مجاعہ کا فریب اور حضرت خالد رضی اللہ عنہ کی اس کی بیٹی سے شادی ان کے اور سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے مابین خط کتابت
علی محمد الصلابیمجاعہ کا فریب
حدیقۃ الموت (موت کا باغ) میں مسلمانوں کے انتصار و فتح کے بعد حضرت خالد رضی اللہ عنہ نے شہسواروں کو یمامہ کے اطراف میں روانہ کیا تاکہ اس کے قلعوں کے اطراف میں جو مال اور قیدی ملیں لے آئیں۔ پھر آپؓ نے قلعوں پر حملہ آور ہونے کا عزم کیا۔ ان قلعوں میں صرف خواتین، بچے اور بوڑھے تھے۔ لیکن مجاعہ نے آپؓ کو فریب دیا اور کہا کہ ان قلعوں میں مقاتلین بھرے ہیں۔ آپؓ مجھ سے اس سلسلہ میں مصالحت کر لیجیے۔ چونکہ مسلمان مسلسل جنگ و قتال سے تھک چکے تھے اس لیے سیدنا خالد رضی اللہ عنہ اس سے مصالحت پر تیار ہو گئے۔ اس نے کہا: مجھے ذرا موقع دیجئے میں ان لوگوں سے مل کر صلح کی موافقت لے لوں۔ آپؓ نے اس کو موقع دیا اور اس نے جا کر عورتوں سے کہا کہ وہ جنگی لباس پہن کر قلعوں کے اوپر کھڑی ہو جائیں۔ حضرت خالدؓ نے نظر دوڑائی، دیکھا کہ قلعوں کے برج سروں سے بھرے ہیں، جس سے مجاعہ کی بات کا یقین ہو گیا اور صلح کر لی پھر انہیں اسلام کی دعوت پیش کی، وہ سب کے سب مسلمان ہو گئے اور حق کی طرف لوٹ آئے۔ سيدنا خالد رضی اللہ عنہ نے ان کے بعض قیدیوں کو واپس کر دیا اور باقی کو حضرت ابوبکرؓ کی خدمت میں پیش کر دیا۔ ان میں سے ایک لونڈی کو سيدنا علی رضی اللہ عنہ نے خرید لیا اور اسی کے بطن سے حضرت محمد بن حنفیہ رحمہ اللہ پیدا ہوئے۔
(ترتیب و تہذیب البدایۃ والنہایۃ: خلافۃ ابی بکر صفحہ 115)
معرکہ یمامہ 11 ہجری میں پیش آیا۔ واقدی اور دیگر لوگوں کا کہنا ہے کہ 12 ہجری میں پیش آیا۔ دونوں میں جمع و تطبیق کی شکل یہ ہے کہ اس معرکہ کا آغاز 11 ہجری میں ہوا اور اختتام 12 ہجری میں عمل میں آیا۔
(ترتیب و تہذیب البدایۃ والنہایۃ: خلافۃ ابی بکر 115)