فصل: ....حدیث میں مہارت کی ضرورت - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

فصل: ....حدیث میں مہارت کی ضرورت

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 2 از 7

اہل الحدیث[محدثین کرام] رحمہم اللہ صحیحین کے متون کی سچائی کو جانتے ہیں ۔ اور من گھڑت روایات کے جھوٹ کو بھی جانتے ہیں جن کے بارے میں وہ یقین کے ساتھ کہتے ہیں کہ وہ جھوٹ ہیں ۔ اس کی وجہ وہ اسباب ہیں ؛ جن کی وجہ سے وہ اس علت کو جانتے ہیں ۔ اور وہ لوگ بھی جانتے ہیں ؛جو اس علم میں ان کے ساتھ شریک ہیں ۔ اور جو لوگ اس علم میں ان کے ساتھ شریک نہیں ہیں وہ ان علتوں کو نہیں جانتے۔ جیسا کہ وہ گواہ جو گواہی دیتے ہیں ۔جس کو ان لوگوں کا تجربہ او رخبر ہو ؛ وہ ان کے سچے کی سچائی ؛اور جھوٹے کے جھوٹ کو جانتے ہیں ۔ یہی حال تجارتی معاملات خرید و فروخت اور کرایہ داری میں تجربہ اور علم رکھنے والے جھوٹے کا جھوٹ؛ سچے کی سچائی اور امانت دار او رخائین کو جانتے ہیں ۔ یہی حال ان واقعات کا بھی ہے جن میں بعض کے سچ ہونے کو اور بعض کے جھوٹ ہونے کو لوگ اچھی طرح جانتے ہیں ۔ اور بعض معاملات میں وہ شکوک و شبہات کا شکار ہوتے ہیں ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اخبار و احوال کی معرفت؛ آپ کے اقوال و افعال؛ آپ کی بیان کردہ توحید؛ امر و نہی ؛وعد و وعید اوراعمال و اقوام اور زمان و مکان کے فضائل و مثالب [نقص و عیب]کا حال بھی ایسے ہی ہے۔ان کا سب سے زیادہ علم ان لوگوں کو ہے جنہیں آپ کی احادیث کا علم ہے ؛ اور انہوں نے اس علم کے حاصل کرنے میں ہر طرح کی جدو جہد ؛ محنت ومشقت سے کام لیا ہے۔ اور اس علم کے نقل کرنے والوں کے احوال کی معرفت حاصل کی ہے۔ او رپھر کئی اعتبار و وجوہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے احوال کو جانا۔اور ان سب روایات کو جمع کیا۔ اور سچے کی سچائی ؛ غلط کار کی غلطی اور جھوٹے کے جھوٹ کی معرفت حاصل کی۔

اس علم کے لیے اللہ تعالیٰ نے ایسے لوگ پیدا کیے جنہوں نے اس امت میں ان علوم کی حفاظت کی جن کی وجہ سے یہ دین محفوظ رہا۔ اور دوسرے لوگ اس علم میں ان کے تابع ہیں : یا تو ان سے استدلال کرنے والے ہیں ؛ یا پھر ان کے مقلد ہیں ۔ جیسا کہ احکام میں اجتہاد کا معاملہ ہے؛ اس کے لیے اللہ تعالیٰ نے ایسے لوگوں کو پیدا کیا؛ حتی کہ ان کے ذریعہ اللہ تعالیٰ اس امت کے لیے ان کے دین کو محفوظ کیا۔ تو ان کے علاوہ جتنے لوگ ہیں ؛ وہ ان کے تابع ہیں ۔ یا تو ان سے استدلال کرنے والے ہیں ؛ یا پھر ان کے مقلد ہیں ۔

مثال کے طور پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خاص الخواص اصحاب کرام رضی اللہ عنہم ان لوگوں کی نسبت احوال نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی معرفت زیادہ رکھتے تھے جنہیں اختصاص میں ان سے کم مرتبہ ملا تھا۔ خواص کی مثال: جیسا کہ حضرت أبو بکر وعمر،عثمان، علی، طلحۃ، الزبیر،عبد الرحمن بن عوف، سعد، أبي بن کعب، معاذ بن جبل، ابن مسعود، بلال، وعمار بن یاسر، ابو ذر الغفاری، وسلمان، وأبو الدرداء، وابو یوب الأنصاری،عبادۃ بن الصامت، وحذیفہ، وأبو طلحہ،اور ان کے امثال مہاجرین و انصار میں سے سابقین اولین؛- رضی اللہ عنہم - جنہیں ان لوگوں کی نسبت زیادہ اختصاص حاصل تھا جو کہ ان کے ہم پلہ و ہم مثل نہیں ہیں ۔لیکن بعض صحابہ کرام دوسروں کی نسبت زیادہ یادداشت اور سمجھ و فقہ رکھتے ہیں ۔اگرچہ ان میں سے کسی دوسرے کو لمبی صحبت کی سعادت ملی ہو۔ اور بعض سے ان کی لمبی عمر کی وجہ سے لوگوں نے زیادہ علم حاصل کیا ہوتا ہے؛ بھلے کوئی دوسرا اس سے بڑا عالم کیوں نہ ہو۔ جیسا کہ حضرت ابوہریرہ؛ حضرت ابن عمر؛ حضرت ابن عباس؛ حضرت عائشہ؛ حضرت جابر؛ حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہم سے ان لوگوں کی نسبت زیادہ علم حدیث حاصل کیا گیاہے جو ان سے زیادہ افضل تھے۔ جیسے حضرت طلحہ؛ حضرت زبیر؛اور ان کے امثال رضی اللہ عنہم ۔ جب کہ خلفائے اربعہ رضی اللہ عنہم کو کلیات دین کی تبلیغ ؛ دین کے اصولوں کی نشرو اشاعت اور لوگوں کے ان سے علم دین کے حصول میں وہ مقام حاصل ہے جو ان کے علاوہ کسی دوسرے کے نصیب میں نہیں ۔ اگرچہ بعض صغار صحابہ سے احادیث ِ مفردہ اتنی کثرت سے روایت ہیں جو کہ خلفاء سے بھی روایت نہیں کی گئیں ۔ پس خلفائے راشدین کو عموم تبلیغ اور دین کو قوت دینے میں وہ مقام حاصل ہے جس میں کوئی دوسرا ان کا شریک نہیں ۔پھر جب یہ لوگ اس دعوت و تبلیغ کے لیے کھڑے ہوئے تو ان کے علاوہ دوسرے بھی اس بابرکت کام میں ان کے شریک ہوگئے۔ پس اس طرح اس کام کوتراتر کادرجہ حاصل ہوگیا؛ جیسا کہ حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کا مصاحف کی شکل میں قرآن جمع کرنا؛پھر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے اسے ایک مصحف کی شکل میں جمع کیا ۔ اور پھرمختلف شہروں میں ارسال کیا۔ پس اس وقت قرآن جمع کرنے اور اس کی تبلیغ کا اہتمام دوسرے تمام امور کی نسبت بہت زیادہ رہا ہے۔

یہی حال مختلف شہروں میں شرائع اسلام کی تبلیغ کا بھی رہا ہے۔ اور اسی چیز پر ان کے ساتھ قتال بھی ہوتا رہا۔ اور امراء و علماء اس معاملہ میں نیابت کے فرائض سر انجام دیتے رہے۔ اور یہ حضرات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے آپ کے اقوال و افعال لوگوں تک پہنچاتے رہے۔پس یہ تبلیغ ان اہل علم تک پہنچی جنہوں نے اس دین کوقائم کیا؛ اور یہ نقل نقل متواترِ ظاہر اور ایسی معلوم شدہ ہوگئی جس سے حجت قائم ہوسکے۔ اورراہِ حق بالکل واضح ہوجائے۔ اور اس سے بالکل یہ بھی واضح ہوگیا یہ حضرات ہدایت یافتہ خلفائے راشدین تھے جو علم و عمل کے لحاظ سے اس امت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے جانشین بنے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ؛ جیسا کہ اللہ تعالیٰ آپ کے حق میں ارشاد فرماتے ہیں :

﴿وَالنجم اِِذَا ہَوٰیo مَا ضَلَّ صَاحِبُکُمْ وَمَا غَوٰیo وَمَا یَنْطِقُ عَنِ الْہَوٰیo اِِنْ ہُوَ اِِلَّا وَحْیٌ یُّوحٰیo﴾[النجم۱۔۴] 

’’قسم ہے ستا رے کی جب وہ گرے ! کہ تمھارا ساتھی (رسول) نہ راہ بھولا ہے اور نہ غلط راستے پر چلا ہے۔ اور نہ وہ اپنی خواہش سے بولتا ہے۔ وہ تو صرف وحی ہے جو نازل کی جاتی ہے ۔‘‘

پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نہ ہی راہ سے ہٹے؛ اور نہ ہی بہکے۔ یہی حال خلفائے راشدین کا بھی تھا۔جن کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے :

صفحہ 2 از 7