شیعہ حضرات حضرت امیر معاویہ (رضی اللہ عنہ) پر یہ طعن کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے امیر معاویہ (رضی اللہ عنہ) کو تحریر لکھنے کے لیے طلب فرمایا اور امیر معاویہ (رضی اللہ عنہ) نے بہانہ بنا کر اس کو ٹالا تھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بد دعا دی کہ اللہ تیرے شکم کو کبھی سیر نہ کرے۔
مولانا ابوالحسن ہزارویشیعہ حضرات حضرت امیر معاویہ (رضی اللہ عنہ) پر یہ طعن کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے امیر معاویہ (رضی اللہ عنہ) کو تحریر لکھنے کے لیے طلب فرمایا اور امیر معاویہ (رضی اللہ عنہ) نے بہانہ بنا کر اس کو ٹالا تھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بد دعا دی کہ اللہ تیرے شکم کو کبھی سیر نہ کرے۔
جواب اہلسنّت
اس واقعہ سے شیعہ نے یہ بات تو تسلیم کر لی کہ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے معتمد علیہ مُنشی تھے مسند امام احمد میں حضرت عباس رضی اللہ عنہ سے یہ واقعہ درج ہے لیکن یہاں پر اب اس کے بار بار جانے، امیر معاویہ (رضی اللہ عنہ) کے فرمان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ٹالنے، اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی بددعا لایشبع اللہ بطنہ کا کوئی ذکر نہیں ہے۔
وہاں پر صرف اتنا ذکر ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر جو ابن عباس رضی اللہ عنہ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو بلانے کے لیے گئے امیر معاویہ رضی اللہ عنہ حاضر خدمت ہوئے اور تحریر لکھنے کے خدمت انجام دی شیعوں نے اپنی طرف سے قابل اعتراض الفاظ کا اضافہ کیا ہے اصل واقعہ میں طعن وتشنیع کی کوئی بات نہیں ہے اسی طرح یہ روایت بھی شیعہ خرافات میں سے ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایک شخص اس راستے سے نمودار ہوگا اور اس کا انجام میری ملت اور دین پر نہیں ہوگا پھر اچانک امیر معاویہ رضی اللہ عنہ اس راستے سے ظاہر ہوئے۔
یہ واقعہ اہل سنت کی کسی کتاب میں نہیں ہیں اور شیعہ کی اس طرح کی بے سروپا روایت ہمارے لئے کوئی حجت نہیں ہے اس کا ایک یہ قرینہ موجود ہے کہ امام بخاری نے اپنی مشہور کتاب تاریخ کبیر جلد 4 میں تحریر کیا ہے کہ ایک دفعہ امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سوار تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہارے جسم کا کونسا حصہ میرے جسم کے ساتھ لمس کر رہا ہے (معاویہ رضی اللہ عنہ) نے جواب دیا میرا پیٹ آپ نے دعا دیتے ہوئے فرمایا اللہ اس علم و حلم سے بھر دے اس سے معلوم ہوا کہ بددعا کے الفاظ راویوں کے اپنے ہیں امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے خود دعائیں دی ہیں۔
اسی موضوع پر ایک اور جواب بھی پڑھیں۔
کیا حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کو حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے بد دعا دی۔؟