فصل: ....حدیث میں مہارت کی ضرورت - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

فصل: ....حدیث میں مہارت کی ضرورت

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 7 از 7

لوگوں کے احوال اسی طریقہ سے معلوم ہوتے ہیں ۔ پس اگر کوئی انسان کسی دوسرے شہر سے آتا ہے اور وہ وہاں پر پیش آنے والے کچھ واقعات کے بارے میں تفصیلی خبردیتا ہے۔جس میں مختلف قسم کے اقوال و افعال کو انتہائی منتظم انداز میں بیان کرتا ہے۔ پھرایک دوسرا آدمی آتا ہے جس کے بارے میں ہم جانتے ہیں کہ ان دونوں کا جھوٹ پر اتفاق نہیں ہے؛ اور پھر وہ بھی پہلے آدمی کی طرح خبر دیتا ہے۔ تو اس سے قطعی طور پر یقینی علم حاصل ہوجاتا ہے کہ واقعہ بالکل ایسے ہی پیش آیا ہے۔ اس لیے کہ ایسے واقعات میں کبھی کبھار جھوٹ بھی سامنے اس وقت آتا ہے جب دونوں کا جھوٹ پر اتفاق ہوا ہو؛ اور وہ انہوں نے یہ معلومات ایک دوسرے سے حاصل کی ہوں ۔جس طرح کہ اہل باطل ؛ باطل عقائد ایک دوسرے سے وراثت میں نقل کرتے چلے جاتے ہیں ؛ جیسے نصاری ؛ جہمیہ اور رافضہ؛ اور ان کی مانند کے دوسرے لوگ۔ اس میں کوئی شک نہیں اگرچہ ان کا باطل ہونا عقلی ضرورت کے تحت معلوم ہوتا ہے لیکن پھر بھی یہ ایک دوسرے سے ایسے ہی نقل کرتے چلے جاتے ہیں ۔ جب اس پر ان کی آپس میں ایک دوسرے سے موافقت ہے تو ان کا باطل پر اجماع بھی جائز ٹھہرا۔

بہت ساری جماعتیں ایسی ہیں جن کا علی سبیل التواطؤ [بطور اتفاق ] ضروریات کے انکار پر اتفاق جائز ہے؛ خواہ ایسا عمداً جھوٹ بولنے کی وجہ سے ہو یا پھر عقیدہ میں خطا کی وجہ سے ہو۔ جب کہ اس سے کم دوسری ضروریات کے انکار پر ان کا اتفاق ممتنع ہے۔ 


صفحہ 7 از 7