فصل: ....حدیث میں مہارت کی ضرورت - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

فصل: ....حدیث میں مہارت کی ضرورت

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 3 از 7

((علیکم بسنتي و سنۃ خلفاء الراشدین المہدیین من بعدي تمسکوا بہا و عضوا علیہا بالنواجذ۔و إیّاکم ومحدثات الأمور؛ فإن کل بدعۃ ضلالۃ۔))

’’ تم پر میری سنت اور میرے بعد میرے ہدایت یافتہ خلفاء راشدین کی سنت لازم ہے ۔ اس کے ساتھ چمٹے رہو ‘ اور اسے اپنے کنچلی کے دانتوں سے مضبوطی سے پکڑ لو۔خبردار! اپنے آپ کو نئے کاموں سے بچاکر رکھنا ؛ اس لیے کہ ہر بدعت گمراہی ہے۔‘‘ [سنن أبي داؤد ۴؍۴۸۰۰؛ وابن ماجۃ ۱؍۱۵۔ والدارمي ۱؍۴۴۔]وقد سبق تخریجہ]

بلا شک و شبہ خلفائے راشدین اس مہم میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے جانشین تھے؛ بنابرایں ہدایت کی وجہ سے ان سے گمراہی کی نفی کی گئی ہے اور رشد وکامیابی کی وجہ سے کجی اوربے راہ روی کی نفی کی گئی ہے۔

یہ علم و عمل کا کمال ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ گمراہی علم نہ ہونے کی وجہ سے ہوتی ہے۔ اور کجی اتباع نفس [خواہشات نفس کی پیروی] کی وجہ سے ہوتی ہے۔ پس اس لیے اللہ تعالیٰ نے ہمیں حکم دیا ہے کہ ہم نمازوں میں یوں کہیں :

﴿اِہْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْم(۵) صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْہِمْ (۶) غَیْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَیْہِمْ وَ لَا الضَّآلِّیْنَ﴾[الفاتحہ ۶۔۷]

’’ ہمیں سیدھے راستے پر چلا۔ ان لوگوں کے راستے پر جن پر تو نے انعام کیا، جن پر نہ غصہ کیا گیا اور نہ وہ گمراہ ہیں ۔‘‘

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے :’’مغضوب علیہم سے مراد یہود ہیں اور الضالین سے مراد نصاری ہیں ۔‘‘

پس ہدایت یافتہ اورکامیاب وہ ہے جسے اللہ تعالیٰ صراط مستقیم کی طرف ہدایت دیدیں ۔اور وہ اہل ضلال جاہلوں میں سے نہ ہو۔اور نہ ہی ان سرکش اور باغیوں میں سے ہو جن پر اللہ تعالیٰ کا غضب نازل ہوا۔

یہاں پر مقصود یہ بیان کرنا ہے کہ بعض صحابہ کرام رضی اللہ عنہم بعض دوسرے صحابہ کرام کی نسبت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے احوال کی معرفت زیادہ رکھتے تھے۔اور بعض نے دوسروں سے سیکھ کر تبلیغ میں زیادہ کردار ادا کیا۔ پھر بسا اوقات مفضول کے پاس کسی خاص مسئلہ میں وہ علم ہوتاہے جو افضل کے پاس نہیں ہوتا؛ سو وہ افضل اس علم میں مفضول سے مستفید ہوتاہے۔ اس سے یہ واجب نہیں ہوتا کہ مفضول فاضل سے مطلق طور پر بڑا عالم ہو۔ اور نہ ہی یہ فاضل جو مفضول سے علم حاصل کررہا ہے؛ اس وجہ سے اعلم و افضل اور ممتاز ہوجاتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ خلفاء راشدین رضی اللہ عنہم بعض ان مسائل میں جن کا علم ان کے پاس نہ ہوتا؛ عام صحابہ کرام سے مستفید ہوا کرتے تھے۔ جیسا کہ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے دادی کی میراث کے علم میں محمد بن مسلمہ ، اورمغیرہ بن شعبہ سے استفادہ کیا۔ اورحضرت عمر رضی اللہ عنہ نے جنین کی دیت؛استئذان ؛اور شوہر کی دیت سے بیوی کی میراث کے بارے؛اور کچھ دوسرے مسائل میں دوسرے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے استفادہ کیا۔اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ بیوہ کی عدت گزاری؛ اورحضرت علی رضی اللہ عنہ نے صلاۃ توبہ کے بارے میں دوسرے صحابہ کرام سے استفادہ کیا۔

بسا اوقات علم فاضل پر مخفی رہتاہے؛اور اس کی موت تک اسے اس کا علم نہیں ہوتا۔لیکن علم کی اس بات کی تبلیغ وہ لوگ کرتے ہیں جو اس عالم و فاضل سے کم مرتبہ ہیں ۔اور ایسا بہت زیادہ ہوتا ہے۔ لیکن یہ موقع ان چیزوں کو بیان کرنے کا نہیں ۔ لیکن یہاں پر مقصود علم کے طرق کا بیان کرنا ہے۔ پس خلفائے راشدین کے بعد صحابہ کرام رضی اللہ عنہم جیسے : حضرت أ بی بن کعب، اورابن مسعود، اورمعاذ بن جبل، اور ابو الدرداؤ، اورزید بن ثابت، وحذیفہ، وعمران بن حصین، و أبوموسیٰ وسلمان، وعبد اللہ بن سلام، اور ان کے امثال و ہم پلہ حضرات سے لوگوں نے علم حاصل کیا۔

پھر ان کے بعد جیسا کہ حضرت عائشہ، ابن عباس، ابن عمر، عبد اللہ بن عمرو ابو سعید، وجابر رضی اللہ عنہم ، اور دوسرے حضرات کا مرتبہ آتا ہے۔

تابعین میں سے فقہاء کرام اور دوسرے تابعین جیسا کہ سعید بن مسیب، عروہ بن الزبیر، عبید اللہ بن عبد اللہ بن عتبہ،القاسم بن محمد، وسالم بن عبد اللہ، ابو بکر بن عبد الرحمن بن الحارث بن ہشام،علی بن الحسین، وخارجہ بن زید بن ثابت، اورسلیمان بن یسار رحمہم اللہ ، اورجیسا کہ علقمہ، أسود، شریح القاضی، عبیدہ السلمانی، والحسن البصری، ومحمد بن سیرین رحمہم اللہ ،اور ان کے أمثال۔

پھر ان کے جیسے الزہری، وقتادہ، یحی بن أبی کثیر؛ مکحول الشامی، اورایوب السختیانی، یحی بن سعید الأنصاری، یزید بن أبی حبیب المصری رحمہم اللہ ،اور ان کے أمثال۔

پھر ان کے بعد جیسے:امام مالک ، ثوری، حماد بن زید، حماد بن سلمہ، اللیث، أوزاعی، شعبہ، اورزائدہ، اورسفیان بن عیینہ،اور ان کے أمثال۔ رحمہم اللہ

پھر ان کے بعد جیس: یحی القطان، عبد الرحمن بن مہدی، ابن المبارک، عبد اللہ بن وہب، وکیع بن الجراح، اسماعیل بن علی، ہشیم بن بشیر رحمہم اللہ ۔

پھر ان کے بعد : امام بخاری، مسلم، أبو داود، أبو زرعہ، أبو حاتم، عثمان بن سعید الدارمی،وعبد اللہ بن عبد الرحمن الدارمی، ومحمد بن مسلم بن وارہ، أبو بکر الأثرم، ابراہیم الحربی، وبقی بن مخلد أندلسی، ومحمد بن وضاح۔ رحمہم اللہ

پھر جیساکہ: ابو عبد الرحمن النسائی،الترمذی، ابن خزیمہ، ومحمد بن نصر المروزی، ومحمد بن جریر الطبری، وعبد اللہ بن أحمد بن حنبل، وعبد الرحمن بن أبی حاتم رحمہم اللہ ۔

پھر ان کے بعد جیسے:ا بوحاتم البستی،اور أبو بکر النجاد، وأبو بکر نیساپوری، وأبو قاسم الطبرانی، أبو الشیخ الأصفہانی، أبو أحمد العسال الأصفہانی، اور ان کے امثال۔ رحمہم اللہ

پھر ان کے بعد جیسے :ابو الحسن الدارقطنی، ابن مندہ، الحاکم أبو عبد اللہ، عبد الغنی بن سعید، رحمہم اللہ اور ان کے امثال ؛اتنے لوگ ہیں کہ ان کا اعداد و شمار ہی ممکن نہیں ۔

یہ حضرات اور ان کے امثال لوگوں سے بڑھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے احوال کی معرفت رکھتے ہیں ۔اگرچہ ان میں ایسے لوگ بھی تھے جن کی روایات دوسروں سے بہت زیادہ تھیں ۔ اور ان میں ایسے بھی تھے جنہیں دوسروں کی نسبت صحیح اور ضعیف حدیث کی معرفت زیادہ تھی۔اور ایسے بھی تھے جو دوسروں سے بڑھ کر فقیہ تھے۔

صفحہ 3 از 7