فصل: ....حدیث میں مہارت کی ضرورت - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

فصل: ....حدیث میں مہارت کی ضرورت

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 5 از 7

اور اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان :

﴿وَاصْبِرْ نَفْسَکَ مَعَ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ رَبَّہُمْ بِالْغَدٰوۃِ وَ الْعَشِیِّ یُرِیْدُوْنَ وَجْہَہٗ ﴾[الکہفِ: 28]

’اور اپنے آپ کو ان کے ساتھ روکے رکھ جو اپنے رب کوصبح وشام پکارتے ہیں اس کی رضا چاہتے ہیں ۔‘‘

ان کا کہنا ہے کہ یہ آیات اہل صفہ کے بارے میں نازل ہوئی ہیں اور مثال کے طور پر حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کے غلام کے متعلق یہ روایت :

((غلام المغِیرۃِ بنِ شعبۃ أحد الأبدالِ الأربعِین۔))

’’ مغیرہ بن شعبہ کاغلام چالیس ابدالوں میں سے ایک ہے۔‘‘

یہی حال ان روایات کا بھی ہے جن میں ابدال ؛ اقطاب؛ غواث؛ اور اولیاء کی تعداد کا ذکر ہے۔ اور ان کے امثال دوسری روایات ؛ جن کے متعلق ماہرین علم حدیث جانتے ہیں کہ یہ روایات جھوٹ ہیں ۔

ان کی امثال دوسری روایات ؛ ان احادیث کے بارے دوسرے کئی طریقوں سے بھی معلوم ہوسکتا ہے کہ یہ جھوٹ ہیں ۔ مثلاً ہم جانتے ہیں کہ یہ آیت کریمہ :

﴿وَ لَا تَطْرُدِ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ رَبَّہُمْ بِالْغَدٰوۃِ وَ الْعَشِیِّ یُرِیْدُوْنَ وَجْہَہٗ﴾[الانعام: 52]

اور اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان :

﴿وَاصْبِرْ نَفْسَکَ مَعَ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ رَبَّہُمْ بِالْغَدٰوۃِ وَ الْعَشِیِّ یُرِیْدُوْنَ وَجْہَہٗ ﴾[الکہفِ: 28]

یہ آیات سورۃ انعام اور سورت کہف میں ہیں ۔ اور یہ دونوں سورتیں بالاتفاق مکی ہیں ۔ اور صفہ مدینہ میں تھا ۔اور ایسے ہی وہ حدیث معراج جس میں کہا گیا ہے کہ آپ نے معراج کی رات اپنے رب کو ایسی صورت میں دیکھا ۔ جب کہ معراج کی وہ احادیث جو صحاح کی کتابوں میں ہیں ؛ ان میں رؤیت نام کی کوئی چیز نہیں ؛ رویت کی احادیث مدینہ کی ہیں ۔جیسا کہ حضرت معاذبن جبل رضی اللہ عنہ کی روایت کردہ حدیث میں ہے:

((أتانِی البارِحۃ ربِی فِی أحسنِ صورۃ....إِلی آخِرِہِ۔))

’’میرے رب تعالیٰ رات میرے پاس خوبصورت شکل میں آئے ....‘‘

یہ خواب آپ نے مدینہ طیبہ میں دیکھا تھا۔ اور یہی حال اس کے متشابہ دوسرے خوابوں کا ہے؛ وہ تمام کے تمام آپ نے مدینہ طیبہ میں دیکھے تھے۔ جبکہ واقعہ معراج مکہ مکرمہ میں پیش آیا تھا؛ اس پر نصوص قرآن کی روشنی میں تمام مسلمانوں کا اتفاق ہے۔

بسا اوقات کوئی حدیث کسی گروہ کے ہاں رواج پاتی ہے؛ جس کا جھوٹ ہونا انتہائی ظاہر ہوتا ہے۔ مثلاً یہ روایت کہ: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم وجد میں آگئے حتی کہ بردہ آپ سے گرگیا۔‘‘ اس روایت کے من گھڑت جھوٹ ہونے پر تمام اہل معرفت کا اتفاق ہے۔ جبکہ ایک گروہ اسے سچ سمجھتا ہے۔ یہ روایت محمد بن طاہر المقدسی نے نقل کی ہے۔وہ مسئلہ سماع میں اس روایت کو لیکر آیا ہے۔ اور ابو حفص سہروردی نے بھی اسے روایت کیا ہے؛ لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہا ہے کہ: ’’میری ذہن میں یہ بات آتی ہے کہ یہ حدیث نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اپنے صحابہ کے ساتھ اجتماع کے بارے میں نہیں ہے۔‘‘

یہ بات جو اس کے ذہن میں آئی ہے۔ دوسرے علماء کے ہاں یہ بات یقینی ہے ؛جو کہ اس کی دل میں آئی ہے۔ اور حدیث کا علم رکھنے والے ماہر اس بات پر متفق ہیں کہ یہ روایت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی جھوٹ گھڑ کر منسوب کی گئی ہے۔

اس سے بھی بڑھ کر [جھوٹ]ان لوگوں کا گمان ہے جو کہتے ہیں کہ : اہل صفہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے جنگ کی تھی۔ اور یہ کہ اولیاء کے لیے انبیائے کرام علیہم السلام کے ساتھ جنگ کرنا جائز ہے۔ جب کہ غدر ان کی طرف سے ہو۔ یہ روایت بہت بڑا کفر اور جھوٹ ہونے کے باوجود اس گروہ کے ہاں مروج ہے جو اپنے آپ کو احوال و معارف اور حقائق کی طرف منسوب کرتے ہیں ۔ درحقیقت ان لوگوں کے کچھ شیطانی احوال ہوتے ہیں ۔ اور جو شیاطین ان سے ملتے رہتے ہیں ؛ وہ انہیں بعض غیبی امور کے متعلق خبر دیتے ہیں ؛ اوران کے بعض کام کردیتے ہیں ۔ اورکچھ ضرورتیں پوری کردیتے ہیں ۔ اس کی وجہ سے بہت سارے لوگ یہ گمان کرنے لگتے ہیں کہ یہ بہت بڑے اولیاء اللہ ہیں ۔ جب کہ وہ اولیاء شیطان ہوتے ہیں ۔

ایسے ہی کچھ احادیث ان لوگوں کے ہاں مروج اور مشہور ہیں جو اپنے آپ کو اہل سنت و الجماعت کی طرف منسوب کرتے ہیں ؛ اوروہ ان احادیث کو سنت خیال کرتے ہیں ؛ جبکہ وہ جھوٹ ہوتی ہیں ۔ جیسا کہ روزہ کے علاوہ فضائل عاشوراء محرم ؛اس دن سرمہ لگانے اور غسل کرنے ؛مہندی اورخضاب لگانے کی فضیلت ؛اور مصافحہ کے فضائل ؛اور اس دن میں جو اہل و عیال کے اخراجات میں وسعت دینے کی روایت ہے۔[یہ تمام روایات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ ہیں ]۔ عاشوراء کے دن روزہ کے علاوہ اس دن کی فضیلت کے بارے میں کوئی بھی صحیح روایت موجود نہیں ۔

ایسے ہی جو کچھ بعض متعین نمازوں کے بارے میں روایت کیا جاتا ہے؛ یہ تمام روایات باتفاق اہل علم من گھڑت اور جھوٹ ہیں ۔اور ائمہ حدیث میں سے کسی ایک نے بھی ان روایات کو اپنی کتابوں میں جگہ نہیں دی۔

ایسے ہی جب امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ سے اس روایت کے متعلق پوچھا کہ:’’جو کوئی عاشوراء کے دن اپنے اہل خانہ کے کھانے میں وسعت کرتا ہے ‘ اللہ تعالیٰ سارے سال کے لیے اس کے رزق میں وسعت پیدا کردیتے ہیں ۔تو آپ نے فرمایا : اس روایت کی کوئی اصل [بنیاد] ہی نہیں ہے۔‘‘

جیساکہ رجب کے روزوں کے بارے میں جو احادیث بیان کی جاتی ہیں اہل علم کے ہاں وہ تمام ضعیف ہی نہیں بلکہ جھوٹی ہیں ۔

ایسے ہی وہ روایات جو بطور خاص رجب کی فضیلت کے بارے میں نقل کی گئی ہیں ؛ یا پھر اس کے روزوں کے بارے میں ؛ یا رجب کے کسی ایک روزہ کے بارے میں ؛ یا مخصوص نماز کے بارے میں ؛جیسے [صلاۃ رغائب جو] رجب کے پہلے جمعہ کی رات کو پڑھی جاتی ہے؛ او رنصف شعبان کا الفیہ ؛ اور فضائل عاشوراء محرم کے بارے میں جو اہل و عیال کے اخراجات میں وسعت دینے کی روایت ہے؛ اور مصافحہ کے فضائل ؛ اورمہندی اورخضاب کے فضائل؛غسل وغیرہ کے فضائل ؛ عاشوراء کے دن کی نماز ۔ یہ تمام روایات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پرمن گھڑت جھوٹ ہیں ۔

صفحہ 5 از 7