Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

بنو حنیفہ کا وفد سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے پاس

  علی محمد الصلابی

جب بنو حنیفہ کا وفد سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچا، آپؓ نے ان سے فرمایا: مسیلمہ کے قرآن میں سے کچھ مجھے سناؤ۔ انہوں نے عرض کیا: اے خلیفہ رسول! آپؓ ہمیں اس سلسلہ میں معاف کریں۔ آپؓ نے فرمایا: نہیں ضروری ہے۔ اس پر انہوں نے بتلایا کہ وہ کہتا تھا:

یا ضفدع بنت الضِّفدعین، نقی ما تنقِّین، لا الماء تکدِّرین، ولا الشارب تمنعین، راسک فی الماء وذنبک فی الطِّین۔

ترجمہ: اے مینڈکوں کی بیٹی! ٹرٹر کرتی رہ، نہ تو پانی گدلا کرتی ہے اور نہ پینے والے کو روکتی ہے، تیرا سر پانی میں اور دم مٹی میں ہے۔

اور کہتا تھا:

والمبذرات زرعا، والحاصدات حصداء، والذاریات قمحا، والطاحنات طحنا، والخابزات خبزا، والثاردات ثردا، واللاقمات لقما، إہالۃً وسمنا۔ لقد فضلتم علی اہل الوبر، وما سبقکم اہل المدر، ریفکم فامنعوہ، والمعترَّ فآووہ، والناعی فواسوہ۔

ترجمہ: قسم ہے کھیتی بونے والوں کی، فصل کاٹنے والوں کی، گندم کو پھیلانے والوں کی، آٹا تیار کرنے والوں کی، روٹی پکانے والوں کی، ثرید تیار کرنے والوں کی، لقمہ بنانے والوں کی، چربی اور گھی سے، تم بادیہ نشینوں پر سبقت لے گئے اور شہر والے تم سے آگے نہ بڑھے، اپنے دیہات کی حفاظت کرو اور محتاج کو پناہ دو، جو موت کی خبر دے اس کے ساتھ مواسات کرو۔

(تاریخ طبری میں یہاں ہے: والباغی فناوء وہ باغی کو بھگاؤ تاریخ الطبری: جلد 4 صفحہ 102، 103)

اور انہوں نے اس طرح کی دیگر خرافات کا ذکر کیا جن سے کھیلنے والے بچے بھی گریز کرتے ہیں۔ ان سے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: برباد ہو، اس وقت تمہاری عقلیں کہاں تھیں؟ اس طرح کا کلام نہ تو معبود سے صادر ہو سکتا ہے اور نہ نیک شخص سے۔

(تاریخ الطبری: جلد 4 صفحہ 118 البدایۃ والنہایۃ: جلد 6 صفحہ 231)

علمائے تاریخ نے بیان کیا ہے کہ مسیلمہ کذاب نبی کریمﷺ کی مشابہت اختیار کرتا تھا۔ اس کو یہ خبر ملی کہ رسول اللہﷺ نے ایک کنویں میں تھوکا تو وہ پانی سے بھر گیا، اس نے بھی ایک کنویں میں تھوک مارا جس سے اس کا پانی کلی طور پر خشک ہو گیا۔ اور دوسری روایت میں ہے کہ اس کا پانی نمکین ہو گیا۔ اس نے وضو کیا اور اپنے وضو کے پانی سے ایک کھجور کے درخت کو سیراب کیا تو وہ خشک ہو کر ختم ہو گیا۔ اس کے پاس کچھ بچے لائے گئے تا کہ ان کے لیے برکت کی دعا کرے، وہ ان کے سروں پر ہاتھ پھیرنے لگا تو بعض کا سر گنجا ہو گیا اور بعض کی زبان میں ہکلا پن آ گیا۔ ایک شخص کی آنکھ میں تکلیف تھی اس نے دعا کر کے اس پر ہاتھ پھیرا تو وہ اندھا ہو گیا۔

(البدایۃ والنہایۃ: جلد 6 صفحہ 331)