ۔ یہ لوگ جب کسی روایت کے نقل کرنے میں منفرد ہوں تو ان سے استدلال نہیں کیا جاتا۔لیکن ان کی روایت کردہ حدیث کو بطور شاہد اور اعتبار کے تسلیم کیا جاتا ہے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کی روایت میں دیکھا جاتا ہے۔کیا ان کے علاوہ کسی اور نے بھی روایت کیا ہے یانہیں ؟

جب اس کی اسناد متعدد ہوں ‘ اور الفاظ ایک ہوں ؛ اور یہ بھی علم ہو کہ انہوں نے آپس میں ملاقات یا عمدا ایسا نہیں کیا۔ اور عام طور پر اس جیسے معاملات میں خطا نا ممکن ہو تو یہ اس حدیث کے سچا ہونے کی دلیل ہوتی ہے۔

اسی لیے امام أحمد بن حنبل رحمہ اللہ فرماتے ہیں : بسا اوقات کسی آدمی سے حدیث کی روایت میں اعتبار [و شاہد] کے لیے لکھ لیتا ہوں ۔ جیسا کہ ابن لھیعہ اور ان جیسے دوسرے لوگ ۔اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ عالم و فاضل ؛ دیندار قاضی تھا۔ لیکن اس کی کتابیں جل گئی تھیں ۔ پھر اس کے بعد جو حدیث بیان کرتا ؛ان میں بہت کچھ غلطی کرجاتا ۔ لیکن اس کی اکثرروایت صحیح ہوتی ہیں جن پر دوسرے ثقہ علماء جیسے لیث رحمہ اللہ اور ان کے امثال موافقت کا اظہار کرتے ہیں ۔

صفحہ 1 از 7