فصل :....جن کو اخبار کی معرفت نہ ہو؛ ان کے لیے ممکنہ طریقہ…

فصل :....جن کو اخبار کی معرفت نہ ہو؛ ان کے لیے ممکنہ طریقہ

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 12 از 12

اگر ایسا ہوتا تو ان میں سے اکثر پر یا کسی ایک پر یا بعض لوگوں پر یہ تہمت ضرور لگتی اوراس کے بارے میں علم بھی ہوجاتا۔ جیسا کہ رافضہ میں سے ایسی باتیں کہنے والے کہتے ہیں ۔ حالانکہ یہ اتنا بڑا بہتان ہے جو کہ در حقیقت خود رافضہ اور ان کے بھائیوں یہود کی صفت ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ رافضہ اور ان کے بھائیوں یہود میں نفاق بہت زیادہ اور ظاہر و غالب ہے۔اور کوئی دوسرا فرقہ ایسا نہیں جس میں اتنا زیادہ اور کھلم کھلا غالب نفاق پایا جاتا ہو۔ حتی کہ ان میں نصیریہ اسماعیلیہ اور ان کے امثال و ہمنوا وہ فرقے پائے جاتے ہیں جو تمام گروہوں سے بڑے منافق و زندیق اور اللہ اور اس کے رسول سے دشمنی رکھنے والے ہیں ۔ یہی حال ان کے صحابہ کرام کے متعلق مرتد ہونے کے دعوی کا ہے۔ یہ سب سے بڑا جھوٹ اور بہتان ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ مرتد یا تو شبہ کی وجہ سے مرتد ہوتا ہے یا پھر شہوت کی وجہ سے ۔ اور یہ بات سبھی جانتے ہیں کہ شبہات اور شہوات شروع اسلام میں زیادہ اور طاقتور تھے۔ پس جن لوگوں کا ایمان اسلام کی کمزوری کے وقت پہاڑ جیسا ہو تو پھر ان کے ایمان کے بارے میں اسلام کے غالب ہونے اور پھیل جانے کے بعد کیا تصور کیا جا سکتا ہے؟

جہاں تک شہوت کا تعلق ہے تو یہ شہوت خواہ حکومت کی ہو یا مال کی یا نکاح کی یا اس طرح کی دوسری چیز۔ تو اسلام کے شروع میں یہ امور اتباع کے زیادہ لائق تھے جب یہ لوگ اپنے گھر بار اور اموال چھوڑ کر اور اپنے جاہ و مرتبہ کو ٹھوکر مار اپنی رضامندی سے بغیر کسی جبرو اکراہ کے اللہ اور اس کے رسول کی محبت میں نکل کھڑے ہوئے تو پھر ان کے بارے میں یہ کیسے تصور کیا جاسکتا ہے کہ یہ لوگ مال وہ جاہ کی وجہ سے اللہ اور اس کے رسول سے دشمنی رکھتے تھے۔پھر یہ لوگ دشمن رکھنے پر قدرت رکھنے کی صورت میں ؛ اس کے باوجود دشمن کے مقتضیات اور اسباب موجود تھے؛ مگر انہوں نے اللہ اور اس کے رسول سے دشمنی نہیں کی۔ بلکہ یہ لوگ اللہ اور اس کے رسول سے دوست رکھتے تھے۔ اور اللہ اور اس کے رسول سے دشمن رکھنے والوں سے دشمن رکھتے تھے۔ پس جب اللہ تعالیٰ سے دوستی کے اسباب و مقتضیات مضبوط ہوگئے اور دشمنی رکھنے پر قدرت کے اسباب و امکانیات کمزور پڑگئے تو اب اس کا الٹ کریں گے۔ کیا ایسا گمان بھی کوئی انسان کرسکتا ہے سوائے اس کے جو پرلے درجے کا گمراہ ہو۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ جب فعل کے ساتھ کمال قدرت اور کمال ارادہ بھی موجود ہو تو اس فعل کا حاصل ہونا واجب ہوجاتا ہے۔ شروع اسلام میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دشمنی کے ارادہ کے اسباب و تقاضے زیادہ قوی تھے۔ اس لیے کہ اس وقت میں آپ کے دشمن بہت زیادہ تھے اور آپ کے دوست و مدد گار بہت کم تھے۔ اور آپ کے دین کو غلبہ بھی حاصل نہیں تھااور اس وقت آپ کے ساتھ دشمنی کے امکانیات بہت قوی تھے۔ حتی کہ کوئی بھی انسان اپنی زبان سے یا ہاتھ سے تکلیف دینا چاہتا تو وہ براہ راست ایسا کرسکتا تھا۔ لیکن جب اسلام کی نشرو اشاعت ہوئی ۔ دشمنی کے تقاضے کمزور ہوگئے۔ اور دشمنی پر قدرت اور امکان بھی کمزور پڑ گیا۔اور یہ بات تو معلوم شدہ ہے کہ جس نے شروع میں دشمن ترک کی ہو؛ اور پھر بعد میں دشمنی کرنے لگ جائے تو ایسا صرف اس کے ارادہ اور امکان و قدرت میں تبدیلی کی وجہ سے ہوا ہوگا۔ اوریہ بات معلوم شدہ ہے کہ شروع شروع میں دشمنی پر قدرت زیادہ قوی ہوسکتی تھی۔ اوراس وقت دشمن کے ارادہ کے موجبات بھی زیادہ اور اولی تھے۔ اور ان کے پاس کوئی ایسی نئی چیز بھی نہیں آئی جو ان کے ارادہ اور قدرت کی تبدیلی کو واجب کردے۔ تو اس سے معلوم ہوا کہ ان لوگوں کے ارادہ میں کوئی تبدیلی نہیں آئی جو ان کے لیے دین سے ارتداد کو واجب کرتی ہو۔ اور جو لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی موت کے بعد مرتد ہوئے وہ وہ لوگ تھے جو تلوا رکے خوف سے مسلمان ہوگئے تھے جیسے مسیلمہ کذاب کے ساتھی اوراہل نجد وغیرہ۔ جب کہ مہاجرین جو کہ اپنی خوشی اوررضامندی سے مسلمان ہوئے تھے ان میں سے کوئی ایک بھی مرتد نہیں ہوا۔ وللّٰہ الحمد۔

اہل مکہ جو کہ فتح مکہ کے بعد مسلمان ہوئے تھے؛ ان میں سے ایک گروہ نے مرتد ہونے کاارادہ کر لیا تھا؛ مگر اللہ تعالیٰ نے حضرت سہیل بن عمرو کی وجہ سے انہیں ثابت قدم رکھا۔اہل طائف جن کا محاصرہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے بعد کیا تھا۔ جب انہوں نے اسلام کو غالب ہوتے دیکھا تو وہ بھی مغلوبیت میں مسلمان ہوگئے۔ انہوں نے بھی مرتد ہونے کا ارادہ کیا تھا۔ مگر اللہ تعالیٰ ینے حضرت عثمان بن ابی العاص کے ذریعہ سے انہیں بھی اسلام پر ثابت قدم رکھا۔

جب کہ اہل مدینہ نبویہ کے بارے میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ انہوں نے اپنی خوشی سے اسلام قبول کیا۔ اور ان میں مہاجرین بھی تھے اور انصار بھی۔ اور یہ تو وہ لوگ تھے جنہوں نے اسلام کی خاطر لوگوں سے جنگیں لڑیں ۔ یہ وجہ ہے کہ اہل مدینہ میں سے کوئی ایک بھی مرتد نہیں ہوا۔ بلکہ ان میں سے غالب لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد کمزور پڑ گئے تھے اور ان کے دلوں میں جہاد فی سبیل اللہ کے بارے میں کچھ کمزوری آگئی تھی۔ مگر اللہ تعالیٰ نے ان کو ثابت قدمی دی۔ اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ذریعہ ان کو قوت بخشی۔ اور لوگ اسی ایمان و یقین اور جہاد مع الکفار پر لوٹ آئے۔ پس تمام تر تعریفات اللہ تعالیٰ کی ذات کے لیے ہیں جس نے اسلام اور اہل اسلام پر صدیق امت کے ذریعہ احسان فرمایا۔ وہ صدیق جن کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کی زندگی میں بھی اس دین کی تائید فرمائی اور آپ کی وفات کے بعد بھی اس دین کی حفاظت فرمائی۔ اللہ تعالیٰ آپ کو اسلام اور اہل اسلام کی طرف سے بہترین بدلہ دیں ۔ آمین۔


صفحہ 12 از 12