فصل :....جن کو اخبار کی معرفت نہ ہو؛ ان کے لیے ممکنہ طریقہ…

فصل :....جن کو اخبار کی معرفت نہ ہو؛ ان کے لیے ممکنہ طریقہ

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 11 از 12

آپ کے شرف و فضل کی وجہ وہ واقعات اور حوادث نہیں تھے جو آپ کے عہد خلافت میں پیش آئے۔ بخلاف حضرت ابوبکر اور حضرت عمراور حضرت عثمان رضی اللہ عنہم کے۔ اس میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ ان کی فضیلت سابقہ خصائل حمیدہ اور فضائل عدیدہ کے ساتھ ساتھ وہ اعمال بھی تھے جو ان حضرات کے عہد میں پیش آئے جیسے جہاد فی سبیل اللہ؛ اور قیصر و کسری کے خزانوں کا اللہ کی راہ میں خرچ کرنا۔ اور ان کے علاوہ دیگر لائق صد شکر و تحسین واقعات اور نیکیوں کے کام ۔اور حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما سیرت و کردار اور اپنے باطن کے لحاظ سے حضرت عثمان اور حضرت علی رضی اللہ عنہما کی نسب بہت زیادہ افضل و اشرف تھے۔ یہ وجہ ہے کہ یہ حضرات ملامت سے بہت زیادہ دور تھے۔ اورعموم ثنا کے زیادہ مستحق تھے۔ حتی کہ ان کے دور میں کوئی فتنہ پیش نہیں آیا۔ ان حضرات کے زمانہ میں خوارج کی نہ ہی کوئی بات تھی۔ اور نہ ہی انہیں طاقت یا غلبہ حاصل تھا۔ بلکہ تمام مسلمانوں کی تلواریں کفار کے خلاف آویزاں تھیں ۔ اور اہل ایمان آگے بڑھ رہے تھے جب کہ اہل کفر پیٹھ پھیر کر بھاگ رہے تھے۔

پھر یہ کہ روافض میں سے اکثر لوگ جہالت اور گمراہ کا شکار ہیں ۔ وہ [ان خلفا کے متعلق]کہتے ہیں : بیشک یہ خلفا اور ان کے ماننے والے کفار اور مرتدین تھے۔ اور یہ کہ یہود و نصاری ان سے زیادہ بہتر تھے۔ اس لیے کہ اصل کافر مرتد کی نسبت زیادہ بہتر ہوتا ہے۔ اور میں نے یہ بات ان کی کئی ایک کتابوں میں دیکھ ہے ۔ اوریہ قول اللہ کے نیک بندوں اور اللہ تعالیٰ کی کامیاب جماعت اور اس کے غالب لشکر پر بہت بڑا بہتان ہے۔

اس کے فساد کے دلائل میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اس سے کہا جائے گا کہ : یہ بات اضطراری طور پراور متواتر اخبار کی روشنی میں معلوم ہے کہ بلاشک وشبہ مہاجرین نے مکہ مکرمہ سے مدینہ طیبہ کی طرف ہجرت کی۔ اور جس گروہ نے ہجرت کی ان میں سے حضرت عثمان ؛ جعفر بن ابی طالب نے دو ہجرتیں کیں ایک حبشہ کی طرف اور دوسری مدینہ کی طرف۔ اس وقت مسلمان بہت تھوڑے تھے اور کفار کا رئے زمین پر غلبہ تھا۔ وہ ان مسلمانوں کو مکہ میں اذیت سے دوچار کرتے تھے۔ اور مسلمان اپنے قریبی مشرک رشتہ داروں اور دوسرے لوگوں سے اتنی تکالیف اٹھاتے جس کی حقیقت کو اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے۔ وہ ان تمام تر مصائب اور اذیتوں پر صبر کے پیکر رہے۔ اور تکالیف کا یہ کڑوا گھونٹ پیتے رہے۔حتی کہ اس راستے میں انہوں نے اپنے گھر بار دوست و احباب ہر چیز کو اللہ اور اس کے رسول کی محبت میں جہاد فی سبیل اللہ میں چھوڑ دیا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کا وصف بیان کیا ہے کہ:

﴿لِلْفُقَرَائِ الْمُہَاجِرِیْنَ الَّذِیْنَ اُخْرِجُوْا مِنْ دِیارِہِمْ وَاَمْوَالِہِمْ یَبْتَغُونَ فَضْلًا مِنَ اللّٰہِ وَرِضْوَانًا وَّیَنْصُرُوْنَ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ اُوْلٰٓئِکَ ہُمُ الصَّادِقُوْنَ ﴾ (الحشر:۸)

’’(یہ مال) ان محتاج گھر بار چھوڑنے والوں کے لیے ہے جو اپنے گھروں اور اپنے مالوں سے نکال باہر کیے گئے۔ وہ اللہ کی طرف سے کچھ فضل اور رضا تلاش کرتے ہیں اور اللہ اور اس کے رسول کی مدد کرتے ہیں ، یہی لوگ ہیں جو سچے ہیں ۔‘‘

یہ سب کچھ ان کے اپنے اختیار اور رضامندی سے تھا۔اس پر انہیں کسی نے مجبورا نہیں کیا۔ اور نہ ہی کسی نے اس مقصد کے لیے ان پر کوئی سختی کی۔ بس اس وقت اسلام کمزور تھا ان کے پاس کوئی قوت نہیں تھی کہ کسی کو اسلام قبول کرنے پر مجبور کرتے۔اس وقت میں نبی کریم اور آپ کے اتباع کار اللہ کے حکم سے قتال سے روک دیے گئے تھے۔ اور انہیں حکم تھا کہ عفو و درگزر اور صبر سے کام لیں ۔ اس دور میں جن لوگوں نے اسلام قبول کیا انہوں نے اپنے اختیار سے قبول کیا اور جنہوں نے ہجرت کی انہوں نے اپنے اختیار سے ہجرت کی۔

یہی وجہ ہے کہ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ اور دوسرے علمائے کرام فرماتے ہیں : مہاجرین میں کوئی ایک بھی منافق نہیں تھا۔ نفاق انصار کے بعض قبائل میں تھا۔ ایسا اس وقت ہوا جب مدینہ طیبہ میں اسلام کو غلبہ نصیب ہوا۔ تو مدینہ کے گردونواح کے کچھ لوگ تقیہ کرتے ہوئے خوف کے مارے اسلام کا اظہار کرنے لگے یہ لوگ منافق تھے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿وَ مِمَّنْ حَوْلَکُمْ مِّنَ الْاَعْرَابِ مُنٰفِقُوْنَ وَ مِنْ اَہْلِ الْمَدِیْنَۃِ مَرَدُوْا عَلَی النِّفَاقِ لَا تَعْلَمُہُمْ نَحْنُ نَعْلَمُہُمْ سَنُعَذِّبُہُمْ مَّرَّتَیْنِ﴾[توبِۃ: 101] 

’’ اور ان لوگوں میں سے جو تمھارے ارد گرد بدویوں میں سے ہیں ، کچھ منافق ہیں اور کچھ اہل مدینہ میں سے بھی جو نفاق پر اڑ گئے ہیں ، تو انھیں نہیں جانتا، ہم ہی انھیں جانتے ہیں ۔ عنقریب ہم انھیں دوبار عذاب دیں گے۔‘‘

یہی وجہ ہے کہ نفاق کا ذکر صرف مدنی سورتوں میں آیا ہے۔ جب کہ مکی سورتوں میں منافقین کا کوئی ذکر نہیں پایا جاتا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ مکہ مکرمہ میں جو لوگ ہجرت سے پہلے مسلمان ہوئے تھے ان میں سے کوئی ایک بھی منافق نہیں تھا۔ اور نہ ہی مہاجرین میں کوئی ایک منافق تھا۔ بلکہ سارے کے سارے اللہ اور اس کے رسول پر سچا اور خالص ایمان رکھنے والے اور اللہ اور اس کے رسول سے سچی محبت کرنے والے تھے۔ اور اللہ اور اس کا رسول ان کے نزدیک اپنی جان و مال اور اپنے اہل و عیال ہر چیز سے بڑھ کر محبوب تھے۔

صفحہ 11 از 12