فصل: ....حدیث میں مہارت کی ضرورت - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

فصل: ....حدیث میں مہارت کی ضرورت

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 4 از 7

امام أحمد بن حنبل رحمہ اللہ فرماتے ہیں : ’’ حدیث کی معرفت اور اس کی سمجھ حاصل کرنا میرے نزدیک حدیث کوزبانی یاد کرنے سے زیادہ محبوب ہے۔

علی بن المدینی رحمہ اللہ فرماتے ہیں : ’’ متون الحدیث سے علم فقہ اور راویوں کے احوال کی معرفت حاصل کرنا تمام علوم سے بہتر علم ہے۔‘‘

اس میں کوئی شک نہیں کہ یحی بن معین اور علی المدینی اور ان کے امثال صحیح اور سقیم حدیث کی معرفت میں ابو عبید اور ابو ثور سے بڑے عالم ہیں ۔ جب کہ ابو عبید او رابو ثور علم فقہ میں ان سے بڑے عالم ہیں ۔ اور امام احمد بن حنبل ان دونوں قسم کے افراد کے ساتھ ان کے علوم میں شریک ہیں ۔ ان دونوں قسم کے علوم کے ائمہ امام احمد سے محبت کرتے تھے؛ اور امام صاحب ان سے محبت کرتے تھے۔ جیسا کہ امام شافعی اور ابو عبید رحمہما اللہ اور ان کے امثال اہل فقہ فی الحدیث کے ساتھ آپ کا عالم تھے؛ اور جیسا کہ یحی بن معین اور علی بن المدینی رحمہما اللہ اور ان کے امثال علوم حدیث کی معرفت رکھنے والوں کے ساتھ ان کا سلوک رہا ہے۔

مسلم بن حجاج رحمہ اللہ اپنی کتاب صحیح مسلم میں ابو داؤد رحمہ اللہ کی نسبت احادیث کی صحت کا زیادہ اہتمام کیا ہے۔ جب کہ ابوداؤد رحمہ اللہ نے اپنی کتاب ’’السنن ‘‘میں فقہ کا اہتمام زیادہ کیا ہے۔ جب کہ امام بخاری رحمہ اللہ نے ان دونوں چیزوں کا خیال رکھاہے۔

یہاں پر مقصود ان باتوں میں کلام کو وسعت دینا نہیں ۔ بلکہ مقصود یہ بیان کرنا ہے کہ علم حدیث رکھنے والے علماء کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے احوال کی معرفت دوسروں کی نسبت بہت زیادہ ہے۔ وہ اس میدان کے امام ہیں ۔ بیشتر اوقات ایسا ہوتا ہے کہ کوئی انسان سچا ہوتا ہے؛ اور اس کی روایات ِ حدیث بھی بہت زیادہ ہوتی ہیں ۔ لیکن اس کے ہاں صحیح اور سقیم کی معرفت کا اہتمام نہیں پایا جاتا۔ پس اس کی نقلِ روایت سے فائدہ حاصل کیا جاتا ہے؛ کیونکہ سچا اور بات کو یاد رکھنے والا ہے۔جب کہ صحیح اور سقیم کی معرفت ایک دوسرا علم ہے۔ اور بیشتر اوقات کوئی ایک اس کے ساتھ ہی فقہی اور مجتہد ہوتا ہے اور کوئی انسان نیک اور اچھے مسلمانوں میں سے ہوتا ہے لیکن اس کی معرفت اتنی زیادہ نہیں ہوتی۔

لیکن یہ لوگ اگرچہ علم میں ایک دوسرے پر فضیلت رکھتے ہیں ؛ اور ان میں جھوٹ کو ایسے پذیرائی نہیں ملتی جیسے ان لوگوں میں اسے پذیرائی مل جاتی ہے جنہیں علم نہ ہو۔ لیکن یہاں یہ بیان کرنا چاہتے ہیں کہ جس کسی کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے احوال کی معرفت جتنی زیادہ ہوگی ؛ اسے سچ اور جھوٹ کے مابین تمیز کرنے کی صلاحیت بھی اتنی ہی زیادہ حاصل ہوگی۔ کبھی اہل تفسیر ؛ اہل فقہ و زہد اور مناظرین کے مابین بہت سی احادیث مشہور ہوتی ہے؛ جن کو یا تو وہ خود سچ کہتے ہیں یا پھر ان کے سچا ہونے کو جائز سمجھتے ہیں ۔ جب کہ علم حدیث کے ماہرین علماء[محدثین] کے ہاں وہ روایت جھوٹ ہوتی ہے۔

بسا اوقات یہ حضرات ایسی حدیث کو صحیح کہتے ہیں جو محدثین[ماہرین حدیث] کے نزدیک جھوٹ ہوتی ہے۔ مثلاً وہ حدیث جسے فقہاء کرام کا گروہ نقل کرتا چلا آیا:

((لا تفعلِی یا حمیراء فإِنہ یورِث البرص۔))

’’اے حمیرا! ایسے نہ کرنا؛ بیشک اس سے برص پیدا ہوتا ہے ۔‘‘

اورحدیث: ((زکاۃ الأرضِ نبتہا۔))

’’زمین کی زکات اس کی نباتات [پیداوار ہیں ]۔‘‘

اورحدیث: (( نہِی عن بیع وشرط، ونہِی عن بیعِ المکاتبِ والمدبرِ وأمِ الولدِ۔))

’’آپ صلی اللہ علیہ وسلم خرید نے اور شرط لگانے سے منع کیا؛ اور منع فرمایا کہ مکاتب اور مدبر یا ام ولد کو بیچا جائے ۔

اورحدیث:((نہِی عن قفِیزِ الطحان))۔

’’چکی والے کی کمائی لینے سے منع فرمایا۔‘‘

اورحدیث: (( لا یجتمِع العشر والخراج علی مسلِم۔))

’’ ایک مسلمان پر خراج اور عشر جمع نہیں ہوسکتے۔

اورحدیث:(( ثلاث ہن علی فرِیضۃ، وہن لکم تطوع: الوِتر والنحر ورکعتا الفجرِ ۔))

’’تین چیزیں مجھ پر فرض ہیں اور تمہارے لیے نفل ہیں ؛ وتر کی نماز ؛ قربانی کرنا؛ فجر کی دو سنتیں ۔‘‘

اورحدیث: ((کان رسول اللہِ رضی اللہ عنہم فِی السفرِ یتِم ویقصر ۔))

’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سفر میں پوری نماز بھی پڑھتے تھے اور قصر بھی کرتے تھے۔‘‘

اورحدیث: (( لا تقطع الید ِإلا فِی عشرۃِ دراہِم ۔))

’’دس درہم سے کم میں ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔‘‘

اورحدیث: ((لا مہر دون عشرۃِ دراہِم۔))

’’دس درہم سے کم مہر نہیں ہوتا۔‘‘

اورحدیث: ((الفرق بین الطلاقِ والعِتاقِ فِی الِاستِثناِ....۔))

’’طلاق اور آزاد کرنے میں فرق استثناء کا ہے ۔‘‘

اورحدیث: (( أقل الحیضِ ثلاثۃ وأکثرہ عشرۃ۔))

’’حیض کی کم سے کم مدت تین دن او رزیادہ سے زیادہ دس دن ہے۔‘‘

اورحدیث: (( نہی عنِ البترائِ۔))

’’آپ نے دم کاٹنے سے منع فرمایا۔‘‘

اورحدیث: (( یغسل الثوب مِن المنِیِ والدمِ ۔))

’’ منی او رخون سے کپڑا دھو لیا جائے گا۔‘‘

اورحدیث: ((الوضوء مِما خرج لا مِما دخل ۔))

’’ وضوء اس چیز سے ہے جو خارج ہو ؛ نہ کہ اس پر جو داخل ہو۔‘‘

اورحدیث: ((کان یرفع یدیہِ فِی ابتِدائِ الصلاِۃ ثم لا یعود۔)) 

’’نماز کے شروع میں رفع الیدین کیا کرتے تھے؛ پھر نہیں کرتے تھے۔‘‘

اس طرح کی دیگر احادیث بھی ہیں جنہیں فقہاء کرام کے ایک گروہ نے صحیح کہا ہے ؛ اوروہ ان کی تصدیق کرتے ہیں اور ان پرحلال و حرام کی بنیاد قائم کرتے ہیں ۔ جب کہ حدیث کا علم رکھنے والے اس بات پر متفق ہیں کہ یہ روایات جھوٹ ہیں اور اپنی طرف سے گھڑ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کی گئی ہیں ۔ اور اہل فقہائے کرام رحمہم اللہ بھی یہ بات اچھی طرح سے جانتے ہیں ۔ اور یہی حال ان روایات کا بھی ہے جنہیں نساک و عبّاد روایت کرتے ہیں ؛ اور خیال کرتے ہیں کہ یہ احادیث سچی ہیں ۔ مثال کے طور پر یہ روایت :

((إِن عبد الرحمنِ بن عوف یدخل الجنۃ حبواً۔))

’’ بیشک عبد الرحمن بن عوف سرینوں کے بل چلتے ہوئے جنت میں داخل ہوں گے ۔‘‘

اس فرمان الٰہی کے بارے میں ان کا یہ کہنا کہ:

﴿وَ لَا تَطْرُدِ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ رَبَّہُمْ بِالْغَدٰوۃِ وَ الْعَشِیِّ یُرِیْدُوْنَ وَجْہَہٗ﴾[الانعام: 52]

’’اور ان لوگوں کو دور نہ ہٹا جو اپنے رب کو پہلے اور پچھلے پہر پکارتے ہیں ، اس کی رضا چاہتے ہیں ۔‘‘

صفحہ 4 از 7