فصل :....جن کو اخبار کی معرفت نہ ہو؛ ان کے لیے ممکنہ طریقہ…

فصل :....جن کو اخبار کی معرفت نہ ہو؛ ان کے لیے ممکنہ طریقہ

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 1 از 12

فصل :....جن کو اخبار کی معرفت نہ ہو؛ ان کے لیے ممکنہ طریقہ

جن کو اخبار کی معرفت نہ ہو؛ ان کی معرفت حاصل کرنے کے لیے دیگر بھی کئی ممکنہ طریقے ہیں ۔ کیونکہ بلاشک و شبہ عوام توکجا خواص بھی ایسے ہیں جن پر اسنادی اعتبار سے سچ اور جھوٹ میں تمیز کرنا بہت مشکل ہوجاتا ہے۔ کیونکہ اس باب میں اخباراور روایات بہت زیادہ ہیں ۔بیشک ان کی معرفت علمائے حدیث کو حاصل ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سارے اہل کلام اور مناظرین ان اخبار کی اسناد اور ان کے راویوں کے احوال کی معرفت سے محروم رہے ہیں ۔ کیونکہ وہ اس علم کے نہ ہونے کی وجہ سے عاجز آگئے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ ایک دوسرے راہ پر چل پڑے۔لیکن یہ طریقہ ان اہل علم کا طریقہ ہے جو حدیث کے ماہرین ہیں ۔ جنہیں ان علوم کا علم ہے جو علوم دیکر اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تمام جہانوں کی طرف مبعوث فرمایا تھا۔ لیکن یہاں پر ہم ایک دوسرا طریقہ ذکر کرتے ہیں ۔ ہم کہتے ہیں : کچھ دیر کے لیے فرض کریں کوئی متنازعہ روایات نہیں پائی جاتیں ۔ یا اس بات کا پتہ نہ چلتا ہو کہ ان میں سے کون سی روایت صحیح ہے۔ تو ہم ان دونوں روایتوں سے استدلال ترک کردیتے ہیں ۔ اور اس روایت کی طرف رجوع کرتے ہیں جو کہ اس کے علاوہ تواتر کے ساتھ معلوم ہو۔ اور اس کی صحت کا علم عقل اور عادت اور نصوص صحیحہ کی دلالت کی روشنی میں ہوتا ہو۔

پس ہم کہتے ہیں کہ : خواص و عوام کو یہ بات تواتر کے ساتھ معلوم ہے؛ اور منقولات کا علم رکھنے والے علماء اورسیرت نگاروں کا اس میں کوئی اختلاف نہیں کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس اتنا مال نہیں تھا کہ لوگوں کودیکر ان کے دل موہ لیتے؛ نہ ہی آپ کا قبیلہ بہت بڑا تھا اورنہ ہی آپ کے موالین تھے جو آپ کی مدد کرتے۔ اور اس خلافت کو قائم کرنے میں آپ کی مدد کرتے۔اورنہ ہی آپ نے لوگوں کو اپنی بیعت کرنے کو کہا ؛ نہ ہی کسی کو ڈرایا دھمکایا اورنہ ہی کوئی لالچ دی۔جیسا کہ بادشاہوں کی عادت ہوتی ہے کہ ان کے قریبی اور موالی ان کی مدد کرتے ہیں ۔ اور نہ ہی آپ نے اپنی زبان سے منصب خلافت طلب کیا۔ اور نہ ہی کسی سے کہا کہ میری بیعت کرو۔ بلکہ آپ نے تو یہ کہا تھا کہ : ابو عبیدہ اور عمر رضی اللہ عنہما میں سے کسی ایک کی بیعت کرلو ۔ اور جو کوئی آپ کی بیعت سے پیچھے رہا ؛ جیسے حضرت سعد بن عبادہ وغیرہ؛ تو ان کو بھی آپ نے کوئی تکلیف نہیں دی۔ اور نہ ہی آپ کو بیعت کرنے پر مجبور کیا؛ اور نہ ہی آپ سے آپ کا کوئی حق روکا۔ اور نہ ہی کسی ساکن کو حرکت دی۔ یہ لوگوں کو اپنی بیعت پر مجبور نہ کرنے میں آپ کی کشادہ دلی کی انتہا ہے ۔ پھر اس میں کوئی شک نہیں کہ مسلمانوں نے آپ کی بیعت کی او رآپ کی اطاعت گزاری میں داخل ہوگئے۔ اور آپ کی بیعت کرنے والے وہی لوگ تھے جنہوں نے ببول کے درخت کے نیچے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت کی تھی۔یہ حضرات مہاجرین و انصار میں سے سابقین اولین تھے۔ اور پھر جو کوئی ان کے بعد اور انہوں نے احسان کے ساتھ ان کی اتباع کی؛ یہی وہ اہل ایمان تھے جن کے نصیب میں ہجرت او رجہاد جیسی سعادتیں تھیں ۔ آپ کی بیعت سے حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کے علاوہ کوئی ایک بھی پیچھے نہیں رہا۔

جہاں تک حضرت علی رضی اللہ عنہ اور دوسرے بنو ہاشم کا تعلق ہے تو ان کے بارے میں لوگوں میں کوئی اختلاف نہیں ہے کہ انہوں نے آپ کی بیعت کرلی تھی۔ ان میں سے صرف وہی لوگ پیچھے رہ گئے تھے جو خود خلافت حاصل کرنا چاہتے تھے رضی اللہ عنہم ۔ پھر آپ اپنی مدت خلافت میں ان لوگوں کو ساتھ لیکر مرتدین اورمشرکین سے جہاد کرتے رہے۔ آپ نے مسلمانوں سے کوئی جنگ نہیں لڑی۔ بلکہ آپ نے معاملات کو ویسے ہی درست راہ پر قائم کیاجس پر ارتداد سے پہلے تھے۔ اور اب اسلام کی فتوحات میں اضافہ ہونے لگا۔اور آپ کے عہد مبارک میں ہی اہل فارس اور اہل روم سے جہاد شروع ہوگیا تھا۔ اور کئی مسلمانوں کا محاصرہ دمشق کے دوران انتقال ہوگیا تھا۔ اور آپ اس دنیا سے ایسے تشریف لے گئے کہ آپ ایک زاہد ترین انسان تھے۔ آپ نے جو کچھ بیت المال میں داخل کیا اس سے بالکل بے نیاز و بے پرواہ تھے۔ اور نہ ہی کوئی چیز اپنے لیے خاص کی اور نہ ہی کسی قریبی کو کوئی امارت یا منصب دیا۔

پھر ان کے بعد حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ خلیفہ بنے۔ آپ نے شہروں کے شہر فتح کیے۔ کفار کو مغلوب کیا۔ اہل ایمان کو عزت ملی اور اہل نفاق و عدوان ذلت سے دوچار ہوئے۔ اوردین اسلام کی خوب نشرو اشاعت اور تبلیغ ہوئی۔ اور آپ نے اپنی خلافت کے کونے کونے میں عدل و انصاف کو پھیلادیا۔ خراج کے دیوان مقرر کیے۔اہل دین کے لیے عطاء کے دیوان مقرر کیے۔ اور مسلمانوں کے نئے شہر بسائے۔اور آپ اس دنیا سے اس طرح تشریف لے گئے کہ آپ اس دنیا سے بالکل بے رغبت اور زاہد تھے۔ نہ ہی کسی مال میں متلوث ہوئے؛ اور نہ ہی اپنے کسی قریبی کو کسی عہدے پرفائز کیا۔ یہ بات ہر ایک جانتا ہے۔

جہاں تک حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا تعلق ہے تو آپ نے اپنی خلافت کی بنیاد اسی معاملہ پر رکھی جس پر لوگوں کو اس سے پہلے استقرار حاصل ہوچکا تھا۔ سکون و وقار؛ہدایت و رحمت اور کرم گستری۔ لیکن آپ میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ جیسی قوت اور سیاست نہ تھی۔ اور نہ ہی ان جیسا کمال زہد و عدل آپ کو حاصل تھا۔ اسی وجہ سے بعض لالچی لوگ آپ میں طمع کرنے لگے اور انہوں نے دنیا کو وسعت دی۔اور اپنے اقارب کو ولایات اور اموال میں داخل کیا۔ اور آپ کے اقارب کی وجہ سے ولایات اور اموال میں کچھ ایسی باتیں پیش آئیں جن کا انکار کیا جانے لگا۔ پس لوگوں کی دنیا میں رغبت ؛اور اللہ تعالیٰ کے خوف میں کمی؛اور پھر آپ کے خوف کی کمی کی وجہ سے بعض ایسے معاملات احوال بھی پیدا ہوگئے ؛ اور آپ کے اپنے اہل قرابت کو اموال اور ولایات پر فائز کرنے کی وجہ سے ایک فتنہ پیدا ہوا؛ اورآخر کار آپ مظلومیت کی حالت میں شہید ہوگئے۔

صفحہ 1 از 12